Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / جی او 123 پر تلنگانہ حکومت کو راحت

جی او 123 پر تلنگانہ حکومت کو راحت

واحد بنچ کے فیصلہ پر حیدرآباد ہائی کورٹ کا حکم التواء
حیدرآباد ۔ 9۔ اگست (سیاست  نیوز) ہائی کورٹ کے ڈیویژن بنچ نے جی او 123 کو کالعدم قرار دینے سنگل جج کے فیصلے پر حکم التواء جاری کیا ہے۔ اس طرح تلنگانہ حکومت کو آج بڑی راحت ملی ہے۔ آبپاشی پراجکٹس اور دیگر پراجکٹس کیلئے اراضی کے حصول کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت نے جی او 123 جاری کیا تھا جس کے مطابق کسانوں کو معاوضہ ادا کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی۔ اس جی او کے خلاف بعض زرعی مزدور ہائیکورٹ سے رجوع ہوئے تھے جس پر گزشتہ ہفتہ سنگل جج نے جی او 123 کو کالعدم کردیا۔ سنگل جج کے فیصلہ کے خلاف حکومت نے ڈیویژن بنچ پر درخواست داخل کی۔ ڈیویژن بنچ نے آج مقدمہ کی سماعت کی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے وضاحت کی کہ کسانوں کی بھلائی میں جی او جاری کیا گیا ہے اور جی او کے تحت مناسب معاوضہ کی گنجائش موجود ہے۔ ڈیویژن بنچ نے سنگل جج کے فیصلہ پر حکم التواء جاری کرتے ہوئے مقدمہ کی آئندہ سماعت جمعرات کو مقرر کی ہے ۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ وہ تمام تفصیلات پیش کرے تاکہ جی او میں کی گئی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے عدالت کو فیصلہ کرنے میں مدد ملے۔ اسی دوران وزیر انیمل ہسبینڈری سرینواس یادو نے ہائیکورٹ کے حکم التواء کو اپوزیشن کے منہ پر طمانچہ قرار دیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سرینواس یادو نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جی او 123 جاری کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ ملنا ساگر اور دیگر پراجکٹس کیلئے حکومت اراضی کے حصول کے اقدامات کر رہی ہیں جس کیلئے کسانوں کو مناسب معاوضہ ادا کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے اپوزیشن پر پراجکٹس کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا  یہ اقدام انتہائی شرمناک ہے۔ اپوزیشن جماعتیں دراصل تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرر ہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT