Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / جی ۔ 20 چوٹی کانفرنس کے دوران ہیمبرگ میں تشدد

جی ۔ 20 چوٹی کانفرنس کے دوران ہیمبرگ میں تشدد

پولیس اور مظاہرین کے درمیان تیسری رات بھی پرتشدد جھڑپیں
ہیمبرگ ۔ /9 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) جرمن شہر ہیمبرگ میں جی ۔ 20 چوٹی کانفرنس کے اختتام کے موقع پر سرمایہ دارانہ نظام اور عالمگیریت کے مخالفین کی سخت احتجاج کے سبب جھڑپیں جاری رہیں ۔ پولیس نے کہا کہ مظاہرین نے کئی گاریوں کو نذر آتش کردیا ۔ احتجاجیوں کی کثیر تعداد آج چوٹی کانفرنس کے اختتام کے بعد شنزن ضلع میں جمع ہوئی ۔ اس علاقہ کو بائیں بازو کے سخت گیر انتہاپسندوں کا طاقتور گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ جہاں جمعرات کو جی ۔ 20 چوٹی کانفرنس کے آغاز کے بعد سے تاحال کئی جھڑپیں ہوئی ہیں ۔ احتجاجیوں نے جو کانچ کی بوتلیں تھامے ہوئے تھے کئی گاڑیوں کو حملوں کا نشانہ بنایا ۔ متعدد گاڑیوں کو آگ لگادی گئی ۔ پولیس نے ٹوئٹر پر لکھا کہ تشدد میں ملوث احتجاجیوں کو اشک آور گیس اور آبی پچھکاریوں کے ذریعہ پیچھے ڈھکیل دیا گیا ۔ پولیس نے کہا کہ ان جھڑپوں میں متعدد پولیس افسران زخمی ہوئے ہیں اور کئی احتجاجیوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ پولیس کی طرف سے گزشتہ روز جاری کردہ اعداد کے مطابق جمعرات سے تاحال 213 پولیس افسران زخمی ہوئے ہیں ۔ 143 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ۔ لیکن زخمی ہونے والے احتجاجیوں کی صحیح تعداد کا علم نہیں ہوسکا ہے ۔ گلوبلائیزیشن (نظام عالمگیریت) کے خلاف جمعرات کو منظم کردہ پرامن احتجاج میں 12000 افراد نے حصہ لیا تھا اور یہ احتجاج پرتشدد موڑ اختیار کرگیا تھا ۔ جمعہ کو دنیا کے 20 ترقی یافتہ ممالک اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے سربراہان کی آمد کے موقع پر جھڑپیں ہوئی ہیں ۔ جی ۔ 20 کی دو روزہ چوٹی کانفرنس میں تجارت ،دہشت گردی ، ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر عالمی مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی تھی ۔ ہیمبرگ اور مصروف ترین بندرگاہ کا شہر ہونے کے ساتھ بائیں بازو کے شدت پسندوں کا طاقتور گڑھ بھی ہے اور حکام کو اندیشہ تھا کہ چوٹی کانفرنس کے دوران پرتشدد احتجاج کیا جاسکتا ہے ۔ مظاہرین نے عالمگیریت نظام اور سرمایہ داری کے خلاف احتجاج کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT