Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایس ٹی کے نفاذ کے 15 دن ۔ فوائد و نقصانات کا اندازہ مشکل

جی ایس ٹی کے نفاذ کے 15 دن ۔ فوائد و نقصانات کا اندازہ مشکل

ٹیکس دائرہ سے خارج اور شامل اشیا کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ۔ صارفین اعظم ترین قیمتیں ادا کرنے پر مجبور
حیدرآباد۔14جولائی (سیاست نیوز) حکومت ہند نے جی ایس ٹی روشناس کروادیا ہے اور تقریبا 15 کا عرصہ گذر جانے کے باوجود جی ایس ٹی کے فوائد و نقصانات کا اندازہ کیا جانا مشکل نظر آرہا ہے کیونکہ جی ایس ٹی کے متعلق ابھی تک نہ تاجرین پوری طرح واقف ہیں اور نہ ہی تجارتی اداروں کو ٹھوک اشیاء فراہم کرنے والوں کو اس کے متعلق مکمل تفصیلات کا علم ہے۔ حکومت نے دعوی کیا تھا کہ جی ایس ٹی کے نفاذ کے ساتھ ہی 80فیصد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی لیکن ایسانہیں ہوا بلکہ بیشتر اشیاء جن پر محصولات عائد کئے جاتے تھے ان پر اب بھی وہی قیمتیں ہیں جبکہ وہ اشیاء جی ایس ٹی میں محصولات کے زمرہ سے خارج کردی گئی ہیں۔ اسی طرح جن اشیاء کو ان میں شامل کیا گیا ہے ان کی قیمتوں میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ ریٹیل تاجرین کا کہنا ہے کہ اب بھی وہ ویاٹ کے مطابق اشیاء کی آعظم ترین قیمتیں ادا کررہے ہیں اسی لئے قیمتوں میں تبدیلی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ٹھوک بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ جب تک صنعتی اداروں کی جانب سے قیمتوں کا تعین نہیں کیا جاتا اس وقت تک قیمتوں میں تبدیلی ممکن نہیں ہے اسی لئے صنعتکاروں اور تاجرین نے حکومت کو 9ماہ کی مہلت فراہم کرتے ہوئے اس پر عمل آوری کو ممکن بنانے کی سفارش کی تھی لیکن حکومت نے جو فیصلہ لیا اس کے سبب بازار میں موجود آعظم ترین قیمت ثبت اشیاء کی فروخت کو روکا نہیں جا سکتا اور نہ ہی واپس لیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کی فروخت تک وہ اشیاء بازار میں رہیں گی ۔ محتلف ریاستوں میں ویاٹ کا فیصد مختلف ہونے کے سبب اب تک جو صورتحال قیمتوں میں تفاوت کی رہی اس میں فرق نہ آنے کے متعلق کہا جا رہاہے کہ جب تک جی ایس ٹی کے متعلق سب کچھ واضح نہیں ہوجاتا اس وقت تک کوئی قیمتوں کا تعین ممکن نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ہند کی جانب سے کی گئی جلد بازی کے سبب تاجرین اور صنعتکاروں میں جی ایس ٹی کے متعلق شعور نہیں ہے اور عوام بھی ابھی تک اس مسئلہ کو سمجھ نہیں پائے ہیں لیکن بعض سوپر مارکٹس جو عوام سے جی ایس ٹی وصول کر رہے ہیں وہ بھی پرانی قیمتوں پر وصول کیا جا رہا ہے اور مجموعی بل پر وصول کیا جا رہا ہے ۔اشیائے ضروریہ صابن‘ منرل واٹر ‘ نمک ‘ آٹا‘ الکٹرانکس سمینٹ‘ ڈیٹال و دیگر اشیاء کی قیمتیں اب بھی مختلف ریاستو ںمیں مختلف ہیں جس سے یہ واضح ہورا ہے کہ حکومت کی جانب سے نافذ کردہ اس نئے قانون کو کسی نے ابھی تک پوری طرح سے قبول نہیں کیا ہے۔ تجارتی تنظیموں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ جو اشیاء بازاروں میں موجود ہیں انہیں واپس لیا جانا ممکن نہیں ہے اور ان کی قیمتوں کو فوری اثر کے ساتھ تبدیل نہیں کیا جاسکتا اسی لئے 9ماہ نفاذ کیلئے وقت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن حکومت نے اس بنیادی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے جی ایس ٹی فوری اثر کے ساتھ نافذ کردیا جس کے سبب مسائل پیدا ہونے لگے ہیں۔ بعض تاجرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے تعین کے سلسلہ میں ابھی حکومت کی جانب سے کاروائی نہ کئے جانے کے سبب بھی یہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور ان مسائل کے حل کیلئے تمام امور بہتر ہونے کے علاوہ صنعتی اداروں کی جانب سے بازار میں لائے جانے والی اشیاء پر نئی قیمتیں درج کیا جانا ناگزیر ہے ۔

TOPPOPULARRECENT