Sunday , October 22 2017
Home / ہندوستان / جی ایس ٹی سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی:آر بی آئی

جی ایس ٹی سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی:آر بی آئی

نئی دہلی، 14 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ریزرو بینک (آر بی آئی) نے یکم جولائی سے نافذ ہونے والے گڈس اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) سے سرمایہ کاری کو فروغ ملنے اور مالیاتی مضبوطی جیسے فوائد گناتے ہوئے اگلے ایک سے ڈیڑھ سال کے لئے خوردہ مہنگائی بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے ۔مرکزی بینک کی طرف سے جاری رپورٹ ”اسٹیٹ فائنانسز: اے اسٹڈی آف بجٹس آف 17-2016″ میں کہا گیا ہے ، ”ہندوستان کے موجودہ ٹیکس نظام میں سرمایہ کاری سے متعلق مصنوعات پر ایکسائز اور ویٹ (ویلیو ایڈیڈ ٹیکس) نافذ ہونے سے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے کیونکہ ان کے لئے کوئی اخراجات ٹیکس چھوٹ نہیں ملتی۔”رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر مینوفیکچرنگ کے شعبے کو سرمایہ سے متعلق مصنوعات کی خریداری پر ایکسائز کے لئے اخراجات کی چھوٹ نہیں ملتی۔ اسی طرح خدمت کے شعبہ کے لئے خریدی گئی سرمایہ کارانہ مصونوعات پر ریاستوں کے ویٹ میں کوئی لاگت ٹیکس کی چھوٹ نہیں ملتی۔آر بی آئی نے سبرمنیم کمیٹی کی سال 2015 کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ جی ایس ٹی سے سرمایہ کاری میں دو فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے جس سے ملک کی مجموعی گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی) میں 0.5 فیصد کا اضافہ ہوگا۔تاہم، دیگر جائزوں میں جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد جی ڈی پی میں 1.7 فیصد اور 3.1 سے 4.2 فیصد تک کے مزید اضافہ کی بات بھی کہی گئی ہے ۔مرکزی بینک کے مطالعہ کے مطابق، جی ایس ٹی نافذ ہونے سے عمل درآمدگی سے متعلق اخراجات میں کمی آئے گی، ٹیکس پر ٹیکس لگانے سے بچا جا سکے گا اور ٹیکس انتظامیہ میں شفافیت بڑھے گی۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ ہندوستان میں خدمت کا شعبہ کافی مضبوط ہے ، اس سے آنے والے وقت میں بڑی تبدیلی آئے گی۔جی ایس ٹی سے آمدنی ٹیکس بڑھے گا اور انتظامیہ عمل درآمدگی سے متعلق اخراجات میں کمی آئے گی لہذا جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعدمالیاتی سرمایہ کاری میں کمی کئے بغیر مالیات میں مضبوطی آئے گی۔مہنگائی پر جی ایس ٹی کے اثرات کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد ایک سے ڈیڑھ سال تک مہنگائی بڑھ سکتی ہے ۔ تاہم، فراہمی کا سلسلہ ہموار ہونے اور نقل و حمل اور پیداواری لاگت گھٹنے سے آہستہ آہستہ مہنگائی میں کمی آئے گی۔

TOPPOPULARRECENT