Friday , July 28 2017
Home / Top Stories / جی ایس ٹی پر یکم جولائی سے عمل آوری ‘ کوئی تاخیر نہیں ہوگی

جی ایس ٹی پر یکم جولائی سے عمل آوری ‘ کوئی تاخیر نہیں ہوگی

افواہوں سے گمراہ نہ ہونے مرکزی حکومت کی اپیل ۔ نفاذ کیلئے تیاریاں تیزی سے جاری رہنے کا ادعا
نئی دہلی 13 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت نے آج یہ واضح کردیا ہے کہ گڈس اینڈ سرویس ٹیکس ( جی ایس ٹی ) پر یکم جولائی سے عمل آوری ہوگی اور اس کیلئے تیاری پوری تیزی کے ساتھ جاری ہیں تاکہ اس پر عمل آوری میں مشکلات پیدا نہ ہونے پائیں۔ حکومت نے یہ وضاحت اس لئے کی تاکہ جی ایس ٹی پر عمل آوری کو ملتوی کرنے سے متعلق جو افواہیں گشت کر رہی ہیں انہیں ختم کیا جاسکے ۔ کچھ تجاویز بھی اس سلسلہ میں پیش کی گئی تھیں۔ صنعتی حلقوں کے ایک گوشے کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ جی ایس ٹی پر عمل آوری کو موخر کیا جائے ۔ مغربی بنگال کے وزیر فینانس امیت مترا نے بھی حکومت سے خواہش کی تھی کہ جی ایس ٹی پر عمل آوری کو ایک ماہ کیلئے کم از کم موخر کیا جائے ۔ وزارت فینانس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہند نے یہ واضح کردیا ہے کہ جی ایس ٹی پر یکم جولائی 2017 سے عمل آوری کی جائیگی ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سنٹرل بورڈ آف اکسائز اینڈ کسٹمز نے ریاستی حکومتوں کے ساتھ تعاون کرنا شروع کردیا ہے تاکہ ان کی ہر تاجر تک رسائی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ ایپنے ایک ٹوئیٹ میں ریوینیو سکریٹری ہسمکھ ادھیا نے کہا کہ یہ افواہیں گشت کر رہی ہیں کہ جی ایس ٹی پر عمل آوری کو موخر کردیا گیا ہے ۔ یہ اطلاع درست ہیں ہے اور اس سے گمراہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔

وزارت نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات پر یکم جولائی سے جو سنگ میل عمل آوری ہونے والی ہے اس کو آسان اور پرسکون بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس کے نفاذ میں کوئی مشکلات پیش نہ آئیں۔ جی ایس ٹی کونسل کے ایک اجلاس میں جس کی صدارت مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کی تھی گذشتہ تین ہفتوں کے دوران ملاقاتیں کرتے ہوئے زائد از 1,200 اشیا اور 500 خدمات پر ٹیکس شرحوں کو قطعیت دیدی تھی اور ان تمام کیلئے چار شرحوں کا تعین کیا گیا تھا ۔ جی ایس ٹی کونسل کے آخری اجلاس کے بعد جیٹلی نے کہا تھا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے بیشتر مسائل پر اپنی بات چیت مکمل کرلی ہے ۔ مسٹر ارون جیٹلی نے بھی یکم جولائی سے بہر صورت عمل آوری پر زور دیا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ جی ایس ٹی پر عمل آوری چاہے جس تاریخ سے بھی شروع کی جائے کچھ لوگ ہیں جو یہی کہیں گے کہ وہ ابھی اس کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ تاہم اب ان کیلئے بھی کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا ہے کہ وہ اس کیلئے تیار ہوجائیں۔ اس کیلئے آپ کو ایک دیانتدار رویہ کی ضرورت ہوگی ہے ۔ انہوں نے یہ ریمارک اس وقت کیا تھا جب ان سے کہا گیا تھا کہ چھوٹے تاجر اور فنکار ‘ ٹکنالوجی کے اعتبار سے جی ایس ٹی پر عمل آوری کے موقف میں نہیں ہیں ۔
جی ایس ٹی کے نفاذ پر
ضروری ادویات مہنگی ہوں گی
نئی دہلی 13 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) آئندہ ماہ جی ایس ٹی پر عمل آوری کے بعد ملک میں بیشتر ضرری ادویات کی قیمتوں میں 2.29 فیصد کا اضافہ ہوگا ۔ حکومت نے بیشتر لازمی ادویات کو 12 فیصد کی شرح کے زمرہ میں رکھا ہے جبکہ موجودہ قوانین کے مطابق ادویات پر 9 فیصد کے آس پاس ٹیکس عائد ہوتا ہے ۔ تاہم کچھ مخصوص ادویات جیسے انسولین پر قیمتوں میں کمی ہوسکتی ہے ۔ اس کو جی ایس ٹی میں پانچ فیصد ٹیکس کے زمرہ میں رکھا گیا ہے جبکہ اس پر بارہ فیصد ٹیکس کی سفارش کی گئی تھی ۔ ادویات کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارہ نے پہلے ہی یہ واضح کردیا ہے کہ مقررہ اور مخصوص ادویات پر جو ٹیکس کی شرح تجویز کی جا رہی ہے اس کو پہلے سے موجود اکسائز ڈیوٹی کی شرح سے جوڑ کر طئے کرنے کی ضرورت ہے ۔ لازمی ادویات کی جو قومی فہرست ہے اس میں ہیپارن ‘ ورفارن ‘ ڈیازیپام ‘ آئیبو پروفین جیسی ادویات بھی شامل ہیں۔

 

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT