Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / جی ایس ٹی عام آدمی و چھوٹے تاجروں کے مفاد میں انقلابی اصلاح

جی ایس ٹی عام آدمی و چھوٹے تاجروں کے مفاد میں انقلابی اصلاح

دیانتدار افراد کو انسپکٹر راج سے راحت نصیب ہوگی ۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کا شعور بیداری پروگرام سے خطاب
حیدرآباد 9 جولائی ( پی ٹی آئی ) گڈس اینڈ سرویس ٹیکس کو عام آدمی اور چھوٹے تاجروں کے مفاد میں کی گئی ایک انقلابی اصلاح قرار دیتے ہوئے مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ مختار عباس نقوی نے کہا کہ اس نئے ٹیکس نظام سے ملک کی معیشت میں واضح تبدیلی آئیگی ۔ یہاں جی ایس ٹی پر عوام اور تاجروں میں ایک بیداری شعور پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے نقوی نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کی جانب سے نئے ٹیکس نظام کو متعارف کروایا جانا آزادی کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی معاشی اصلاح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے نتیجہ میں ملک کی معیشت کی سمت اور حالت دونوں میں تبدیلی آئیگی ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے تعلق سے تاجروں ‘ کاروباری برادری اور صارفین کے ذہنوں میں کچھ الجھنیں ہیں اور خاص طور پر اس کی پابندی کے طریقہ کار کے تعلق سے پریشانیاں ہیں اور یہ سوچا جا رہا ہے کہ آیا جی ایس ٹی کے نتیجہ میں افراط زر میں اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب الجھنیں اور پریشانیاں درست نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے الفاظ میں جی ایس ٹی در اصل اچھا اور سادہ ٹیکس نظام ہے جس کے نتیجہ میں ملک میں ہمہ پرتی ٹیکس نظام کے بڑھتے ہوئے اثرات سے چھٹکارہ حاصل ہوگا اور اس ٹیکس کو نافذ کرنا وزیر اعظز کی اولین ترجیحات میں شامل تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے نتیجہ میں عام آدمی کو ‘ چھوٹے تاجروں کو اور بڑے صنعتکاروں کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا ۔ اس کے نتیجہ میں دیانتداروں کو انسپکٹر راج سے راحت نصیب ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ صرف ان لوگوں کو جی ایس ٹی کے نفاذ سے پریشانی کی ضرورت ہے جو سمجھتے ہیں کہ ٹیکس ادا نہ کرنا ان کا بنیادی حق ہے ۔

نقوی نے کہا کہ سوشیل میڈیا پر جی ایس ٹی کے خلاف کچھ سرگرمیاں چل رہی ہیں۔ جو لوگ نہیں چاہتے کہ ملک کی معیشت مستحکم ہو اور ملک ترقی کی راہ پر آگے بڑ؍ے صرف وہی لوگ الجھن پیدا کر رہے ہیں لیکن وہ اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں ملک میں سارے ٹیکس نظام میں شفافیت آجائیگی ۔ نئے نظام کے تحت ایک ملک میں ایک ٹیکس ہوگا ۔ جی ایس ٹی ہندوستان کے وفاقی ڈھانچہ کی بہترین مثال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کی ہر سیاسی پارٹی نے تائید کی ہے اور اس سے سارے ملک کو فائلدہ ہوگا ۔ ریاستوں اور مرکز کے مابین ایک ٹیم کی طرح کام ہوگا ۔ اس کے نتیجہ میں ہندوستان کی ایکسپورٹ اور امپورٹ کو مسابقتی بنایا جائیگا اور گھریلو اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ 17 دوسرے محاصل اور 23 ٹیکس وغیرہ کو صرف ایک واحد ٹیکس میں مجتمع کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ ٹیکسیس کے مقابلہ میں جی ایس ٹی کونسل کی جانب سے ٹیکس کی جو شرحیں مقرر کی گئی ہیں وہ کئی اشیا پر کم ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں افراط زر میں شرح میں اضافہ نہیں ہوگا اور قیمتیں بھی نہیں بڑھیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے نتیجہ میں ترقی کا ماحول پیدا ہوگا ‘ تجارت کو فروغ حاصل ہوگا ‘ شفافیت لائی جائے گی اور کاروبار کرنے میں آسانی ہوگی ۔ اس کے علاوہ اس کے نتیجہ میں میک ان انڈیا مہم کو استحکام حاصل ہوگا اور ہندوستان آئندہ ایکسپورٹ ہب کے طور پر ابھرے گا ۔

TOPPOPULARRECENT