Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / جی ایس ٹی سے ٹیکس نظام میں بہتری اور تجارت آسان

جی ایس ٹی سے ٹیکس نظام میں بہتری اور تجارت آسان

ریاستوں کی تشویش ختم، افراط زر پر اثرات کا فیصلہ جی ایس ٹی کونسل کرے گی ، ارون جیٹلی کا لوک سبھا میں بیان
نئی دہلی ۔ 8 اگست (سیاست ڈاٹ کام) گڈس اینڈ سرویس ٹیکس (جی ایس ٹی) پر عمل آوری سے ٹیکس چوری میں کمی ہوگی اور سارے ملک کو ایک مشترکہ مارکٹ کی شکل دینے کے نتیجہ میں تجارت کرنا آسان ہوگا۔ وزیرفینانس ارون جیٹلی نے آج لوک سبھا میں تبدیل شدہ دستوری ترمیمی بل پیش کرنے کے بعد یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے ذریعہ ملک بھر میں ایک ہی ٹیکس کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس سے اشیاء اور خدمات کی سارے ملک میں آسانی پیدا ہوجائے گی۔ یہ ایک بڑا بالواسطہ ٹیکس اصلاحات کا عمل ہے اور مستقبل میں یہ ہندوستان کے مفاد میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے تمام ریاستوں کی تشویش کو دور کیا ہے۔ لوک سبھا میں جی ایس ٹی ترمیمی بل کو مئی 2015ء میں منظور کیا جاچکا ہے۔ راجیہ سبھا میں گذشتہ ہفتہ چار ترمیمات منظور کرنے کے بعد اسے دوبارہ آج لوک سبھا میں پیش کیا گیا۔ حکومت نے چھ سرکاری ترمیمات کی ہیں جن میں ایک فیصد اضافی ٹیکس کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔ جی ایس ٹی شرح جیسے پیچیدہ سوال کے بارے میں جس کے افراط زر پر اثرات مرتب ہوں گے۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ جی ایس ٹی کونسل اس کا فیصلہ کرے گی جو مرکز و ریاستوں کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔

ریاستوں کی جانب سے ٹیکس کے نفاذ کے اختیارات سے دستبردار ہونے کے بارے میں انہوں نے کہا حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ریاستیں اور مرکز مل کر اپنی سالمیت کو برقرار رکھیں گے اور ایک نیا میکانزم تیار کیا جائے گا جو اس سالمیت میں رہتے ہوئے تمام فیصلے کرے گا۔ ایوان بالا میں اس بل کی منظوری میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کئے گئے اتحاد کے مظاہرہ کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم قانون ہے اور ملک ایک منقسم پارلیمنٹ سے جس طرح گزر رہا تھا وہ ملک کیلئے بہتر نہیں تھا۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ نئے ٹیکس نظام میں خامیوں کو دور کیا جاسکے گا۔ مرکز اور ریاستوں کے ٹیکس ڈھانچہ میں اضافہ ہوگا۔ ٹیکس پر ٹیکس کے منفی اثرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ ٹیکس سے بچنے کے واقعات کم ہوں گے اور تجارت کرنا آسان ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دستوری ترمیمی بل ایک قابل عمل قانون ہے۔ ریاستی اسمبلیوں کی جانب سے اسے منظور کئے جانے کے بعد مزید تین قوانین، سنٹرل جی ایس ٹی، انٹیگریٹیڈ جی ایس ٹی اور اسٹیٹ جی ایس ٹی کا مسودہ جی ایس ٹی کونسل تیار کرے گی۔ ان میں دو بل پارلیمنٹ میں منظور کئے جائیں گے۔ اسٹیٹ جی ایس ٹی بل متعلقہ ریاستی اسمبلیوں کو منظور کرنا ہوگا۔ وزیرفینانس نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے بل کی تائید کی ہے چونکہ مرکز اور ریاستیں اس پر عمل کررہی ہیں۔

اس لئے اتفاق رائے ضروری تھا۔ جی ایس ٹی کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2003ء میں کیلکر کمیٹی نے بالواسطہ ٹیکس نظام میں بنیادی سطح پر تبدیلی لانے کی تجویز پیش کی تھی۔ این ڈی اے حکومت نے 2014ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ریاستوں سے پابجائی پر ان کی تشویش کے سلسلہ میں مذاکرات شروع کئے۔ جی ایس ٹی بل 2011ء میں پابجائی کی گنجائش نہیں تھی۔ تاہم این ڈی اے حکومت نے ابتداء میں ریاستوں کو تین سال کیلئے مکمل اور اس کے بعد 2 سال کیلئے منجمد پابجائی فراہم کی۔ ریاستوں کو اب بھی پابجائی پر تشویش ہے چنانچہ مرکز نے ریاستوں کو پانچ سال مکمل پابجائی کا فیصلہ کیا ہے۔ جیٹلی نے یہ بھی کہا کہ جی ایس ٹی بل 2011ء میں کہا گیا کہ جی ایس ٹی کونسل کے تمام فیصلے اتفاق رائے پر مبنی ہوں گے لیکن اس میں یہ صراحت نہیں ہیکہ اتفاق رائے کا کیا مطلب ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ جی ایس ٹی کونسل کے ہر فیصلہ کو تین چوتھائی اکثریت سے منظوری ضروری ہے۔ ریاستوں کو دوتہائی اور مرکز کو ایک تہائی رائے دہی کے حقوق حاصل ہوں گے۔ اس طرح مرکز اور ریاستوں کو اتفاق کرتے ہوئے کوئی بھی فیصلہ کرنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT