Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایچ ایم سی سے حیدرآباد میں 3100 درختیں کاٹنے کی تیاری

جی ایچ ایم سی سے حیدرآباد میں 3100 درختیں کاٹنے کی تیاری

شجرکاری مہم پر منفی اثر ہوگا ، گرمی اور آلودگی کا بھی خیال نہیں ، عوام اور تنظیموں کی مخالفت
حیدرآباد۔25اپریل(سیاست نیوز) ملک کے شہری علاقوں میں درختوں کی کمی کے باعث آلودگی میں اضافہ کے ساتھ گرمی کی شدت میں اضافہ کی شکایت کی جا رہی ہے اور شہری علاقوں کے عوام کو شجرکاری کی سمت راغب کرنے کیلئے لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہوئے شعور بیداری مہم چلائی جاتی ہے لیکن شہر حیدرآباد میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے3100درختوں کو کاٹنے کی تیاری کی جارہی ہے جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ خود بلدی عملہ شہر کو سرسبز و شاداب رکھنے میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔ محکمہ جنگلات کے قوانین کے مطابق ملک کے کسی بھی خطہ میں محفوظ قرار دیئے گئے جنگلاتی علاقہ کو نقصان پہنچانا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں موجود 3100درختوں کو کاٹنے کیلئے بلدیہ کی جانب سے طلب کی گئی اجازت پر مختلف تنظیموں بالخصوص ماحولیاتی آلودگی کے خلاف سرگرم تنظیموں کی جانب سے شدید رد عمل ظاہر کیا جانے لگا ہے اور بلدیہ کی اس کاروائی کی سخت مذمت کی جا رہی ہے۔ شہری علاقوں میں سہولتوں کی فراہمی کے نام پر درختوں کو کاٹا جانا کسی زمانے میں عام بات ہوا کرتی تھی لیکن اب جبکہ عوام میں شعور بیدار ہو رہا ہے ایسے میں درختوں کو کاٹنے کی بات کرنا بھی عوام میں برہمی پیدا کرنے کے مترادف ہے۔جن 3100درختوں کو کاٹنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ان میں کاسو برہمانند ریڈی نیشنل پارک سابقہ (چریان پیالس) کے کئی درخت شامل ہیں۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس سلسلہ میں فیصلہ کو قطعیت دیدی گئی ہے صرف کاغذی کاروائی باقی ہے جس کی تکمیل کیلئے عہدیدار خوفزدہ ہیں چونکہ انہیں نیشنل پارک کے درختوں کو کاٹنے کی اجازت دینی ہے ‘ جس کی گنجائش کسی بھی صورت میں نہیں ہے لیکن وہ دباؤکے آگے خود کو بے بس تصورکر رہے ہیں۔سوراج ابھیان قائد محترمہ لبنیٰ ثروت نے بلدیہ کے اس فیصلہ کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972کے مطابق کسی بھی نیشنل پارک کو معمولی نقصان پہنچایا جانا بھی جنگلی جانوروں کے تحفظ کیلئے کیئے جانے والے اقدامات کے مغائر ہے۔ کے بی آر پارک جو کہ ریاست تلنگانہ کے 16.62مربع کیلو میٹر نیشنل پارکس میں 1.46مربع کیلو میٹر کا احاطہ کرتا ہے اس کے اطراف بلدیہ کی جانب سے 1300کے قریب درختوں پر نمبراندازی کی گئی ہے جن کے متعلق یہ سمجھا جا رہا ہے کہ انہیں کاٹنے کی اجازت طلب کی گئی ہے ۔کے بی آر پارک نہ صرف جنگلاتی علاقہ ہے بلکہ اس جنگلاتی علاقہ میں بعض ناپید درخت اور جنگلی جانور بھی پائے جاتے ہیں جنہیں درختوں کے کاٹنے سے نقصان پہنچنے کا شدید خطرہ لاحق ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ ان درختوں کو کاٹنے کی اجازت دینے کے بجائے اس جنگلاتی علاقہ کو محفوظ کرنے کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

TOPPOPULARRECENT