Sunday , October 22 2017
Home / اداریہ / جی ایس ٹی اور معیشت

جی ایس ٹی اور معیشت

ہیں ہماری ہی طرح وہ بھی پریشان شائد
اب نظر آتا نہیں خوابِ پریشاں کوئی
جی ایس ٹی اور معیشت
مرکز کی نریندر مودی زیرقیادت بی جے پی حکومت نے معاشی اصلاحات کے نام پر گذشتہ 3 ماہ قبل گڈس اینڈ سرویس ٹیکس کا نفاذ عمل میں لاکر شہریوں پر ٹیکس کا بوجھ عائد کردیا تھا۔ تاجروں، صنعتکاروں اور چھوٹے و متوسط کاروبار کرنے والوں کو مختلف طریقوں سے پریشان کیا گیا تھا۔ صرف 90 دن کے اندر ہی حکومت کے خلاف ملک بھر میں ناراضگی اور معاشی انحطاط میں اضافہ ہونے لگا۔ ووٹ مفادات میں خسارہ کو محسوس کرتے ہوئے جی ایس ٹی کونسل کے ذریعہ حکومت نے تقریباً 27 اشیاء پر سے ٹیکس کٹوتی کا اعلان کیا۔ حکومت کو اس کے مشیر اپنی رائے کے ذریعہ جو نقصانات پہنچاتے ہیں اس سے بچاؤ کا طریقہ یہ نکالا گیا کہ جی ایس ٹی کی بیشتر شرحوں میں کمی کی جائے۔ لہٰذا جن اشیاء پر 18 فیصد جی ایس ٹی تھا، ان میں سے بعض اشیاء پر 12 فیصد جی ایس ٹی عائد کی گئی جہاں 12 فیصد جی ایس ٹی نافذ تھی وہاں 5 فیصد کردی گئی۔ 28 فیصد کو 18 فیصد سے تبدیل کردیا گیا۔ اسی طرح ہندسوں کا کھیل ہندوستانی عوام، چھوٹے تاجروں اور متوسط بیوپاریوں کیلئے ایک بار پھر آنکھ مچولی کا باعث بن گیا۔ گڈس اینڈ سرویس ٹیکس کے ذریعہ حکومت نے ملک کی 29 ریاستوں کو ایک مارکٹ میں تبدیل کردیا تھا لیکن جب بات ووٹوں کے مفادات کی آتی ہے تو سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ عوام کو اچھے دن کا لالچ دے کر ٹیکس بوجھ کے تحت دبانے والی حکومت خود ناکام فیصلوں کے بوجھ تلے دب کر جی ایس ٹی شرحوں پر نظرثانی کیلئے مجبور ہوگئی۔ سوال یہ ہیکہ آیا حکومت اپنے نظریاتی شرحوں کے بعد مارکٹ کے نبض کو ٹٹولنے میں کامیاب ہوسکے گی کیونکہ جب مارکٹ میں ایک مرتبہ کسی شرح ٹیکس کا نفاذ ہوتا ہے تو اس میں بیشتر مقامات پر کمی نہیں کی جاتی۔ عام آدمی کو اس طرح کی تبدیلیوں کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہوتا جس کے نتیجہ میں چالاک تاجر ہر اشیاء پر جی ایس ٹی کی ابتدائی شرحوں کو نافذ کرکے ٹھگ لیتے ہیں۔ حکومت کو جب کوئی معاشی منصوبوں پر عمل کرنے کا خیال آتا ہے تو اسے غوروخوض کے ساتھ اپنی پالیسیوں کو نافذ کرنا چاہئے۔ جی ایس ٹی کے حوالے سے مودی حکومت نے جس طرح کی من مانی کی تھی اس کا غریب عوام پر منفی اثر پڑا۔ حکومت کو اپنے مفادات خطرے میں نظر آنے لگے۔ عوام کو شکار بنانے والی حکومت جی ایس ٹی کی سختیوں کی وجہ سے آنے والے انتخابات میں خود شکار ہونے جارہی ہے۔ عوام کو اب تک جو کچھ سمجھ آئی ہے اس تناظر میں حکومت کی ساکھ کو دھکہ پہنچ سکتا ہے۔ مودی حکومت کو جس نے جو بڑے بڑے دعوے کئے تھے، اب معذرت خواہانہ انداز میں جی ایس ٹی شرحوں کو واپس لینے کیلئے مجبور ہونا پڑا۔ حکومت ایک ایسی خفت کا شکار ہوچکی ہے کہ جی ایس ٹی کونسل کے اجلاسوں کے ذریعہ اس خفت کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ غلطیوں کو سدھارنے کا اقدام اس لئے کیا گیا ہے تاکہ بی جے پی کو آنے والے دنوں میں ریاستی اسمبلی انتخابات میں عوامی ناراضگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ گڈس اینڈ سرویس ٹیکس GST کو گڈ اینڈ سمپل ٹیکس میں تبدیل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے جی ایس ٹی کونسل کی سفارشات کے ذریعہ عوام کو راحت پہنچائی جارہی ہے۔ جی ایس ٹی کو گڈ اینڈ سمپل ٹیکس کا نام دیا گیا۔ جامع اسکیم کو مزید پرکشش اور دیگر سہولیات کے ساتھ اقدامات کرنے کا اعلان کیا گیا۔ جی ایس ٹی کو عوام دوست بنانے کی کوشش کرتے ہوئے مودی حکومت نے ایک طرح سے دیوالی کا تحفہ بھی قراردیا ہے۔ ہندوستانی معیشت کو تباہ کردینے والی پالیسیوں کے بعد دیوالی کا تحفہ قرار دیا جانا افسوسناک بات ہے۔ حکومت بظاہر ہندوستانی معیشت میں بہتری کا دعویٰ کرتی رہی ہے اگر واقعی یہ دعویٰ درست ہوتا تو جی ایس ٹی شرحوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جی ایس ٹی پر عمل آوری کے بعد سے گذشتہ 3 ماہ کے دوران عوام نے دیکھا ہیکہ ان کے ساتھ کیا کچھ ہورہا ہے۔ ٹیکس ریٹرنس داخل کرنے میں انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیکنیکل طور پر بھی مسائل ہی پیدا ہوئے۔ نوٹ بندی جیسے سخت فیصلہ کے بعد معیشت کو بہتر بنانے میں حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ اب اس طرح جی ایس ٹی کونسل کے ذریعہ کچھ راحت کے اقدامات کرنے سے ملک کو معاشی سطح پر مستحکم بنانے میں حکومت کو کامیابی ملے گی یہ وقت ہی بتائے گا۔
کے سی آر اور اپوزیشن پارٹیاں
چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کیلئے سنگارینی کالریز یونین انتخابات میں پارٹی حمایت والی یونین تلنگانہ بوگوگامی کارمیکا سنگھم (TBGKS) کی کامیابی ایک سیاسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ حالیہ دنوں میں اپوزیشن نے ٹی آر ایس حکومت کی ناکامیوں کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے خاص کر بی جے پی اور کانگریس نے ٹی آر ایس کی خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنے سیاسی عزائم کو پورا کرنے کی کوشش کا آغاز کیا تھا۔ سنگارینی کالریز یونین انتخابات کو ٹی آر ایس کیلئے وقار کا مسئلہ سمجھ کر پارٹی قائدین نے زبردست انتخابی مہم شروع کی تھی، جس کے ثمرات سے وہ آئندہ 2019ء کے انتخابات میں مستفید ہوسکتی ہیں۔ اس کامیابی نے چیف منسٹر کے سی آر کو اپوزیشن کے خلاف اظہارخیال کا موقع فراہم کیا ہے۔ اپوزیشن کو خاص کر بی جے پی کو ان انتخابات میں بری طرح ناکامی ہوئی ہے۔ تلنگانہ کا سیکولر رائے دہندہ نہیں چاہتا ہیکہ اس بات میں ایک فرقہ پرست پارٹی کو سیاسی طاقت حاصل ہوجائے۔ یونین انتخابات میں بی جے پی کو صرف 240 ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ ایسے میں وہ تلنگانہ کے اندر ٹی آر ایس کا متبادل ہوسکے گی۔ یہ کہنا مشل ہے چیف منسٹر نے بی جے پی کی ناکامی کو اپنی پارٹی کیلئے فال نیک سمجھا ہے لیکن انہیں لگاتار کامیابیوں کے خمار میں اپوزیشن کو کمزور نہیں سمجھنا چاہئے۔ غالباً سیاسی فطرت ہوتی ہیکہ ہر کامیابی کے بعد مدمقابل کو تنقیدوں کا ہار پہنا کر مسرت کا اظہار کیا جاتا ہے اس میں وہ غوروفکر کی اور بہتر حکمرانی کے جذبہ سے محروم ہونے لگتا ہے کے سی آر کو اب پہلے سے زیادہ غوروفکر اور تدبر کی نگاہیں کھلی رکھنی ہوں گی۔ اپوزیشن کو بھی سبق سیکھنے کا موقع ملا ہے تو اسے اب اپنا اعمال نامہ مزید خراب ہونے سے بچانا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT