Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / جی ایس ٹی بل کی راجیہ سبھا میں پیشکشی ، کانگریس کی تائید

جی ایس ٹی بل کی راجیہ سبھا میں پیشکشی ، کانگریس کی تائید

آزاد ہند کی تاریخ میں ٹیکس اصلاحات کی سمت غیرمعمولی قدم ، اتفاق رائے سے مسودہ قانون کو قطعیت ، ارون جیٹلی کا بیان

نئی دہلی۔3 اگست (سیاست ڈاٹ کام) دستوری ترمیم کیلئے ایک طویل عرصہ سے تصفیہ طلب و تاخیر پذیر گڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس (جی ایس ٹی) مسودہ قانون بالآخر چند تبدیلیوں کے ساتھ راجیہ سبھا میں آج پیش کردیا گیا ہے۔ اصل اپوزیشن جماعت کانگریس کے علاوہ بجز انا ڈی ایم کے تقریباً تمام دوسری جماعتوں نے بعض شرائط کے ساتھ تائید کی ہے۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے دستوری (122 ویں ترمیمی) بل 2014ء کو آج ایوان میں پیش کیا جس کا اکثر ارکان نے میز تھپتھپاتے ہوئے خیرمقدم کیا۔ جیٹلی نے کہا کہ یہ ٹیکس اصلاحات کیلئے ہندوستان کی تاریخ کا ایک غیرمعمولی طور پر نمایاں اہمیت کا حامل بل ہے جو مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ وسیع تر اتفاق رائے کے ذریعہ پیش کیا گیا ہے۔ کانگریس کے علاوہ سماج وادی پارٹی، جے ڈی (یو) اور ترنمول کانگریس جیسی اکثر جماعتوں نے اس بل کی تائید کی ہے لیکن جیہ للیتا کی انا ڈی ایم کے نے اس کی مخالفت کی ہے۔ جیٹلی نے بل کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ جی ایس ٹی اپنی وفاقی شکل میں بہترین اقتصادی اصلاحات متعارف کرے گا‘‘۔ جیٹلی نے کہا کہ ’’جانبدارانہ طرز فکر کی بنیاد پر ایسی قانون سازی نہیں کی جاسکتی۔ مرکز اور ریاستوں پر اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ سیاسی اتفاق رائے کیلئے ہم منظم انداز میں کام کئے ہیں جہاں تک بل کے مواد اور زبان و بیان کا تعلق ہے، یہ اگرچہ پوری طرح متفقہ نہیں بھی ہے تو اس میں بڑی حد تک اتفاق رائے موجود ہے‘‘۔ سابق وزیر فینانس پی چدمبرم نے کانگریس کی طرف سے اس بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی جی ایس ٹی نظریہ اور اس بل کی بھی تائید کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے بشمول مختلف جماعتوں سے حکومت کی بات چیت کے بعد اس میں بہتری پیدا ہوئی ہے۔ چدمبرم نے کہا کہ ’’کانگریس پارٹی کبھی بھی جی ایس ٹی کی مخالف نہیں رہی۔ اب ملک میں اس بل کے نفاذ کیلئے تیار ہوچکا ہے‘‘۔ چدمبرم نے کہا کہ ’’ہم مزید بہتر بل چاہتے تھے لیکن کوئی بھی بل پوری طرح کامل نہیں ہوسکتی‘‘۔

 

جی ایس ٹی ایک حقیقت : کیا ہوگا سستا ، کیا ہوگا مہنگا
تاریخی گڈس اینڈ سرویس ٹیکس (جی ایس ٹی) بل راجیہ سبھا میں منظوری کی صورت میں بہت جلد ایک حقیقت میں تبدیل ہوجائے گا۔ اس کلیدی قانون سازی کو آزاد ہند کی تاریخ میں اب تک کی سب سے بڑی ٹیکس اصلاحات کے طور پر دیکھا جارہا ہے جس کی رو سے ایک مل، ایک ٹیکس کا نظام ملک کی تمام 29 ریاستوں کو واحد مارکٹ میں تبدیل کردے گا۔ جی ایس ٹی، پارلیمنٹ کی منظوری اور 50% سے زائد ریاستی اسمبلیوں کی توثیق کے بعد یکم اپریل 2017ء سے نافذ ہوجائے گا۔ ماہرین معاشیات کے مطابق اس قانون سازی سے ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں 2% اضافہ ہوگا۔ جی ایس ٹی قانون سازی کی منظوری کی صورت میں اشیاء کی تیاری سستی ہوجائے گی۔ چنانچہ کئی مینوفیکچرنگ اشیاء کی قیمتوں میں بھاری کمی ہوئی تو دوسری طرف سرویسیس (خدمات) مہنگی ہوجائیں گی۔
کارس ، موٹر سائیکل ، پینٹس ، سیمنٹ ، سستے ہوں گے
٭ آٹو موبائیلس : کاروں ، موٹر سائیکلوں اور ایس یو وی کی قیمتوں میں کمی ہوگی
٭ کار بیٹریز سستی ہوں گی
٭  برقی پنکھوں ، لائیٹس ، پانی گرم کرنے کے ہیٹرس ، ایرکولرس وغیرہ سستے ہوں گے
٭  پینٹس ، سمنٹ کی قیمتیں گریں گی ۔
سگریٹ، موبائل ، پارچہ اور جیویلری ہوں گے مہنگے
٭    تمباکو پر جی ٹی ایس میں اضافہ کے سبب
سگریٹس ہوں گے مہنگے
٭  سرویس ٹیکس میں
اضافہ سے موبائل فون کی قیمتیں بڑھیں گی
٭  ٹیکسٹائل اور برینڈیڈ جیویلری بھی مہنگے ہوجائیں گے
٭ یکم اپریل 2017ء سے سارے ملک میں
جی ایس ٹی کا نفاذ
٭  تمام 29 ریاستیں واحد مارکٹ میں تبدیل ہوجائیں گی

 

 

راجیہ سبھا میں جی ایس ٹی بل منظور
برسراقتدار او راپوزیشن میں بے مثال ہم آہنگی کا مظاہرہ
نئی دہلی ۔ 3 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) اہم اپوزیشن کانگریس اور بیشتر دیگر پارٹیوں نے آج رات راجیہ سبھا میں جی ایس ٹی بل کو منظوری دے دی اور اس کیلئے دستور میں ترمیم سے اتفاق کرلیا جبکہ مرکزی حکومت نے تیقن دیا کہ ٹیکس کی شرحیں ممکنہ حد تک کم رکھی جائیں گی۔ دستور میں 122 ویں ترمیم کا بل ایوان بالا میں منظور کردیا گیا جس کی تائید میں 203 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا۔ 7 گھنٹے کے مباحث کے دوران بے مثال ہم آہنگی دیکھی گئی جبکہ برسراقتدار اور اپوزیشن پارٹیوں نے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار کیا۔ چھ سرکاری ترمیمات بشمول ایک فیصد اضافہ ٹیکس سے دستبرداری جس کا اعلان حکومت نے کیا ہے، متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ یہ بل قبل ازیں لوک سبھا میں منظور کیا جاچکا ہے۔ اب اسے ایوان زیریں روانہ کیا گیا تھا تاکہ راجیہ سبھا سے ترمیمات درج کرنے کی منظوری حاصل کی جاسکے۔ یہ بل تمام ریاستی اسمبلیوں کی 50 فیصد تعداد میں پہلے ہی منظور کرلیا ہے۔ مباحث کا جواب دیتے ہوئے جس کے دوران بیشتر پارٹیاں موجود تھیں، مرکزی وزیرفینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ اس بل کا رہنمایانہ وصول شرحوں کو ممکنہ حد تک کم سے کم رکھنا ہے۔ یقینی طور پر یہ موجودہ شرح سے کم ہوں گی۔ اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے اس بل کی دو سال سے زیادہ مدت سے مخالفت کی تھی جب حکومت نے بل میں چھ تبدیلیاں کیں تو اپوزیشن کانگریس بھی اس بل کی منظوری کی تائید میں آگئی۔ حکومت نے تیقن دیا کہ ایک فیصد پیداواری ٹیکس برخاست کردیا جائے گا اور ایسی واضح دفعات شامل کی جائیں گی جس سے ریاستوں کو 5 سال تک مالی خسارہ کی پابجائی کا تیقن دیا جائے گا۔ جی ایس ٹی بل پر مباحث کے دوران بیشتر پارٹیوں نے جی ایس ٹی ٹیکس کی حد 18 فیصد مقرر کرنے پر زور دیا۔

TOPPOPULARRECENT