Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایچ ایم سی میں 7.9 لاکھ بوگس ووٹرس

جی ایچ ایم سی میں 7.9 لاکھ بوگس ووٹرس

ٹی آر ایس اور مجلس کی ملی بھگت سے وارڈز کی از سر نو حد بندی ، فیروز خاں
حیدرآباد۔/29ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلگودیشم پارٹی نے الزام عائد کیا کہ برسر اقتدار ٹی آر ایس بوگس ووٹرس کے ذریعہ گریٹر حیدرآباد انتخابات میں کامیابی کا منصوبہ بنارہی ہے۔ پارٹی کے قائد محمد فیروز خاں نے الزام عائد کیا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 7.9 لاکھ بوگس ووٹرس کے نام شامل کئے گئے اور ان بوگس ناموں کو ٹی آر ایس اور مجلس کے حق میں استعمال کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کی سازش تیار کی گئی ہے۔انہوں نے حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ 7لاکھ 90ہزار بوگس رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے خارج کرتے ہوئے گریٹر انتخابات کا سامنا کرے۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف بوگس نام شامل کئے گئے بلکہ سیٹلرس کے نام فہرست رائے دہندگان سے خارج کئے گئے۔ فیروز خاں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میں ہر 10واں نام بوگس ہے جس کا ثبوت الیکشن کمیشن کو پیش کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال میں گریٹر حیدرآباد کے آزادانہ و منصفانہ انتخابات پر شبہات کا اظہار کیا اور کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ ہمیشہ شفافیت کے دعوے کرتے ہیں لیکن لاکھوں بوگس ناموں کے ذریعہ گریٹر حیدرآباد چناؤ میں کامیابی کی حکمت عملی ان کے حقیقی چہرہ کو بے نقاب کرتی ہے۔ فیروز خاں نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس اور مقامی سیاسی جماعت کی ملی بھگت کے ذریعہ لاکھوں بوگس نام فہرست رائے دہندگان میں شامل کئے گئے۔ انہوں نے بتایاکہ الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ نے بھی بوگس ناموں کی شمولیت کا نوٹ لیا ہے تاہم مجوزہ انتخابات کے انعقاد کی اجازت دی۔ فیروز خاں نے الزام عائد کیا کہ دونوں جماعتوں کی ملی بھگت کے ذریعہ بلدی وارڈز کی از سر نو حد بندی کی گئی تاکہ انہیں کامیابی حاصل ہو۔ انہوں نے وارڈز کی از سر نو حد بندی کو غیر ضروری قرار دیا اور کہا کہ مذہب کی بنیاد پر رائے دہندگان کو نئے وارڈز میں تقسیم کردیا گیا ہے تاکہ انتخابات میں دونوں جماعتوں کو فائدہ ہو۔ فیروز خاں نے کہا کہ گریٹر انتخابات میں کامیابی کیلئے ٹی آر ایس اور مقامی سیاسی جماعت ہر طرح کے ہتکھنڈے استعمال کررہے ہیں اور وہ تلگودیشم پارٹی کے مضبوط موقف سے خائف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم اور بی جے پی اتحاد بلدی انتخابات میں متاثر کن مظاہرہ کرے گا۔ فیروز خاں نے کہا کہ اسمبلی حلقہ جات  اور بلدی وارڈزکی بنیاد پر اضافہ کئے گئے بوگس ناموں کی تفصیلات کے ساتھ الیکشن کمیشن آف انڈیا سے نمائندگی کی گئی ہے لہذا ان ناموں کے اخراج کے بغیر انتخابات کا انعقاد غیر جمہوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی مرضی کے مطابق بلدی عہدیدار کام کررہے ہیں اور سرکاری مشنری کے استعمال کے ذریعہ بلدیہ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بوگس رائے دہندوں کے اخراج کیلئے قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ فیروز خاں نے بتایا کہ ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے وکیل نے فہرست رائے دہندگان میں بوگس ناموں کی شمولیت کو تسلیم کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT