Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایس ٹی نفاذ کے بعد سگریٹ کی قیمتوں میں غیر یکسانیت

جی ایس ٹی نفاذ کے بعد سگریٹ کی قیمتوں میں غیر یکسانیت

پان شاپ مالکین کی من مانی قیمت وصولی ، ہول سیل مارکٹس میں اسٹاک کی کمی کا بہانہ
حیدرآباد۔21اگسٹ (سیاست نیوز) شہر میں سگریٹ کی قیمتوں پر کسی قسم کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور پان کے ڈبوں پر سگریٹ کی من مانی قیمتیں وصول کی جانی لگی ہیں اور انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ پان شاپ مالکین کا کہنا ہے کہ انہیں جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد سے اسٹاک کے حصول میں مشکلات پیش آرہی ہے جس کے سبب وہ اضافی قیمتو ںمیں اسٹاک حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ ہول سیل ڈیلرس کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد سے انہیں کمپنی سے ہی اسٹاک کے حصول میں دشواریاں پیش آرہی ہیں جس کے سبب وہ معینہ قیمت پر اسٹاک فروخت کرنے سے قاصر ہیں اسی لئے اضافی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں۔ جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد سے صورتحال میں تیزی سے تبدیلی پیدا ہورہی ہے اورسگریٹ کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول باقی نہیں رہا ۔ پان شاپ مالکین کا کہنا ہے کہ انہیں ہول سیل میں دستیاب ہونے والا اسٹاک شہر کے ڈیلرس سے موصول ہوتا ہے لیکن ڈیلر انہیں درکار اسٹاک فراہم نہ کرتے ہوئے کم اسٹاک فراہم کر رہے ہیںاور اس پر جی ایس ٹی کے نفاذ کے ساتھ قیمت وصول کی جا رہی ہے لیکن شہری جو کھلے سگریٹ خریدتے ہیں انہیں سگریٹ کی قیمت میں کافی اضافہ نظر آرہا ہے جس کے سبب انہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پان شاپ مالکین کی جانب سے اضافی قیمت وصول کی جا رہی ہے جبکہ کم قیمت وصول کرنے والے پان شاپ مالکین کا کہنا ہے کہ مان شاپ پر بل کا سسٹم نہ ہونے کے سبب انہیں درکار سگریٹ و دیگر اشیاء میسر آنے لگی ہیں اور انہیں بغیر بل کے اسٹاک کے حصول میں کامیابی کے سبب وہ کم قیمت یا پھر پیاکٹ پر درج قیمت کے مطابق سگریٹ کی فروخت کو ممکن بنا رہے ہیں۔شہر کے مختلف مقامات پر مختلف قیمتوں کی وجہ سے آئے دن شہر کے پان شاپس پر گاہکوں اور مالکین کے درمیان لفظی بحث دیکھی جارہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ جب تک سگریٹ کے متعلق جی ایس ٹی اور دیگر محصولات و نئی قیمتوں کے متعلق فیصلہ نہیں ہوتا اس وقت تک یہ مسائل حل ہونا مشکل ہے کیونکہ ان حالات میں پان شاپ مالکین سگریٹ فیکٹریز کی جانب سے درج کئے جانے والی قیمتوں کا انتظار کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT