Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / جیہ للیتا اور سلمان خان مقدمات سے عدلیہ کی بدنامی کا اعتراف

جیہ للیتا اور سلمان خان مقدمات سے عدلیہ کی بدنامی کا اعتراف

’چیف منسٹر ٹاملناڈو کو 14سال بعد جرم کی مرتکب قرار دیا گیا اور فوراً ضمانت بھی مل گئی‘ : جسٹس ہیگڈے
حیدرآباد ۔ 13جون ( پی ٹی آئی ) سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سنتوش ہیگڈے نے کہا ہے کہ ٹاملناڈو کی چیف منسٹر جیہ للیتا اور بالی ووڈ اداکار سلمان خان سے متعلق مقدمات ایسی مثالیں ہیں جنہیں عدالتوں کی جانب سے ضمانت کی منظوری اور ترجیحی بنیاد پر مقدمات کی سماعت سے عدلیہ کی نیک نامی متاثرہوئی ہے ۔ جسٹس ہیگڈے نے جو سابق سالسیٹر جنرل آف انڈیا بھی ہیں کہا کہ ان دو عدالتی فیصلوں سے یہ غلط پیغام گیا ہے کہ دولت مند اور بااثر افراد کو جلد ضمانت مل سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی عوام کی اس رائے اور نظریہ سے پوری طرح متفق ہیں کہ دولتمند اور بااثر افراد قانون کے شکنجہ سے بچ نکل جاتے ہیں ۔ ہیگڈے نے جو کرناٹک کے سابق لوک آیوکت بھی ہیں مزید کہا کہ’’ میں مختلف فورموں سے کہتا رہا ہوں کہ ’’ دو واقعات ایسی مثالیں ہیں جن سے عدلیہ کی بدنامی و رسوائی ہوئی ہے ایک ہے جیہ للیتا ( غیر متناسب اثاثوں کا مقدمہ ) جس میں وہ 14سال بعد جرم کی مرتکب قرار دی گئیں اور کرناٹک ہائیکورٹ نے ان ( جیہ للیتا) کی اپیل قبول کرلیا لیکن ضمانت نہیں دی اور وہ سپریم کورٹ چلی گئیں جہاں انہیں ( جیہ للیتا کو) نہ صرف ( چند دن میں) ضمانت بھی مل گئیں ۔ میں ضمانت کی منظوری کی مخالفت نہیں کررہا ہوں بلکہ ہائی کورٹ کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ اس مقدمہ کی اندرون تین ماہ یکسوئی کردی جائے ‘‘ ۔ انہوں نے کہاکہ اس کے برخلاف سینکڑوں افراد ایسے ہیں جو ضمانت نہ ملنے کی وجہ جیلوں میں پڑے ہیں اور ان کی درخواست ضمانت پر چار یا پانچ سال بعد سماعت کی جاتی ہے ۔ جسٹس ہیگڈے نے کہا کہ ’’ ایسا ہی مقدمہ سلمان خان کا بھی ہے اور وہ بھی 14سال کی مقدمہ بازی کے بعد تحت کی عدالت میں مجرم پائے گئے جس کے صرف ایک گھنٹہ بعد ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کردی ۔ ٹھیک ہے ضمانت منظور کرنا غلط نہیں ہے اور ( جج نے) دو ماہ میں سماعت مکمل کرلی ۔ دونوں ہی مقدمات ( جیہ للیتا اور سلمان خان ) کی سماعت کرنے والے ججس سبکدوش ہونے والے تھے ۔ ہیگڈے نے کہا کہ عدالتوں کو صرف اُس صورت میں ہی کسی مخصوص مقدمہ پر فی الفور سماعت کی ضرورتہوتی ہے جب ایک شخص کو کل ہی پھانسی پر چڑھایا جارہا ہے یا پھر کسی طالب علم کو ہال ٹکٹ حاصل نہیں ہوا ہے اور دوسرے ہی دن اس کا امتحان مقرر ہوتاہے ۔ ہیگڈے نے سوال کیا کہ ’’ لیکن جیہ للیتا یا سلمان خان کے مقدمات میں ایسی جلدی یا عجلت کی ضرورت کہاں سے آگئی ‘یہ محض اس لئے ہوا کہ وہ دولتمند اور بااثر تھے ۔ انہوں نے جلد ضمانت حاصل کرلی اور مقررہ تواریخ کو نظرانداز نہ کرنے پہلے ہی ان کے مقدمات کی سماعت ہوگئی ۔ میں ایسی مثالوں کا سخت مخالف ہوں اور ان کی مذزت کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ لوگ ان مقدمات پر یہ سوالات کرنے لگے ہیں ہمیں یہ بتائیں کہ ان دونوں مقدمات میں آخر ایسی کیا اہمیت تھی کہ آپ نے مقررہ جدول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کی سماعت کی ۔ اس سے یہ غلط پیغام گیا ہے کہ دولتمند اور بااثر افراد کا راستہ عام آدمیوں سے الگ اور مختلف ہے ‘‘ ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT