Thursday , August 17 2017
Home / اداریہ / جی ایس ٹی شرحوں کی تجویز

جی ایس ٹی شرحوں کی تجویز

کہاں سے کس جگہ لایا گیا ہوں
کھلونے دیکے بہلایا گیا ہوں
جی ایس ٹی شرحوں کی تجویز
مرکزی حکومت نے بالآخر جی ایس ٹی پر عمل آوری کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے ۔ جی ایس ٹی سے متعلق اعلی اختیاری کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں چار پرتی ٹیکس نظام کی تجویز سے اتفاق کیا گیا ہے ۔ اس تجویز کے مطابق پرتعیش اشیا پر اعلی ترین شرح کا ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ ہوا ہے ۔ معیاری کاروں ‘ تمباکو اور اس کی اشیا ‘ پان مصالحہ اور کولڈرنکس کو ان اشیا کی فہرست میں رکھا گیا ہے جن پر اعلی ترین ٹیکس عائد کیا جائیگا ۔ اس کے علاوہ غذائی اجناس پر کوئی ٹیکس عائد نہ کرنے کا فیصلہ ہوا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلہ فی الحال حالات کو بہتر بنانے اور افراط زر کی شرح میں کمی لانے کے مقصد سے کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ عام آدمی کے روز مرہ کے استعمال کی اشیا پر محض پانچ فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان ہوا ہے اور بعض دوسری اشیا پر درمیانی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائیگا ۔ حکومت نے فی الحال جو تجاویز پیش کی ہیں وہ بظاہر بہتر نظر آتی ہیں تاہم ان کے حقیقی اثرات کا اسی وقت پتہ چل سکتا ہے جب یہ لاگو ہوجائیں گی ۔ ملک بھر میں یکم اپریل 2017 سے جی ایس ٹی پر عمل آوری کرنے کیلئے حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔ اس قانون پر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے جو درکار امور ہیں انہیں بڑی تیزی اور سرعت کے ساتھ مکمل کیا جا رہا ہے ۔ متعلقہ وزارتوں اور عہدیداروں کو ہدایت دیدی گئی ہے کہ وہ ان امور کو فوری مکمل کرلیں جو جی ایس ٹی پر عمل آوری کیلئے ضروری ہیں۔ ان امور کو مکمل کرنے کے علاوہ حکومت کے ذمہ ایک اور کام مختلف اشیا اور خدمات کا تعین کرتے ہوئے ان پر شرح ٹیکس کا فیصلہ کرنا تھا ۔ اس عمل کا آغاز تو ہوگیا ہے اور ابتدائی طور پر جو تاثر مل رہا ہے وہ یہی ہے کہ اس کے نتیجہ میںمہنگائی پر قابو پانے کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے اور اس کی وجہ سے عام آدمی پر شائد کوئی بوجھ عائد نہیں ہوگا ۔ تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جو صورتحال ابتداء میں دکھائی دیتی ہے اس میں بعد میں تبدیلیاں بھی آتی ہیں اور اس کیلئے نت نئے بہانے اور عذر حکومت کو دستیاب ہوجاتے ہیں۔ جہاں تک ٹیکس نظام کو بہتربنانے کی بات ہے اس ضمن میں جی ایس ٹی سے مدد ضرور مل سکتی ہے لیکن اس کو اسی انداز میں لاگو کیا جانا چاہئے جس کے نتیجہ میں عام آدمی پر کوئی بوجھ عائد نہ ہونے پائے ۔
حکومت کا مطمع نظر افراط زر کی شرحوں پر قابو پانا ہونا چاہئے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ عام آدمی پر کوئی بوجھ عائد نہ ہونے پائے بلکہ اگر جی ایس ٹی پر عمل آوری کے ذریعہ اگر عام آدمی کو کوئی راحت مل سکتی ہے تو وہ پہونچائی جانی چاہئے ۔ جہاں تک پر تعیش اشیا پر بھاری ٹیکس کا سوال ہے اس پر حکومت اپنی ترجیحات کے مطابق کوئی فیصلہ کرسکتی ہے ۔ پرتعیش اشے اپر پہلے بھی ویسے ہی اعظم ترین شرح سے ٹیکس عائد کیا جاتا ہے ۔ اب اس میں مزید اضافہ اگر حکومت کرنا چاہے تو اس پر عام آدمی کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا ۔ غذائی اجناس پر حکومت نے فی الحال ٹیکس عائد نہ کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ بہتر ہے ۔ اس کے نتیجہ میں عام آدمی کو معاشی بوجھ سے بچایا جاسکتا ہے ۔ گذشتہ عرصہ سے جو مہنگائی بڑھنے لگی ہے اور عام آدمی پر جو بوجھ عائد ہوا ہے اس نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ یہ تاثر مل رہا تھا کہ حکومت عوام کو مہنگائی کی مار کھانے کیلئے چھوڑ چکی ہے اور اس کا قیمتوں کے مسئلہ پر کوئی قابو اور کنٹرول نہیں رہ گیا ہے ۔ جی ایس ٹی پر عمل آوری کے ذریعہ اس صورتحال کا ازالہ کیا جانا چاہئے ۔ نہ صرف غذائی اجناس بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ روز مرہ کے استعمال کی اشیا پر جو پانچ فیصد ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے اس میں آئندہ دنوں میں کسی طرح کا اضافہ نہ ہونے پائے ۔ اس کی وجہ سے عام آدمی کو مزید راحت پہونچائی جاسکتی ہے اور ایسا کرنا حکومت کا ذمہ اور فریضہ بھی ہے ۔
جی ایس ٹی کا مسئلہ صرف اشیا اور خدمات پر ٹیکس عائد کرنے تک محدود نہیں ہے ۔ یہ ریاستوں کے مابین مالیہ کی تقسیم کا بھی مسئلہ ہے ۔ اس میں ریاستوں کی حصہ داری کے تعلق سے سوال اٹھ رہے تھے ۔ ابھی بھی جو ڈھانچہ ہے اس پر کیرالا جیسی ریاست کو اعتراض ہے ۔ حالانکہ اس مسئلہ پر بھی وسیع تر اتفاق رائے ہوچکا ہے لیکن اس کو پوری سنجیدگی سے غور و خوض کے ذریعہ حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ریاستوں کے مابین اور ریاستوں و مرکز کے مابین مالیہ کی تقسیم کی شرح اور تناسب واجبی ہونی چاہئے اور ایسا حل دریافت کیا جانا چاہئے جس پر اعتراضات کی گنجائش نہ رہے اور یہ سب کیلئے قابل قبول رہے ۔ اس کے نتیجہ میں ملک کے وفاقی ڈھانچہ کو متاثر ہونے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ۔ ریاستوں کے ساتھ مرکز کے تعلقات کو خوشگوار بنانے کیلئے مرکز کو اس معاملہ میں پوری فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT