Monday , July 24 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایس ٹی نفاذ کے خلاف تجارتی حلقوں میں بے چینی

جی ایس ٹی نفاذ کے خلاف تجارتی حلقوں میں بے چینی

باضابطہ احتجاج اور ہڑتال کی منصوبہ بندی ، ماہانہ واری سطح پر ٹیکس ریٹرنس کے ادخال میں مشکلات کا عذر
حیدرآباد۔21جون (سیاست نیوز) جی ایس ٹی کے نفاذ کے متعلق تجارتی حلقوں کی بے چینی میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مختلف تجارتی شعبوں کی جانب سے جی ایس ٹی کے نفاذ کے ساتھ ہی باضابطہ احتجاج کی منصوبہ بندی کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جی ایس ٹی کے نفاذ کے ساتھ ہی پارچہ‘ سونا‘ ادویات کے علاوہ بعض دیگر شعبوں کی جانب سے ہڑتال شروع کئے جانے کا امکان ہے اور اس ہڑتال کے سلسلے میں ریاستی و قومی سطح پر تجارتی تنظیموں کے ذمہ داروں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔ حکومت ہند نے قومی سطح پر جی ایس ٹی کے نفاذ کے سلسلہ میں تاریخ اور زمروں کو قطعیت دیدی ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ یکم جولائی سے جی ایس ٹی کا بہر صورت نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔ تاجرین پارچہ بالخصوص ملبوسات کا کہنا ہے پارچہ جات اور ملبوسات کو جس زمرے میں رکھا گیا ہے وہ مناسب نہیں ہے اور جس طریقہ سے ٹیکس وصول کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے اس کے سبب تاجرین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ تاجرین کو ہر ماہ ایک سے زائد مرتبہ جی ایس ٹی ریٹرنس داخل کرنے پڑیں گے اور ان جی ایس ٹی ریٹرنس کے لئے ایک علحدہ ملازم رکھنا پڑے گا ۔ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اس اقدام کے سبب تجارتی شعبہ کو جو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان مشکلات سے نمٹنے کیلئے تاجرین کو یہ بوجھ گاہکوں پر عائد کرنا پڑے گا۔ اسی طرح سونے کے تاجرین کی جانب سے بھی 2جولائی سے احتجاجی لائحہ عمل پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ صرافہ بازار میں بھی اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے سونے پر جی ایس ٹی کے نفاذ کا جو فیصلہ کیا ہے اس کے متعلق کس طرح کی حکمت عملی اختیار کی جانی چاہئے کیونکہ عوام اور گاہکوں میں اتنا شعور نہیں ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ جی ایس ٹی وصول کیا جا رہا ہے لیکن یکم جولائی سے جی ایس ٹی کے نفاذ سے صرافہ بازار کو بھی شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ادویات اور ادویات سازی کی صنعت کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جی ایس ٹی کے ساتھ آن لائن ادیاوت تجویز کرنے اور آن لائن ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات دیکھتے ہوئے ادویات فروخت کرنے کے فیصلہ کے خلاف احتجاج شروع کرنے کی منصوبہ بندی کرچکے ہیں۔ اجناس کے تاجرین کا کہنا کہ وہ بھی جی ایس ٹی کے نفاذ کے خلاف احتجاجی لائحہ عمل تیار کرنے میں مصروف ہے کیونکہ جی ایس ٹی کے نفاذ کے ساتھ ہی چیک پوسٹ کی برخواستگی اور جابجا گاڑیوں کو روکے جانے کے فیصلہ سے صورتحال ابتر ہونے کا خدشہ ہے اسی لئے اس فیصلہ پر از سر نو غور کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج شروع کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT