Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایچ ایم سی حدود میں سربراہی آب کو بہتر بنانے کے اقدامات

جی ایچ ایم سی حدود میں سربراہی آب کو بہتر بنانے کے اقدامات

نئی پائپ لائن کی تنصیب کا کام جاری ، کونسل میں وزیر بلدی نظم و نسق کا بیان
حیدرآباد۔29ڈسمبر (سیاست نیوز) شہر میں پانی کی سربراہی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے نئی پائپ لائن کی تنصیب عمل میںلائی جا رہی ہے۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ نے قانون ساز کونسل میں رکن قانون ساز کونسل مسٹر ایم ایس پربھاکر راؤ کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں سربراہی آب کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ نئی پائپ لائن کی تنصیب کے ذریعہ الوال ‘ کاپرا‘ اپل‘ رامچندراپورم‘ قطب اللہ پور‘ ایل بی نگر‘ گڈی انارم‘ راجندر نگر‘ کوکٹ پلی ‘ شیر لنگم پلی اور پٹن چیرو علاقوں میں پانی کے سربراہی نظام کو بہتر بنایا جا ئے گا۔ اس پروگرام کی تکمیل کیلئے 24ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے اور فروری 2018تک پائپ لائن کی تنصیب کا عمل مکمل کرلیا جائے گا۔شہر کے نواحی علاقوں میں پائپ لائن کی تنصیب کیلئے 1800کروڑ روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں اور جملہ پائپ لائن 2100کیلو میٹر تک نصب کی جا رہی ہے۔ اس پائپ لائن کی تنصیب کے بعد گوداوری ‘ کرشنا اور منجیرا کے پانی کی سربراہی عمل میںلائی جائے گی۔ مسٹر ایم ایس پربھاکر نے حکومت سے استفسار کیا کہ اس پراجکٹ کی تکمیل سے شہر میں کتنے لاکھ عوام کو فائدہ پہنچے گا اور اس پائپ لائن کی تنصیب کے دوران آلودگی کو روکنے کے لئے کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حکومت آلودگی سے پاک پینے کے پانی کی سربراہی کیلئے متعدد اقدامات کررہی ہے اور اس پراجکٹ کی معینہ مدت میں تکمیل کیلئے ہدایت دی جا چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ مشن بھگیریتا کے ذریعہ گھر گھر پانی پہنچانے کے اقدامات میں مصروف ہے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں جہاں اب تک پینے کے پانی کا مناسب سربراہی نظام نہیں تھا ان علاقوں تک اندرون 24ماہ پانی کی سربراہی یقینی بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ شہری حدود میں موجود سیوریج نظام کو بہتر بنانے کے علاوہ عصری ٹکنالوجی سے مین ہول کی صفائی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور بہت جلد حکومت کی جانب سے مین ہول کی صفائی کیلئے عصری سہولتوں کے استعمال کے متعلق اقدامات کئے جائیں گے اور اس کے لئے عصری مشنری کا حصول بھی یقینی بنایا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT