Thursday , October 19 2017
Home / اداریہ / جی ایس ٹی ‘ کہیں خوشی ‘ کہیںغم

جی ایس ٹی ‘ کہیں خوشی ‘ کہیںغم

زمیں کو ، مِل کے سنواریں مثال رُوئے نگار
رُخِ نگار سے روشن چراغِ بام کریں
جی ایس ٹی ‘ کہیں خوشی ‘ کہیںغم
جی ایس ٹی بل کو راجیہ سبھا میں کل منظوری مل گئی ۔ مرکزی حکومت چاہتی تھی کہ ملک بھر میں ایک ہی ٹیکس ڈھانچہ ہو جس کے ذریعہ ٹیکس شعبہ میں اصلاحات کو نافذ کیا جاسکتا ہے ۔ این ڈی اے حکومت مرکز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلسل اس بل کو منظوری دلانے اور قانون کو ملک بھر میں رائج کرنے کیلئے کوشاں تھی ۔ اس کیلئے ایک طویل سیاسی مصالحت کا عمل بھی چلتا رہا ۔ کانگریس اوردوسری اپوزیشن جماعتوں نے اس پر کچھ تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کچھ ترامیم بھی پیش کی تھیں۔ سیاسی اختلاف اور پھر مشاورت کے ذریعہ اس بل کو منظوری دلائی گئی ہے ۔ لوک سبھا میں اس بل کو پہلے ہی منظوری حاصل ہوگئی تھی لیکن راجیہ سبھا میں چونکہ حکومت کو اکثریت حاصل نہیں ہے اس لئے اس کی منظوری میں قدرے تاخیر ہوئی تھی ۔ اب جبکہ راجیہ سبھا میں بھی اس کو منظوری مل گی ہے ایسے میںمرکزی حکومت اپنے طور پر اس قانون پر عمل آوری کی تیاریوں میں مصروف ہوگئی ہے تو دوسری طرف ملک بھر میں فی الحال جی ایس ٹی سے ہونے والے اثرات پر مباحث چل رہے ہیں۔ ٹیکس اصلاحات کا یہ عمل در اصل 1991 میں شروع ہوا تھا اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ جی ایس ٹی بل کی منظوری در اصل اس تسلسل کا منطقی انجام دہے ۔ اس کے اثرات پر پہلے سے مختلف گوشے مختلف آرا کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ صنعتی حلقوں میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کونسا شعبہ ایسا ہے جس کو اس قانون سے فائدہ ہوسکتا ہے اور کس شعبہ پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ حکومت کے پاس اس قانون کے نفاذ اور اس سے ہونے والے اثرات کامکمل خاکہ موجود ہے ۔ یہ ایک ایساقانون ہے جس کے نتیجہ میں ملک بھر میں کئی شعبوں پر راست اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہ طئے ہے کہ اس کی وجہ سے کچھ شعبوں میں حالات میں بہتری آسکتی ہے اور لوگ اس سے مستفید ہوسکتے ہیں لیکن کچھ شعبے ایسے بھی ہیں جن پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہ اندیشے بھی پائے جاتے ہیں کہ جن شعبوں میں جی ایس ٹی کی وجہ سے حالات بہتر ہونگے وہاں صارفین اور ملک کے عوام تک اس کے فوائد پہونچائے جائیں گے بھی یا نہیں۔ جب تک اس پر عمل آوری کا آغاز نہیں ہوگا اس وقت تک اس کے اثرات پر قطعیت سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔
حکومت کو اس سلسلہ میںمزید سرگرمی دکھانے کی ضرورت ہے تاکہ اس قانون سے صارفین تک اور ملک کے عوام تک ممکنہ فوائد پہونچ سکیں۔ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں ٹیکس نظام مختلف ہے اور اس کے اثرات یقینی طور پر مقامی سطح پر زیادہ مرکوز ہونگے ۔ مہاراشٹرا میں غیر مراٹھی فلموں پر 45 فیصد تک ٹیکس عائد کیا جاتا ہے ۔ اب اگر جی ایس ٹی لاگو ہوجائے اور ٹیکس کی شرح 18 فیصد مقرر ہے تو پھر یہاں ریاستی حکومت کو تفریحی صنعت سے ہونے والی آمدنی سے ہاتھ دھونا پڑیگا ۔ اسی طرح گوا میں سیاحت پر بھی اس کے اثرات ہوسکتے ہیں۔ وہاں بھی ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوزس کی وجہ سے سیاحتی سرگرمیوں کو تقویت ملتی ہے اور وہاں بھی ٹیکس کی شرح 30 فیصد تک جا پہونچتی ہے اور اب اگر جی ایس ٹی کی وجہ سے اس شرح کو 18 فیصد تک کردیا جائے تو اس کے نتیجہ میں ہوٹلوں کی آمدنی اور گیسٹ ہاوزس کے مالکین کو متاثر ہونا پڑسکتا ہے ۔ اس میں یہ سوال بھی ہے کہ ٹیکس کی جو شرح کم ہوگی وہ راست صارفین اور عوام تک پہونچ بھی پائیگی یا نہیں ۔ اس پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح ہوٹلنگ کرنے والوں کیلئے صورتحال قدرے مختلف ہوگی اور یہاں انہیں اپنی جیبیں زیادہ ڈھیلی کرنی پڑسکتی ہیں۔ مختلف ریاستوں میں ویاٹ اور دوسرے محاصل کی شرح 12 تا 14 فیصد تک عائد ہوتی ہے اور اب اگر اس کو جی ایس ٹی سے بدل کر 18 فیصد کردیا جائے تو اس کے نتیجہ میں ہوٹلوں کا کھانا مہنگا ہوسکتا ہے ۔ اس کے باوجود حکومت کو امید ہے کہ جی ایس ٹی کی وجہ سے ملک بھر میں حالات کو اعتدال پر لایا جاسکتا ہے ۔
جہاں کچھ شعبوں پر اس کے اثرات سے معمولی اتار چڑھاو آسکتا ہے وہیں اس کے نتیجہ میں کچھ شعبہ جات میں اثرات زیادہ حد تک بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح سروسیس کے شعبہ پر اس کے سب سے زیادہ اثرات مرتب ہونگے ۔ سارے شعبہ کو از سر نو جی ایس ٹی کی شرح سے مماثل کرنے کیلئے حکومت کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی اور اس کیلئے بڑے کارپوریٹ اداروں اور عوام دونوں کے مفادات کا تحفظ حکومت کیلئے اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔ صرف کارپوریٹ مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کام کرنے سے جی ایس ٹی سے فائدے کی بجائے عوام کو نقصان ہوسکتا ہے اور اپوزیشن نے اس بل کو منظوری دلانے سے قبل انہیں اندیشوں کا اظہار کیا تھا اور ان اندیشوں کو دور کرنا اب عملی طور پر حکومت کی ذمہ داری بن گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT