Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / جی ایچ ایم سی انتخابات میں شکست کی صورت میں وزارت سے مستعفی ہوجانے کا چیلنج

جی ایچ ایم سی انتخابات میں شکست کی صورت میں وزارت سے مستعفی ہوجانے کا چیلنج

ٹی آر ایس کو 100نشستیں حاصل ہوں گی‘ کے سی آر خود کرشماتی شخصیت ‘ مہم کیلئے اداکاروں کی ضرورت نہیں  :  کے ٹی راما راؤ

حیدرآباد۔11جنوری ( این ایس ایس )  تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے بیٹے اور ریاستی وزیر آئی ٹی و پنچایت راج کے ٹی راما راؤ نے جو 2فبروری کو ہونے والے جی ایچ ایم سی انتخابات کیلئے اپنی پارٹی ٹی آر ایس کی سرگرم مہم چلا رہے ہیں‘آج اعلان کیا کہ ان کی پارٹی کی شکست کی صورت میں وہ اپنے عہدہ سیمستعفی ہوجائیں گے ۔ کے ٹی راما راؤ نے آج یہاں حیدرآباد جرنلسٹس کے زیراہتمام صحافت سے ملاقات پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں ان کی پارٹی کو 150 کے منجملہ 100 حلقوں میں کامیابی حاصل ہوگی ۔ انہوں نے پیش قیاسی کی کہ مجلس کو دوسرا اور بی جے پی کو تیسرا مقام حاصل ہوگا جبکہ کانگریس کو 10نشستیں بھی حاصل نہیں ہوں گی ۔ تلنگانہ اور شہر حیدرآباد کی ترقی میں ناکامی کیلئے انہوں نے ماضی کی حکومتوں پر تنقید کی اور کہا کہ ’’ ہماری پارٹی کا مقصد شہریان حیدرآباد کو بلارکاوٹ برقی ‘ آبرسانی ‘ صحت ‘ تعلیم ‘ بہتر حکمرانی اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد تلنگانہ کا مالیاتی صدر مقام بھی ہے جس کو اب عالمی سرمایہ کاروں کے ایک اہم مرکز میں تبدیل کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت شہر میں انفراسٹرکچر کو بہتر اور صنعتی پالیسی کو سازگار بنارہی ہے ۔ کے ٹی راما راؤ ( کے ٹی آر ) نے کہا کہ حیدرآباد کی ٹریفک میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے 11,000 کروڑ روپئے کے مصارف سے 11 اسکائی ویز اور 54 ’سگنل فری ‘ جنکشن تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ کے ٹی آر نے مزید کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ حیدرآباد کو ایک محفوظ ‘ خوبصورت ‘ صاف ستھرے ‘ سرسبز اور قابل رہائش شہر کی حیثیت سے ترقی دینے سے دلچسپی رکھتے ہیں ۔ انہوں نے شہریوں کو تیقن دیا کہ آؤٹر رنگ روڈ کی آئندہ چھ ماہ میں تکمیل ہوجائے گی ۔ موسیٰ ندی کے کناروں پر کئے گئے ناجائز قبضے ختم کرتے ہوئے دریائی کناروں کی اراضیات کو مرحلہ وار اساس پر فروغ دیا جائے گا ۔ عوام کو روزانہ 24گھنٹے بلا رکاوٹ برقی سربراہی کیلئے 2000 کروڑ روپئے کے سرکاری مصارف سے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ 2500 کروڑ روپئے کے مصارف سے سڑکیں تعمیر کی جارہی ہیں اور 33000 کروڑ روپئے کے مصارف سے فلاحی اسکیموں پر عمل آوری کی جارہی ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حیدرآباد کو ایک عالمی شہر کی حیثیت سے ترقی دینے کیلئے فرقہ وارانہ امن و ہم آہنگی ضروری ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی مزید چند نشستیں جیتنے کیلئے فرقہ وارانہ سیاست کی حوصلہ افزائی کررہی ہے ۔ شہر کی ترقیاتی سرگرمیوں میں عوام کی شمولیت کیلئے ٹی آر ایس  کی جانب سے  حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ۔ میٹرو ریل پراجکٹ کے دوسرے مرحلہ کا 2017ء سے آغاز ہوجائے گا ۔ چھ لاکھ روپئے سالانہ سے کم آمدنی والے غریب خاندانوں کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے گھروں کی تعمیر کی جائے گی ۔ کے ٹی آر نے انکشاف کیا کہ قلب شہر میں سڑکوں کے نٹ ورک کو موثر بنانے کیلئے موسی ٰ ندی کے دہانے پر 42 کلومیٹر طویل فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا اور ہزاروں ایکڑ اراضی کو زیر استعمال لایا جائے گا ۔ ٹی آر ایس کی انتخابی مہم کے بارے میں کے ٹی آر نے کہا ہ ’’ کے سی آر خود تلنگانہ کے ایک پُرکشش اور کرشماتی ہیرو ہیں چنانچہ ہمیں اپنی پارٹی کی مہم چلانے کیلئے کسی فلمی اداکار کی کوئی ضرورت نہیں ‘‘ ۔ ایک سوال پر کے ٹی آر نے جواب دیا کہ انہوں( کے ٹی آر ) نے کبھی بھی چیف منسٹر بننے کا خواب نہیں دیکھا لیکن وہ اپنی موجودہ حیثیت اور عہدہ پر رہتے ہوئے بھی وہ سب کچھ کرنے کے اہل ہیں جس کی عوام ان سے توقع رکھتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT