Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / جی ایس ٹی کے نفاذ سے اِفراطِ زر میں اضافہ کا خطرہ

جی ایس ٹی کے نفاذ سے اِفراطِ زر میں اضافہ کا خطرہ

مستثنیٰ اشیاء کو محصول کے دائرہ کار میں لانے کی تجویز
نئی دہلی۔/12جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) محصول اشیائے صارفین اور خدمات کے مسئلہ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان افہام و تفہیم کافقدان پایا جاتا ہے۔ جبکہ یہ آزادی کے بعد سے سب سے بڑا ٹیکس اصلاحات تصور کیا جارہا ہے ۔ لیکن اب یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ فریقین پر کس نوعیت کے اثرات مرتب ہوں گے۔ کیونکہ یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے کاروباری طبقہ بشمول تاجرین ، ٹھوک فروش، استعمال کنندہ ریاستیں، پیداواری ریاستیں اور صارفین سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔یہ ٹیکس فاصلہ کی بنیاد پر عائد کیا جائے گا اور ریاستوں کیلئے آمدنی کا ایک بڑا وسیلہ ثابت ہوگا بشرطیکہ ریاستوں میں تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہوں اور جن ریاستوں میں یہ سرگرمیاں سست ہونے پر جی ایس ٹی لاحاصل ثابت ہوگا تاہم جی ایس ٹی نافذ العمل ممالک کا جائزہ لیا جائے۔ پتہ چلتا ہے کہ گڈس اور سرویس کی قیمت میں اضافہ سے اِفراطِ زر بڑھ گیا ہے جبکہ سب سے زیادہ ٹیکس پٹرول اور شراب سے وصول کیا جائے گا۔ تاہم مروجہ محصولیاتی نظام میں غذائی اشیاء، مشروبات، ملبوسات کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے یا پھر برائے نام ٹیکس لاگو کیا جاتا ہے۔شرح صارفین کے اشاریہ میں شامل 75اشیاء کو ایکسائیز اور 47 فیصد سیلس ٹیکس سے چھوٹ دی گئی ہے۔ جس میں انڈے، گوشت، مسالہ جات، مشروبات، فروٹس، فیول، لائٹ، کلاتھنگ، فٹ ویر، میڈیکل کیر، اسٹیشنری اور امیوزمنٹ اور پرسنل کیر انمیشن شامل ہیں۔ بیشتر ریاستوں نے جی ایس ٹی میں دوگنا اضافہ اور بعض اشیاء پر کم شرح محصول اور دیگر پر قابل لحاظ ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ علاوہ ازیں جی ایس ٹی کی زد میں زرعی پیداوار بھی آسکتی ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکسائیز ٹیکس سے استثنیٰ اور کم شرح محصول کے باعث مرکز کو فی الحال 1.8 لاکھ کروڑاور ریاستوں کو 1.5لاکھ کروڑ روپئے سے محروم ہونا پڑے گا۔ تاہم گڈس اینڈ سرویس ٹیکس کے نفاذ کے بعد اس خسارہ کی پابجائی مکن ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT