Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایس ٹی سے سونے کی تجارت ٹھپ ، فروخت میں بھاری گراوٹ

جی ایس ٹی سے سونے کی تجارت ٹھپ ، فروخت میں بھاری گراوٹ

صرافہ بازار کا مستقبل کو خطرہ ، خریدی پر گاہکوں کا آدھار سے گریز
حیدرآباد۔7جولائی (سیاست نیوز) جی ایس ٹی نے سونے کی تجارت کو 85فیصد تک ٹھپ کردیا ہے ‘ کرنسی تنسیخ کے فوری بعد سونے کی فروخت میں 55فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی اور ابھی اس سے سنبھل نہیں پائے تھے کہ جی ایس ٹی کے سبب مزید 30 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے جو کہ صرافہ بازار کے مستقبل کیلئے اچھی علامت نہیں ہے کیونکہ اب شادیوں کے موسم کے باوجود سونے کی خریدی کے رجحان میں دیکھی جانے والی کمی تاجرین کے لئے تشویش کا باعث بننے لگی ہے۔ جی ایس ٹی اور کرنسی تنسیخ سے پریشان تاجرین کا کہنا ہے کہ کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد حسب توقع عوام کے پاس دولت نہ رہنے کے سبب فروخت میں 55فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی لیکن اب جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد تو سونے کی دکان پر دن بھر میں ایک یا دو گاہک مشکل سے آرہے ہیں۔ حکومت نے سونے کو 3فیصد جی ایس ٹی کے زمرہ میں رکھا ہے لیکن کسٹمس ڈیوٹی 12فیصد اور میکنگ چارجس 18فیصد کے زمرے میں شامل ہونے کے سبب سونے کی قیمت میں کافی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جو کہ عوامی دسترس سے باہر تصور کیا جانے لگا ہے ۔ جوہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت ہند کی جانب سے سونے کو 3فیصد جی ایس ٹی میں شامل رکھا گیا ہے لیکن میکنگ چارجس پر 18فیصد جی ایس ٹی عائد کی جا رہی ہے اور کسٹمس ڈیوٹی 12فیصد میں شامل رکھ جانے سے قیمت میں کافی اضافہ ہوا ہے لیکن سونے کی بنیادی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن محصولات کے سبب بل زیادہ ہونے لگی ہے۔ جوہری جو صرافہ بازار کی موجودہ حالت سے انتہائی پریشان ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت کی جانب سے جی ایس ٹی سلاب میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاتی اس وقت تک صورتحال میں تبدیلی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ جوہری اسوسیشن کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ گاہکوں سے پیان کارڈ یا آدھار وصول کرنے کی شرط کے لزوم کے سبب بھی تجارت متاثر ہوئی ہے اور لوگ اب بھی اپنے آدھار یا پیان کارڈ کی تفصیلات دینے سے کترا رہے ہیں۔ سونے کی تجارت میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے اثرات ملک کے دیگر تجارتی شعبوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ ملک کے تجارتی نظام میں سونے کی تجارت وفروخت کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔جی ایس ٹی کے ذریعہ سونے پر 3فیصد ٹیکس عائد کئے جانے کے سبب سونے پر عائد ہونے والے ٹیکس میں ایک فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا لیکن میکنگ چارجس پر عائد کئے جانے والے 18فیصد کی وجہ سے یہ اضافہ قریب 4فیصد تک کا ہو چکا ہے ۔ اسی طرح کسٹمس ڈیوٹی کو 12فیصد کے زمرہ میں رکھے جانے کے سبب بھی صرافہ بازار کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT