Tuesday , September 19 2017
Home / Top Stories / جی ایس ٹی کا اثر : کاریں اور ایف ایم سی جی اشیاء سستی ‘ خدمات مہنگی

جی ایس ٹی کا اثر : کاریں اور ایف ایم سی جی اشیاء سستی ‘ خدمات مہنگی

جی ایس ٹی کے نفاذ سے ملازمتوں کی منڈی کا فروغ‘ملازمتوں کے مواقع میں اضافہ ‘ماہرین کا تجزیہ
نئی دہلی ۔7اگست ( سیاست ڈاٹ کام) پُرتعیش کاریں ‘ ایف ایم سی جی مصنوعات ‘ صارفین کی مستقل ضروریات کی اشیاء ‘ الکٹرانک اشیاء ‘ ریڈیمیڈ ملبوسات آئندہ سال جی ایس ٹی نافذ ہونے کے ساتھ ہی سستے ہوجائیں گے لیکن موبائیل فونس ‘ بینکنگ ‘ انشورنس خدمات ‘ ٹیلی فونس بلز اور فضائی سفر زیادہ ٹیکس کی وجہ سے زیادہ مہینگے ہوجائیں گے ۔ نئے بالواسطہ محاصل کے نظام جس کا نفاذ یکم اپریل 2017سے ہوگا پیداواری اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوگی جب کہ صارفین کو خدمات ٹیکس کے بوجھ تلے خدمات پر زیادہ خرچ کرنا ہوگا کیونکہ جی ایس ٹی صارفین پر مبنی ٹیکس ہے ۔حکومت کو یقین ہے کہ جی ایس ٹی سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے گا ۔اس کا کہنا ہے کہ یہ ابھی پیش قیاسی کرنا قبل از وقت ہوگا کہ کونسی اشیاء زیادہ مہینگی یا زیادہ سستی ہوجائیں گی ۔ بحیثیت مجموعی جی ایس ٹی ٹیکسوں کا بوجھ عام آدمی پر کم کرے گا تاہم جب تک شرحوں کے ڈھانچوں کو قطعیت نہیں دی جاتی یہ پیش قیاسی ناممکن ہے کہ کونسی اشیاء پر راحت حاصل ہوگی ۔

معتمد مالیہ ہسمکھ ادھیا کے بموجب ماہرین ٹیکس کا دعویٰ ہے کہ ٹیکس کی موجودہ کارروائی مثال کے طور پر ویاٹ وصول کیا جارہا ہے جو صرف مصنوعات کی لاگت پر نہیں بلکہ اس میں اکسائز ڈیوٹی کا بھی کارخانہ کی گیٹ پر ہی اضافہ کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے لاگت زیادہ ہوجاتی ہے لیکن جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد ایسا نہیں ہوگا ۔ جی ایس ٹی سے کئی مصنوعات جیسے ایف ایم سی جی اشیاء سے لیکر صارفین کے روزآنہ کی استعمال کی اشیاء ‘الکٹرانک اشیاء سے لیکر ریڈی میڈ ملبوسات تک سستے ہوجائیں گے ۔جی ایس ٹی کے ملک گیر نفاذ سے کاروبار میں آسانی پیدا ہوجائے گی ۔ صنعتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی ‘ اُن کی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہوجائے گا ۔ اس کے نتیجہ میں روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا ۔ ماہرین معاشیات کے ایک تجزیہ کے مطابق جی ایس ٹی کی منظوری بیک وقت میں کارپوریٹس اور معیشت دونوں کو فائدہ پہنچائے گی ۔ یہ نمایاں طور پر پورے اندرون ملک صارفین پر مبنی شعبوں میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے گا ۔

معاون بانی اور کارگذار نائب صدر ٹیم لیز خدمات رتوپارنا چکرورتی نے کہا کہ میں بالواسطہ محاصل کے نظام کے تحت جو امکان ہے کہ یکم اپریل 2017ء سے نافذ کیا جائے گا ۔ پیداواری اشیاء پر ٹیکس کم ہوجائے گا اور صارفین کو خدمات ٹیکس کے بوجھ تلے جی ایس ٹی نظام میں زیادہ رقم صارفین پر مبنی اشیاء پر خرچ کرنی ہوگی ۔ ٹیکس کا ٹھانچہ نئے بازار کھولے گا جو پسندیدہ علاقوں میں ہوں گے ۔ جن کے نتیجہ میں خدمات کی صلاحیت اور مصنوعات کے دائرے میں وسعت پیدا ہوگی ۔اس سے تحفظات کی ذہنیت ریاستوں میں کم ہوجائے گی اور ایجادات کی راہ ہموار ہوجائے گی ۔ صنعتیں فوری طور پر کنزیومر اشیاء اور ایف ایم سی جی پر انحصار کرتے ہوئے ملازمتوں کے زیادہ مواقع پیدا کریں گی ۔ ذرائع ابلاغ ‘ آٹو کی صنعتوں ‘ سمنٹ اور دیگر تعمیری اشیاء کی صنعتوں میں ملازمتوں کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے ۔ مثال کے طور پر ایک یا دو سال کی تربیت کے ذریعہ کمپنیاں ملازمتیں خصوصی شعبوں میں جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد فراہم کرسکیں گی ۔

TOPPOPULARRECENT