Thursday , August 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / جی چاہے نہ چاہے، حکم کی تعمیل ضروری ہے

جی چاہے نہ چاہے، حکم کی تعمیل ضروری ہے

یہ ایک حقیقت ہے کہ احکام الہی کی تعمیل میں نفس مخالفت کرتا ہے اور طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ مختلف بہانے عدم تعمیل کے تراشتی ہے، کبھی سستی اور کسل مندی کا بہانہ، کبھی وقت کی تنگی کا بہانہ، کبھی کسی مصروفیت کا بہانہ، کبھی مزاج کی ناسازی کا بہانہ، کبھی موسم کی خرابی کا بہانہ اور کبھی موڈ نہ بننے کا بہانہ وغیرہ وغیرہ۔ نفس کے ہر بہانے کو نظرانداز کرکے حکم الہی کو بجالانے کا نام ’’صبر فی الاطاعت‘‘ ہے، جس سے مراد اطاعت میں استقامت ہے۔ دل جمعی نہیں ہو رہی ہے، موڈ نہیں بن رہا ہے، مزا نہیں آرہا ہے، اس لئے نماز چھوڑدی۔ یہ کیا بات ہوئی۔ موڈ ہو نہ ہو، مزا آئے نہ آئے، نماز بہرحال پڑھنی ہے۔ مزا اور لذت مطلوب نہیں، بلکہ تعمیل حکم مطلوب ہے۔ حکم بہرحال حکم ہے، لہذا تمام احکام میں اس نکتے کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ جی چاہے نہ چاہے، لیکن حکم کی تعمیل ضروری ہے۔ آپ نے ایک ملازم رکھا اور اس کے کچھ فرائض مقرر کردیئے کہ تجھے یہ یہ کام کرنا ہے۔ وہ اگر کہے کہ اس وقت کام کرنے کو جی نہیں چاہ رہا ہے یا کہے کہ میرا کام کرنے کا موڈ نہیں بن رہا ہے، میں اس وقت یہ کام نہیں کرسکتا، تو بتائیے: کیا آپ اس کا یہ عذر اور انکار برداشت کریں گے؟۔ یہی معاملہ اللہ تعالی اور اس کے بندے کا ہے۔
جب بندہ اللہ تعالی کی اطاعت کرتا ہے تو دنیا کی ہر چیز اس کی اطاعت کرتی ہے اور جب وہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرتا ہے تو دنیا کی ہرچیز اس کی نافرمان ہو جاتی ہے۔ یہ اطاعت ذوق و شوق کے ساتھ کھلے دل سے ہونا چاہئے، کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کی جائے۔ اللہ تعالی کی اطاعت تنگ دلی سے یا بے دلی سے کرنا منافقین کی روش ہے، جو لوگوں کو دکھانے کے لئے بے دلی کے ساتھ احکام الہی کی تعمیل کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سزا دینے والا ہے انھیں (اس دھوکہ بازی کی) اور جب یہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو کسمساتے ہوئے لوگوں کو دکھانے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں، خدا کو تو بس کم ہی یاد کرتے ہیں‘‘ (سورۃ النساء۔۱۴۲) پھر آگے ان منافقین کے بارے میں فرمایا: ’’یقین جانو کہ منافقین دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے اور تم ان کا کوئی مددگار نہ پاؤ گے‘‘۔ (سورۃ النساء۔۱۴۵)
اسی طرح سورۂ توبہ میں فرمایا: ’’نماز کے لئے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں اور راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو بادل نخواستہ کرتے ہیں، ان کے مال و دولت اور اولاد کی کثرت کو دیکھ کر (مسلمانو!) تم دھوکہ نہ کھاؤ۔ اللہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں کے ذریعہ سے ہی دنیا کی زندگی میں یہ مبتلائے عذاب ہوں اور مریں بھی تو انکار حق ہی کی حالت میں مریں‘‘۔ (سورۂ توبہ۔۵۴،۵۵)
اللہ کے طاعت گزار بندوں کی روح کو مرنے کے بعد فرشتے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں اور ان کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جو فرشتے اس روح کا استقبال کرتے ہیں، وہ مرحبا اور خوش آمدید کہتے ہیں اور جب اس فرماں بردار بندے کی روح اللہ تعالی کے سامنے پیش کی جاتی ہے تو باری تعالی اپنے فضل و کرم سے سرفراز فرماکر حکم دیتا ہے کہ ہمارے اس بندے کی روح کو اعلیٰ علیین میں رکھو۔ اگرچہ اس بندے کا تعلق قبر سے قائم رہتا ہے، کیونکہ وہ مٹی سے بنا ہے اور مٹی ہی سے اٹھایا جائے گا، لیکن اس کی روح اعلی علیین میں رہتی ہے، جو پاک روحوں کا اعلی ترین مقام ہے۔

اس کے برخلاف جو بندہ اللہ تعالی کا نافرمان ہوتا ہے، اس کی روح کو لے کر جب فرشتے آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں تو جو فرشتہ بھی ملتا ہے، وہ پوچھتا ہے کہ یہ کس خبیث کی روح ہے؟۔ روح کو لے جانے والے فرشتے اس کا نام اور ولدیت بتاتے ہیں، اس کے لئے آسمانوں کے دروازے نہیں کھولے جاتے اور حکم ہوتا ہے کہ اسے نیچے اسفل السافلین میں پھینک دو، جو دوزخ کا سب سے نچلا طبقہ ہے۔ چنانچہ اس بندے کی روح حشر تک سجین میں قید رہتی ہے۔ یقیناً بندۂ مؤمن کو اللہ تعالی کی نافرمانی سے بچنا، اس کے احکام کی تعمیل استقامت کے ساتھ بطیب خاطر خوش دلی سے کرتے رہنا اور اس اطاعت پر صبر و استقامت سے کام لینا چاہئے، تاکہ مرنے کے بعد بندۂ مؤمن کی روح علیین میں امن و عافیت کے ساتھ رہ سکے۔ یہی صبر فی الاطاعت ہے، جو صبر کا دوسرا موقع ہے۔
اسی طرح صبر کا ایک موقع ’’صبر فی المشیت‘‘ ہے۔ مشیت کے معنی ہیں ’’چاہت‘‘ یا ’’ارادہ‘‘۔ آپ جب کسی کام کا ارادہ کرتے ہیں تو اس سے کوئی مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ پہلے اس کے کچھ اسباب فراہم کریں گے، اس کام کے کچھ ضروری تقاضے پورے کریں گے اور اس سلسلے میں اپنی سی جدوجہد کریں گے، اس کے بعد جب آپ اپنا مقصد حاصل کرلیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ’’میں نے کوشش کی اور کامیاب ہو گیا‘‘۔ لیکن دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے اور ہوتی رہتی ہے کہ جدوجہد کرنے، اسباب فراہم کرنے اور ضرورتی تقاضوں کو پورا کرنے کے باوجود آپ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے اور آپ کو آپ کا ہدف حاصل نہیں ہوتا۔ آخر کیوں؟ کیا رکاوٹ پیش آگئی؟۔ اس وقت آپ سوچتے ہیں کہ اگر یوں کرلیتا تو اچھا ہوتا اور یوں کرلیتا تو شاید میرا کام بن جاتا وغیرہ۔ سوال یہ ہے کہ ہر ممکن جدوجہد کے بعد بھی آپ ناکام کیوں ہو گئے؟ آخر کس چیز نے آپ کو ناکام و نامراد کردیا؟۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’اگر تمھیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں یوں کرلیتا تو ایسا نہ ہوتا اور اگر یوں کرلیتا تو ایسا ہو جاتا، بلکہ یہ کہو کہ اللہ تعالی کی تقدیر اور مشیت یہی تھی، جو اللہ تعالی نے چاہا وہ ہوا، اس لئے کہ لفظ ’’اگر‘‘ شیطان کے عمل کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ (اقتباس) (باقی تسلسل آئندہ)

TOPPOPULARRECENT