Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / جی ایچ ایم سی پر ٹی آر ایس کی نظر، کانگریس کشمکش کا شکار

جی ایچ ایم سی پر ٹی آر ایس کی نظر، کانگریس کشمکش کا شکار

تلگودیشم و بی جے پی کی غیر یقینی صورت حال، برسر اقتدار پارٹی کا جوش و خروش
حیدرآباد /16 دسمبر (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے گزشتہ انتخابات میں اپنے کمزور موقف کے سبب مقابلہ نہ کرنے والی ٹی آر ایس مجوزہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں پر قبضہ جمانے کا اعلان کر رہی ہے، جب کہ بلدیہ پر مکمل کنٹرول رکھنے والی کانگریس کشمکش کا شکار ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے لئے حکمراں ٹی آر ایس کے کیڈر میں جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے، جب کہ کانگریس، تلگودیشم اور بی جے پی کے حلقوں میں مایوسی کے علاوہ غیر یقینی صورت حال نظر آرہی ہے۔ تینوں جماعتوں بالخصوص کانگریس اور تلگودیشم کا کونسا قائد پارٹی میں رہے گا اور کون سیاسی وفاداری تبدیل کرکے ٹی آر ایس میں شامل ہو جائے گا؟ اس بات کا اندازہ لگانا قیادتوں کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ ورنگل میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد ٹی آر ایس کے حوصلے بلند ہیں۔ مقامی اداروں کے 12 کے منجملہ 6 کونسل نشستوں پر بلامقابلہ کامیابی کے بعد حکمراں جماعت کا کیڈر سرشار نظر آرہا ہے اور اب مجوزہ جی ایچ ایم سی انتخابات کے پیش نظر ریاستی وزیر آئی ٹی و پنچایت راج کے ٹی آر گریٹر حیدرآباد کے حدود میں کروڑہا روپئے کے ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھ کر عوام کو ٹی آر ایس سے قریب کرنے کا جتن کر رہے ہیں، جب کہ کانگریس اور تلگودیشم و بی جے پی اتحاد کی سرگرمیاں اب تک شروع نہیں ہوئیں۔ جنرل سکریٹری آل انڈیا کانگریس و انچارج تلنگانہ کانگریس امور ڈگ وجے سنگھ نے تلنگانہ کانگریس کے ذمہ داروں کو دہلی طلب کرکے گریٹر حیدرآباد کی انتخابی تیاری اور جلد از جلد ڈیویژنس اور بوتھ لیول کی کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت دی تھی، لیکن اب تک اس پر عمل آوری نہیں ہوئی۔ تلگودیشم اور بی جے پی نے 17 دسمبر کو ایک اجلاس طلب کیا ہے، جس میں مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنے کا امکان ہے، خاص طورپر کانگریس، تلگودیشم اور بی جے پی حلقوں میں اہم قائدین کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے بعد دوسرے اور تیسرے درجہ کے قائدین اپنے سیاسی مستقبل کے لئے فکرمند ہیں، جب کہ انھیں بھی ٹی آر ایس میں شمولیت کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT