Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / جے این یو تنازعہ، مجسٹریل تحقیقات میں کنہیا کمار کو کلین چٹ

جے این یو تنازعہ، مجسٹریل تحقیقات میں کنہیا کمار کو کلین چٹ

عمر خالد پروگرام کا اصل آرگنائزر، افضل گرو اور کشمیر کے بارے میں رائے سے سب واقف
نئی دہلی 3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ مجسٹریل تحقیقات میں جے این یو لیڈرکنہیا کمار کے یونیورسٹی کے متنازعہ پروگرام میں مخالف ہند نعرے بلند کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ پولیس نے کنہیا کمار کے خلاف انہی الزامات پر ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کیمپس میں مخالف قوم نعرے بلند کئے گئے اور جے این یو انتظامیہ نے پہلے ہی چند چہروں کی شناخت کرلی ہے جنھیں واضح طور پر نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا۔ تحقیقات پیانل نے کہاکہ اِن کے ٹھکانوں کا پتہ چلاتے ہوئے اُن کے رول کی تحقیقات کی جانی چاہئے۔ رپورٹ کے مطابق کنہیا کمار کے خلاف ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ اِس کے علاوہ ایسی کوئی شہادت یا ویڈیو دستیاب نہیں ہوا جو اِن الزامات کی تائید کرتا ہو۔ کنہیا کمار کو اِس مقدمہ میں دہلی ہائیکورٹ نے کل 6 ماہ کے لئے عبوری ضمانت منظور کی۔ رپورٹ کے مطابق جے این یو کیمپس میں 9 فروری کو افضل گرو کو پھانسی کے خلاف بطور احتجاج منعقدہ پروگرام کی 7 ویڈیوز حیدرآباد میں واقع فارنسک لیاب روانہ کی گئی ہیں۔ اِن میں تین ویڈیوز میں اُلٹ پھیر کا پتہ چلا جن میں ایک نیوز چیانل کی کلپنگ بھی شامل ہے۔ نئی دہلی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سنجے کمار کی زیرقیادت مجسٹریل تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ عمر خالد کو کئی ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے اور کشمیر کے علاوہ افضل گرو کو اُن کی تائید سے سب واقف ہیں۔ وہ اِس پروگرام کا آرگنائزر تھا

اور اُس کے رول کی مزید تحقیقات کی جانی چاہئے۔ عمر خالد اور جے این یو کے ایک اور طالب علم انیربن بھٹاچاریہ نے 24 فروری کی شب دہلی پولیس کے روبرو خودسپردگی اختیار کی۔ اُنھیں فوری ملک سے غداری کے الزام پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔ پولیس نے جے این یو کے ایک اور طالب علم اشوتوش کمار سے اب تک دو مرتبہ پوچھ تاچھ کی ہے۔ دہلی حکومت نے کنہیا کمار کے خلاف ملک سے غداری کے الزامات اور گرفتاری پر عوامی برہمی کے پیش نظر 13 فروری کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ رپورٹ میں جے این یو سکیوریٹی اسٹاف کے چند افراد کے دعوؤں کا بھی حوالہ دیا گیا کہ ممکن ہے عمر خالد، انیربن اور اشوتوش نے افضل گرو کو پھانسی اور کشمیر پر احتجاج کرتے ہوئے نعرے لگائے ہوں۔ عمر خالد اِس پروگرام کا اصل آرگنائزر تھا اور کشمیر کے علاوہ افضل گرو کے بارے میں عمر خالد کی رائے سے سب واقف ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ ماضی میں بھی اِس طرح کے کئی پروگرامس منعقد کرچکا تھا۔ اِن ویڈیوز میں کئی بیرونی افراد کو بھی جن کا تعلق کشمیر سے ہے اور جو اپنے چہروں پر نقاب لگائے ہوئے تھے، مخالف ہند اور موافق افضل گرو نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہنشاندہی کرتے ہوئے ان کے رول کی تحقیقات کی جانی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT