Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / جیویلرس کی 42 روزہ ہڑتال موخر

جیویلرس کی 42 روزہ ہڑتال موخر

مطالبات کی عدم یکسوئی پر دوبارہ احتجاج کا انتباہ
نئی دہلی ۔ 13 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : قومی دارالحکومت دہلی میں جیویلرس نے آج ایک فیصد اکسائز ڈیوٹی کی تجویز کے خلاف گذشتہ 42 یوم سے جاری ہڑتال سے عارضی طور پر دستبرداری اختیار کرلی ہے اور بتایا کہ حکومت نے یہ تیقن دیا ہے کہ اکسائز حکام انہیں ہراساں نہیں کریں گے جس کے بعد 12 یوم کے لیے احتجاج کو موخر کردیا گیا ۔ نائب صدر آل انڈیا صرافہ اسوسی ایشن مسز سریندر کمار جین نے بتایا کہ حکومت کے تیقن پر 24 اپریل تک ہڑتال ملتوی کردینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

راجستھان اور مہاراشٹرا کے جیویلرس نے بھی کل ہڑتال ملتوی کردینے کا اعلان کیا تھا ۔ واضح رہے کہ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے نئے بجٹ میں طلائی زیورات پر ایک فیصد اکسائز ڈیوٹی نافذ کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس کے خلاف ملک گیر سطح پر جیویلرس نے 2 مارچ سے غیر معینہ ہڑتال شروع کردی تھی ۔ صدر بلین اینڈ جیویلرس اسوسی ایشن مسٹر رام اوتار شرما نے حکومت کو خبردار کیا کہ اکسائز ڈیوٹی سے دستبرداری کے مطالبہ کو قبول نہیں کیا گیا تو 25 اپریل سے دوبارہ ہڑتال شروع کردی جائے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ 42 دنوں سے جاری ہڑتال کے باعث جیمس اینڈ جیویلرس انڈسٹری کو ایک لاکھ کروڑ کا نقصان اٹھانا پڑا اور ملک بھر میں 300 سے زائد اسوسی ایشن سے وابستہ 3لاکھ جیویلرس نے 2 مارچ سے اپنے ادارے ( شورومس اور ورک شاپس ) بند رکھے تھے ۔ علاوہ ازیں جیویلرس کو 2 لاکھ یا اس سے زائد مالیت کے زیورات کی خریداری پر کسٹمر کے پیان کارڈ کا حوالہ دینے کی شرط پر بھی اعتراض ہے ۔ مرکزی حکومت نے جیویلرس کے مطالبات کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین معاشیات پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو کہ 2 ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی ۔

سبری ملائی مندر میں خواتین کے داخلہ کو روکا نہیں جاسکتا : سپریم کورٹ
نئی دہلی۔13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کہا کہ کیرالا کے تاریخی سبری ملائی مندر میں خواتین کو داخلے کے حق سے محض ان روایات کی بنیاد پر روکا نہیں جاسکتا جو دستوری اُصولوں کے مغائر ہیں۔ جسٹس دیپک مشرا کے زیرقیادت تین رکنی بینچ نے کہا کہ مندر میں داخلے کے حق سے خواتین کو محروم نہیں کیا جاسکتا۔

TOPPOPULARRECENT