Tuesday , July 25 2017
Home / ہندوستان / جی ایس ٹی کے باوجود 7 سیس برقرار رہیں گے

جی ایس ٹی کے باوجود 7 سیس برقرار رہیں گے

مختلف سیس کو گزشتہ تین بجٹ میں مرحلہ وار انداز میں ختم کیا گیا: وزارت فینانس
نئی دہلی۔7 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزارت فینانس نے آج کہا ہے کہ گڈس اینڈ سرویسس پر گزشتہ تین بجٹ کے دوران مختلف سیس (محاصل) بتدریج ختم کردیئے گئے۔ اس کے علاوہ 13 سیس ٹیکس قوانین ترمیمی ایکٹ 2017ء کے تحت ختم کئے جارہے ہیں۔ لیکن 7 سیس یکم جولائی سے جی ایس ٹی متعارف کیئے جانے کے باوجود برقرار رہیں گے۔ ان کا تعلق کسٹمس یا گڈس سے ہے جن کا ہنوز جی ایس ٹی میں احاطہ نہیں کیا گیا ہے۔ یہ 7 سیس درآمد کردہ اشیاء پر ایجوکیشن سیس، درآمد کردہ اشیاء پر سیکنڈری اینڈ ہائیر ایجوکیشن سیس، کروڈ پیٹرولیم آئل پر سیس، موٹر اسپرٹ اور ڈیزل آئل پر اضافی ایکسائز ڈیوٹی (روڈ سیس) موٹر اسپرٹ اور این سی سی ڈی پر اسپیشل ایڈیشنل ڈیوٹی اور تمباکو و تمباکو اشیاء کے علاوہ کروڈ پیٹرولیم آئل پر سیس ہیں۔ وزارت فینانس نے ایک بیان میں کہا کہ مختلف ساز و سامان اور خدمات پر بتدریج سیس ختم کرتے ہوئے یکم جولائی 2017ء سے جی ایس ٹی کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت نے مختلف سیس کو مرحلہ وار انداز میں ختم کرنے کے قدم اٹھائے تاکہ مختلف گڈس اور سرویسس کو جی ایس ٹی سلاب میں شامل کیا جاسکے۔ حکومت نے 2015-16ء بجٹ میں ایجوکیشن سیس بشمول قابل ٹیکس خدمات پر سیکنڈری اینڈ ہائی ایجوکیشن سیس ختم کیا۔ 2016-17ء بجٹ میں سیمنٹ اور اسٹرابورڈ پر سیس ختم کیا گیا۔ اس کے علاوہ لیبر ویلفیر سیس ایکٹ 1976ء میں ترمیم کے ذریعہ تین سیس ختم کئے گئے۔ ٹوباکو سیس ایکٹ 1975ء میں ترمیم کے ذریعہ تمباکو سیس ختم کیا گیا۔ حکومت نے ملک کی آزادی کے بعد بڑے پیمانے پر ٹیکس اصلاحات کے ذریعہ یکم جولائی سے جی ایس ٹی متعارف کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے تحت 16 مختلف ٹیکسس بشمول ایکسائز، ویاٹ، سرویس ٹیکس اور دیگر مقامی ٹیکسس کو ختم کرتے ہوئے ایک نیا طریقہ کار متعارف کیا جارہا ہے۔ مرکز اور ریاستوں نے ملک کر جی ایس ٹی ٹیکس کی چار شرحیں 5، 12 ، 18 اور 28 فیصد مقرر کی ہے۔ تمام گڈس اینڈ سرویسس کو ان چار سلابس میں رکھا جائے گا۔ لکژری اشیاء کو سب سے زیادہ 28 فیصد ٹیکس زمرے میں رکھا گیا ہے۔ جی ایس ٹی کونسل نے مرحلہ وار انداز میں مختلف اشیاء اور خدمات کے لیے ٹیکس کے زمرے متعین کیئے اور اتفاق رائے سے انہیں منظوری دی ہے۔ مرکزی حکومت نے جی ایس ٹی کو یکم جولائی سے ملک بھر متعارف کرنے کی تیاری پوری کرلی ہے۔

 

یونانی ادویہ کو جی ایس ٹی میں شامل نہ کیاجائے
آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کی وزیر فینانس ارون جیٹلی سے نمائندگی
نئی دہلی، 7جون (سیاست ڈاٹ کام) آئندہ کچھ دنوں میں نافذہونے والے نئے ٹیکس جی ایس ٹی میں آیورویدک، سدھا اور یونانی ادویہ پر بارہ فیصد ٹیکس لگائے جانے کی تجویز ہے ۔ اس سلسلے میں یونانی دواساز اداروں کی نمائندگی کرتے ہوئے آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر مالیات جیٹلی کو بذریعہ مراسلہ آیورویدک ، سدھا اور یونانی ادویہ پر سے جی ایس ٹی ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ یہاں جاری پریس ریلیز میں آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محمد خالد صدیقی نے وزیر مالیات ارون جیٹلی سے گزارش کی ہے کہ آیورویدک، سدھا اور یونانی ادویہ پر جی ایس ٹی لگائے جانے کے فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے اور ان ادویہ کو ملنے والی موجودہ رعایات کو جاری رکھا جائے کیونکہ یہ دیسی طریقہ ہائے علاج ہمارا قومی ورثہ ہے اور انھیں سرکاری تعاون اور سرپرستی کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ ٹیکس کے نفاذ کی صورت میں دیسی طب کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے جو پہلے سے ہی بحرانی دور سے گزر رہی ہے ۔ مزید برآں اس سے ادویہ کی قیمت پر زبردست اثر پڑے گا اور سماج کے کمزور طبقات کے لئے علاج اور زیادہ مہنگا اور دسترس سے باہر ہو جائے گا جوہمارے قومی صحت کے مشن کو عام آدمی تک پہنچانے میں بھی حائل ہوگا۔ انہوں نے اپیل کی کہ یونانی ادویہ کوجی ایس ٹی سے مستثنی رکھا جائے اور پیٹنٹ ادویہ کو 5 فیصد کے زمرہ میں رکھا جائے ۔ اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالمی آیوروید کانگریس کے چھٹے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بھی آیوش سسٹمز کے ذریعہ عوام کو مکمل علاج کی سہولت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے یہ ضروری ہے کہ آیوش ((ASU ادویات کے ٹیکس میں کوئی اضافہ نہ ہو۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT