Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایچ ایم سی انتخابات ،ٹی آر ایس کی شاندار کامیابی کا حقیقی ہیرو

جی ایچ ایم سی انتخابات ،ٹی آر ایس کی شاندار کامیابی کا حقیقی ہیرو

چیف منسٹر اور ان کے فرزند کی محنت ، کے ٹی آر اصلی ہیرو ، اسٹار کمپینئر کی محنت کامیاب
حیدرآباد۔/5فبروری، ( سیاست نیوز) گریٹر انتخابات میں ٹی آر ایس کی شاندار کامیابی کا حقیقی ہیرو کون ہے، کے سی آر یا اُن کے فرزند کے ٹی آر۔ پارٹی قائدین اگرچہ کامیابی کیلئے چیف منسٹر اور ان کے فرزند کو مساوی قرار دے رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصلی ہیرو تو کے ٹی آر ہیں جنہوں  نے پارٹی انتخابی مہم کی کمان سنبھالی تھی۔ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے بعد پارٹی صدر کے چندر شیکھر راؤ نے کے ٹی آر کو انتخابی مہم کی ذمہ داری دی اور وہ پارٹی کے اسٹار کمپینر کی حیثیت سے اُبھرے اور دن رات پارٹی کی مہم چلائی۔ کے ٹی آر نے انتخابی مہم کے دوران تقریباً 100بلدی وارڈز کا احاطہ کیا اور مقامی اپوزیشن قائدین اور سابق کارپوریٹرس کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے میں اُن کا اہم رول رہا۔ کے ٹی آر کی کامیاب حکمت عملی کے نتیجہ میں پارٹی نے سیما آندھرائی آبادی والے علاقوں میں بھی بہتر مظاہرہ کیا ہے۔ کے ٹی آر نے بطور خاص سیما آندھرائی رائے دہندوں کی تائید حاصل کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی تھی اور ان کی کالونیوں میں اجلاس منعقد کرتے ہوئے تلنگانہ میں مساوی انصاف کا یقین دلایا تھا۔ کے ٹی آر کے علاوہ اُن کی بہن کویتا رکن پارلیمنٹ نظام آباد نے بھی انتخابی مہم میں حصہ لیا لیکن پارٹی کی کامیابی کا سہرا کے ٹی آر کے سر جاتا ہے۔ شاندار کامیابی نے کے ٹی آر کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کردیا ہے کیونکہ چیف منسٹر نے انتخابی نتائج کے بعد انہیں بلدی نظم و نسق کا قلمدان حوالے کرنے کا اعلان کیا تاکہ شہر کی ترقی سے متعلق وعدوں کی تکمیل کی جاسکے۔ کے ٹی راما راؤ انتخابی مہم کے دوران عوام کی توجہ کا مرکز رہے۔ تلگو کے علاوہ اردو زبان پر عبور کے باعث انہوں  نے اقلیتی آبادی والے علاقوں میں بھی رائے دہندوں کی تائید حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی اور ان کی تقاریر کو کافی پسند کیا گیا۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گریٹر حیدرآباد کی سیاست میں کے ٹی آر ناقابل تسخیر قائد کے طور پر اُبھرے ہیں اور یہ کے سی آر کے جانشین کی حیثیت سے تیاری کا پہلا قدم ہے۔ پارٹی میں دوسرے نمبر کیلئے دوڑ میں کے ٹی آر نے کویتا اور ہریش راؤ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کے ٹی آر کی دن رات انتخابی مہم اور کامیاب حکمت عملی سے شہر سے تعلق رکھنے والے وزراء اور عوامی نمائندے بھی حیرت زدہ تھے۔ گریٹر انتخابات میں کامیابی کے بعد شہر سے تعلق رکھنے والے وزراء اور عوامی نمائندوں کو کے سی آر کی بجائے کے ٹی آر سے رجوع ہونا پڑیگا۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تلنگانہ ریاست کے چیف منسٹر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنے کیلئے کے سی آر اپنے فرزند کو ابھی سے تیار کررہے ہیں اور یہ نظم و نسق پر کنٹرول سے متعلق پہلا تجربہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT