Thursday , September 21 2017
Home / ہندوستان / جی ایس ٹی کونسل کو ٹیکس شرحوں میں کٹوتی کیلئے درجنوں درخواستیں

جی ایس ٹی کونسل کو ٹیکس شرحوں میں کٹوتی کیلئے درجنوں درخواستیں

ہیلمٹ، گرینائیٹ، کاروں، نمکین اشیاء ، مٹھائی ، پینے کا پانی، سنیٹری پیاڈس اور دیگر متعدد اشیاء پر ٹیکس میں کمی مطلوب
نئی دہلی 14 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ہیلمٹ سے لے کر گرینائیٹ سلاب، ہائبرڈ کاروں سے لے کر نمکین تک جی ایس ٹی کونسل کو مختلف اشیاء پر ٹیکس شرحوں کو بدلنے کے لئے درخواستیں وصول ہونے کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہاکہ یہ کونسل جو گڈس اینڈ سرویسس ٹیکس (جی ایس ٹی) کا اعلیٰ ترین پالیسی ساز ادارہ ہے، اُسے مختلف حاملین مفادات سے 133 مختلف پراڈکٹس پر عائد ہونے والی ٹیکس شرحوں میں تبدیلیوں کے لئے درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ ہندوستان نے یکم جولائی کو جی ایس ٹی سسٹم اختیار کرلیا جبکہ کونسل نے زائداز 1200 پراڈکٹس کو 4 ٹیکس زمرہ جات 5 ، 12 ، 18 اور 28 فیصد میں مقرر کیا ہے۔ تاہم بعض گوشے اِن زمروں سے خوش نہیں ہیں اور وہ تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ اِن میں آئی ٹی پراڈکٹس پر جی ایس ٹی کو 18 فیصد سے گھٹاکر 12 فیصد کردینے کی درخواست شامل ہے، کیوں کہ یہ شعبہ ہنرمند افراد کو بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرتا ہے۔ آئی ٹی ہارڈویر پر ٹیکس میں 28 فیصد سے کٹوتی کرتے ہوئے اُسے 18 فیصد مقرر کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ ہیلمٹ پر جی ایس ٹی کو 18 فیصد سے 5 فیصد، پارچہ جات پر 5 فیصد سے صفر ، ٹراکٹرس پر 12 فیصد سے پانچ اور گرینائیٹ سلابس پر موجودہ 28 فیصد سے گھٹاتے ہوئے اُسے 18 فیصد کردینے پر زور دیا گیا ہے۔ نمکین، بھوجیاس اور پوٹاٹو چپس کو 12 فیصد نہیں بلکہ 5 فیصد ٹیکس کے زمرے میں لانے کا مطالبہ کونسل کے سامنے رکھا گیا ہے۔ مٹھائی، کلفی، کچے کھجور اور کئی دیگر میٹھی اشیاء جیسے پھلی کی چکی پر بھی ٹیکس کٹوتی کی مانگ کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں میکرونی / پاستہ / نوڈلس پر ٹیکس 18 فیصد سے 5 فیصد کرنے کی درخواست بھی وصول ہوئی ہے۔ پیاکیجڈ ڈرنکنگ واٹر جو چھوٹی پلاسٹک کی پیاکٹس میں فروخت کیا جاتا ہے اور 20 لیٹر والے ریفل کیانس پر بھی ٹیکس شرح میں کٹوتی کرتے ہوئے اِسے موجودہ 18 فیصد سے صفر کردینے کا مطالبہ کیا گیا ہے کیوں کہ جی ایس ٹی پر عمل آوری نے اِن کی قیمتوں میں یکایک اضافہ کردیا ہے۔ نیز ہیئر پِن، ایل پی جی اسٹو، چھتری، لکھنے کا سامان، گرائنڈر، وزن کرنے والی مشین، ٹکسٹائیل مشنری کے پرزے، تمباکو، ہمہ مقصدی پرنٹر اور دست کاری والے کارپٹ کٹوتی والے زمرے میں آئے ہیں۔ چٹنی پاؤڈر پر جی ایس ٹی موجودہ 18 فیصد سے 12 فیصد کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ اچار پر 12 فیصد سے پانچ فیصد ٹیکس عائد کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 3.81 فیصد رہی تھی.گزشتہ جولائی کے مقابلے میں اس سال جولائی میں خوردنی اشیاء کی قیمت میں 2.15 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ سبزیوں کی قیمت سب سے زیادہ 21.95 فیصد بڑھی ہے ۔ دودھ 3.50 فیصد، انڈے ، گوشت اور مچھلی 3.30 فیصد اور دھان 3.47 فیصد مہنگا ہوا ہے ۔ وہیں شکر 8.44 فیصد مہنگی ہوئی ہے ۔

 

TOPPOPULARRECENT