Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایچ ایم سی انتخابات میں سیاسی قائدین کو کئی مسائل کا سامنا ممکن

جی ایچ ایم سی انتخابات میں سیاسی قائدین کو کئی مسائل کا سامنا ممکن

12 فیصد تحفظات بھی اہم مسئلہ ، پی وی این راؤ فلائی اوور کے نام تبدیلی کا وعدہ بھی بے وفا
حیدرآباد ۔ 6 نومبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں مجوزہ بلدی انتخابات کے دوران کئی مسائل کا سامنا سیاسی جماعتوں میں رہے گا۔ ریاست میں جاری 12 فیصد مسلم تحفظات کی مہم کا بھی سیاسی جماعتوں کیلئے مسئلہ بنا رہے گا۔ حیدرآباد میں ہونے جارہے بلدی انتخابات کے دوران عوام برسراقتدار جماعت اور حلیف جماعت سے اس مسئلہ پر سوال کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں کئی مسائل ایسے ہیں جو کہ برسہابرس سے حل طلب ہے لیکن حکومت کی جانب سے ان مسائل پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ گذشتہ بلدی انتخابات سے قبل شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعت نے جی ایچ ایم سی پر اقتدار حاصل ہونے کی صورت میں مہدی پٹنم تا آرام گڑھ چوراہا تعمیر کئے گئے ایکسپریس وے کے نام کو تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا جوکہ سابق وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ کے نام سے موسوم ہے لیکن بلدیہ پر اقتدار حاصل ہونے کے باوجود اور میعاد کی تکمیل پر بھی اس مسئلہ کا تذکرہ کبھی نہیں کیا گیا۔ یہی نہیں پرانے شہر کے علاقہ ملک پیٹ سے ریس کورس کی منتقلی کا تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے وعدہ کیا تھا لیکن اس وعدہ کی عدم تکمیل کا مسئلہ بھی جی ایچ ایم سی انتخابات میں موضوع بحث بن سکتا ہے۔ اسی طرح چنچلگوڑہ جیل کی منتقلی اور چنچلگوڑہ جیل کی جگہ تعلیمی ادارہ کے قیام کے وعدہ پر بھی حکومت کی جانب سے کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں حکومت کی جانب سے کئے گئے کئی وعدوں پر عدم عمل آوری  کا عوام میں شدید احساس موجود ہے۔ اس احساس کو ختم کرنے کیلئے توقع ہیکہ حکومت کی جانب سے حیدرآباد کیلئے خصوصی پیاکیج کا اعلان کیا جائے گا لیکن پرانے شہر کے عوام کواس بات کا بھی احساس ہے کہ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دورحکومت میں پرانے شہر کیلئے دو ہزار کروڑ کے خصوصی پیاکیج کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اعلان پر مؤثر عمل آوری نہیں ہوپائی ہے۔ تاریخی چارمینار کے اطراف کے علاقوں کو سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دینے کا اعلان کرتے ہوئے منصوبہ جاری کیا گیا تھا لیکن ان منصوبوں پر بھی عمل آوری نہیں ہوئی۔ برسراقتدار جماعت کی جانب سے ازسرنو نئے وعدے کئے جانے کا امکان ہے جبکہ پرانے شہر کے عوام ناقص سڑکوں، کچرے کی عدم نکاسی، بنیادی سہولتو ںکی عدم موجودگی جیسے معمولی مسائل سے بھی پریشان ہیں۔

TOPPOPULARRECENT