Thursday , October 19 2017
Home / ہندوستان / جی ایس ٹی کے نفاذ سے ٹیکس میں نمایاں کمی

جی ایس ٹی کے نفاذ سے ٹیکس میں نمایاں کمی

مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی کا ادعا
نئی دہلی ،4اگست (سیاست ڈاٹ کام)مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے آج کہا کہ پورے ملک میں ٹیکس کا ایک یکساں بالواسطہ ٹیکس نظام بنانے اور ملک کو ایک بازار بنانے کے مقصد سے اشیا اور سروس ٹیکس (جی ایس ٹی )کے نافذ ہونے سے مہنگائی نہیں بڑھے گی اور رفتہ رفتہ ٹیکس کی شرح بھی کم ہوں گی۔مسٹر جیٹلی نے اشیا اور سروس ٹیکس (جی ایس ٹی )کو نافذ کرنے کے لئے ضروری 122وے آئینی اور ترمیمی بل کو کل رات راجیہ سبھا میں متفقہ طور پر پاس کئے جانے پر آج یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ ’’ملک میں بالواسطہ ٹیکس اصلاحات کی سمت میں کل کا دن تاریخی تھا جب ہندوستانی سیاست کی پختگی دیکھنے کو ملی ۔ایک جماعت اے آئی اے ڈی ایم کے کو چھوڑکر سبھی پارٹیوں نے متفقہ طور پر اس بل کی حمایت کی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس بل میں کچھ ترمیم کئے جانے کے پیش نظر اسے پھر سے لوک سبھا میں پیش کیا جانا ہے اور اس کے لئے لوک سبھا کو نوٹس دیا گا ہے ۔انہوں نے کہا کہ 50فیصد ریاستی اسمبلیوں سے اس بل کو منظوری ملنے سے پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں مرکزی جی ایس ٹی اور بین ریاستی جی ایس ٹی بل پیش کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔مرکزی جی ایس ٹی اور بین ریاستی جی ایس ٹی بلوں کو مالی بل کے طور پر پیش کئے جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ان بلوں کو جی ایس ٹی کونسل تیار کرے گی اور بلوں کو آئین کے تحت پیش کیا جائے گا۔ جیٹلی نے جی ایس ٹی نافذ ہونے سے مہنگائی بڑھنے کے خدشات کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ صارفین قیمت انڈیکس میں شامل زیادہ تر کھانے کی اشیا ابھی ٹیکس کے دائرے سے باہر ہیں ۔جی ایس ٹی میں بھی چھوٹ والی اشیا کی فہرست ہوگی جو مرکز اور ریاست مل کر تیار کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی معیاری شرح جی ایس ٹی کونسل کو طے کرنی ہے اور جب تک یہ طے نہیں ہوجاتی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مہنگائی بڑھے گی یا اشیا کی قیمتیں کم ہوں گی ۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کی مخالفت کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو میں ایک ذمہ دار حکومت ہے اوروہ آئین ترمیم اور دوسرے قوانین پر عمل کرے گی۔انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کے وزیر خزانہ جی ایس ٹی پر تشکیل دی گئی ریاستوں کے وزرائے خزانہ کی اعلی اختیارات حاصل کمیٹی کی میٹنگ میں مسلسل حصہ لتے رہے ہیں اور اپنے اعتراضات بھی درج کراتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی نافذ ہونے پر بھی مرکز اور ریاست دونوں کے ریوینیو کو توجہ میں رکھنا پڑے گا۔جی ایس ٹی کی شرح کے ناقابل عمل ہونے پر ریوینیو خسارہ بڑھ سکتاہے ۔انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے نافذ ہونے سے معیشت کو رفتار ملے گی ،لیکن اس سے مجموعی گھریلو مصنوعات میں کتنے فیصد کا اضافہ ہوگا یہ ابھی نہیں کہا جاسکتا ،لیکن ماہرین اقتصادیات اور ماہرین نے اس سلسلے میں اندازہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو نافذ کرانے کے لئے سبھی سیاسی پارٹیوں سے بات کی گئی اور ان کے خدشات کو دور کیا گیا ۔بل میں الگ الگ خیالات کو شامل کیا گیا ہے ، لیکن اس سے اس کی اصل روح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT