Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / جیٹلی کے خلاف پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے احتجاج میں کیرتی آزاد بھی شامل

جیٹلی کے خلاف پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے احتجاج میں کیرتی آزاد بھی شامل

نئی دہلی۔21ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی ڈسٹرک کرکٹ اسوسی ایشن ( ڈی ڈی سی اے) میں مبینہ مالیاتی بدعنوانیوں کے مسئلہ پر طوفانی بحث اور ہنگامہ آرائی کے نتیجہ میں آج پارلیمنٹ دہل گیا ۔ بی جے پی کے رکن لوک سبھا کیرتی آزاد بھی مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی کے خلاف احتجاج میں اپوزیشن کانگریس کے ساتھ شامل ہوگئے جس کے نتیجہ میں حکمراں جماعت کو سخت الجھن اور پشیمانی کا سامنا کرنا پڑا ۔ کیرتی آزاد نے جیٹلی کے خلاف الزامات کی پابند وقت ایس آئی ٹی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ۔ کانگریس نے جیٹلی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ‘ تاہم وزیر فینانس نے اپنے خلاف رقمی اُلٹ پھیر کے الزامات کو غلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور حکومت نے ارون جیٹلی کے استعفیٰ کے مطالبہ کو صاف طور پر مسترد کردیا ۔ مملکتی وزیر پارلیمانی اُمور مختار عباس نقوی نے راجیہ سبھا میں اس مسئلہ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’ کوئی بھی استعفیٰ نہیں دے گا ‘‘ ۔ اس موقع پر کانگریس کے ارکان جیٹلی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے جس کے نتیجہ میں ایوان بالا کی کارروائی کو دو مرتبہ ملتوی کرنا پڑا ۔ کانگریس کے ارکان نے اپنی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کی قیادت میں لوک سبھا سے واک آؤٹ کیا ۔ ارون جیٹلی پر سخت تنقیدوں کیلئے معروف سابق کرکٹر اور بی جے پی کے رکن کیرتی آزاد بھی کانگریس کے احتجاجی ارکان کے ساتھ ہوگئے اور وزیر فینانس کے خلاف عائد الزامات کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ۔ اس دوران وزیرپارلیمانی اُمور ینکیا نائیڈو نے جیٹلی کے استعفیٰ کے مطالبہ کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا اور کہا کہ ارون جیٹلی کسی شک و شبہ سے بالاتر انتہائی صاف ستھرہ کردہ کے حامل ہیں اور عوامی زندگی میں غیر معمولی دیانتداری کے ساتھ اعلیٰ معیار کے پابند ہیں ۔  جیٹلی نے کہا کہ ’’ میرے خلاف تمام الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں ‘ بس مجھے اتنا ہی کہنا ہے ‘‘ ۔سنگین دھوکہ دہی کے تحقیقاتی دفتر ( ایس ایف آئی او) نے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈس پر جاری کاموں کی تفصیلی کھاتے پیش کرتے ہوئے کہا کہ مصارف اورقبول شدہ قیمت میں کوئی غلطی نہیں پائی گئی لیکن کیرتی آزاد اس ادعا سے مطمئن نہیں ہوئے اور کہا کہ یہ صرف سیول ( دیوانی) معاملہ ہے جبکہ سی بی آئی نے حال ہی میں ڈی ڈی سی اے کو نوٹس جاری کی ہے ۔ کانگریس کے رکن کے سی وینو گوپال نے لوک سبھا میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا ۔ انہوں نے ڈی ڈی سی اے میں اس وقت سنگین بدعنوانیوں کا دعویٰ کیا جب ارون جیٹلی اس کے سربراہ تھے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ پر تعمیرات کیلئے 24کروڑ روپئے کے تخمینہ کے برخلاف 14کروڑ روپئے کے مصارف عائد ہوئے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT