Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایس ٹی کی غیر مشروط تائید سے مختلف محکموں کو مشکل

جی ایس ٹی کی غیر مشروط تائید سے مختلف محکموں کو مشکل

جی ایچ ایم سی پر سالانہ 260 کروڑ اور واٹر ورکس پر 200 کروڑ روپئے کا اضافی بوجھ

حیدرآباد 8 اگسٹ (سیاست نیوز) جی ایس ٹی کیلئے ٹی آر ایس کی غیر مشروط تائید تلنگانہ کیلئے مہنگی ثابت ہورہی ہے۔ جی ایچ ایم سی پر 260 کروڑ اور حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس پر سالانہ 200 کروڑ کا زائد مالی بوجھ عائد ہورہا ہے۔ جس سے ترقیاتی و تعمیری سرگرمیاں متاثر ہونے کا امکان ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے جیسے ہی ’’ون نیشن ون ٹیکس‘‘ کی بات کہی چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے سب سے پہلے نا صرف اس کی تائید کی بلکہ اسمبلی و کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے جی ایس ٹی کی حمایت کردی حالانکہ جی ایس ٹی پر عمل آوری سے ریاست کو 3000 کروڑ روپئے کا نقصان ہونے کی محکمہ فینانس سے رپورٹ وصول ہونے کے باوجود چیف منسٹر نے جی ایس ٹی کی تائید کردی جس کے ہر شعبہ میں ہونے والے نقصانات آہستہ آہستہ منظر عام پر آرہے ہیں جو حکومت کو تشویش میں مبتلا کررہے ہیں۔ چیف منسٹر کی جی ایس ٹی پر برہمی ’’سر منڈاتے ہی اولے پڑے‘‘ کے مماثل ہے۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور حیدرآباد میٹرو واٹر بورڈ کے عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے یکم جولائی سے عمل ہونے والے جی ایس ٹی سے دونوں اداروں کی کارکردگی پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا۔ عہدیداروں نے جو اعداد و شمار پیش کئے ہیں وہ چونکا دینے والے ثابت ہوئے ہیں۔ شہر حیدرآباد کی ترقی کے لئے سڑکوں کی تعمیرات پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے 18 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے کا تخمینہ (ایس آر ڈی پی) تیار کیا گیا۔ ایک لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 60 ہزار مکانات کیلئے ٹنڈر طلب کرنے کا کام مکمل کیا گیا جس پر 1700 کروڑ روپئے کے مصارف ہیں جنکشن کی ترقی کے لئے بشمول حصول اراضیات 2630 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ دوسرے کاموں پر سالانہ 1000 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ ان تمام تعمیری و ترقیاتی کاموں سے جی ایچ ایم سی پر جی ایس ٹی سے 260 کروڑ روپئے کا زائد مالی بوجھ عائد ہورہا ہے۔ مختلف ترقیاتی و تعمیری سرگرمیوں کیلئے جی ایچ ایم سی کی جانب سے جو قرض حاصل کیا گیا ہے اس کی ادائیگی میں بھی بھاری بوجھ عائد ہورہا ہے۔ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس نے گریٹر حیدرآباد کے مضافاتی علاقوں میں پینے کا پانی سربراہ کرنے کے لئے پراجکٹ کا آغاز کیا ہے جس پر 1900 کروڑ روپئے کے مصارف ہیں تاحال 600 کروڑ روپئے کے بلز ادا کردیئے گئے ہیں مزید 50 کروڑ روپئے کے بلز ادا کرنا باقی ہے۔ چند علاقوں میں پائپ لائپ ہونے کی نشاندہی کرنے والے عہدیداروں نے 1700 کیلو میٹر کے بجائے 1400 کیلو میٹر ہی پائپ لائن تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے تعمیری اخراجات 400 کروڑ تک گھٹ گئے ہیں باوجود اس کے مزید 800 کروڑ روپئے کے کام باقی ہے۔ اس کے علاوہ 628 کروڑ روپئے کے مصارف سے آؤٹر رنگ روڈ تک 187 مواضعات کو پانی سربراہ کرنے کے پراجکٹ پر عمل آوری جاری ہے۔ 398 کروڑ روپئے سے آؤٹر وینٹ رنگ مین کی تعمیرات کیلئے حکومت نے حال ہی میں منظوری دی ہے۔ مختلف پراجکٹس پر جی ایس ٹی سے 150-200 کروڑ روپئے کا زائد مالی بوجھ ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ زائد مالی بوجھ عائد ہونے سے ترقیاتی و تعمیری سرگرمیاں متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ان کاموں کی تکمیل کیلئے حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کو مزید 150 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کی نوبت آگئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT