Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / جے این یو تنازعہ ‘ مزید 5 طلبا کے تعلق سے پولیس کا محتاط رویہ

جے این یو تنازعہ ‘ مزید 5 طلبا کے تعلق سے پولیس کا محتاط رویہ

تحقیقات میں تعاون کرنے کمشنر پولیس کی اپیل ‘ گرفتاری کیلئے تیار رہنے طلبا کا اعلان
سرینگر 22 فبروری  ( سیاست ڈاٹ کام ) جے این یو تنازعہ سے نمٹنے پر تنقیدوں کا سامنا کرنے والی دہلی پولیس نے اب یونیورسٹی کے پانچ مزید طلبا کے تعلق سے محتاط رویہ اختیار کیا ہوا ہے ۔ ان طلبا پر بھی غداری کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ طلبا کا کہنا ہے کہ وہ گرفتار ہونے کیلئے تیار ہیں جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ ابھی اس تعلق سے شش و پنچ میں مبتلا ہے کہ انہیں نفاذ قانون کی ایجنسیوں کے سامنے خود سپرد ہونے کی ہدایت دی جائے یا نہیں۔ طلبا نے تاہم کہا کہ وہ خود سپرد نہیں ہونگے کیونکہ ان کے خلاف جو الزامات عائد کئے گئے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔ یہ طلبا کل کیمپس میں دکھائی دئے تھے ۔ کمشنر پولیس دہلی بی ایس بسی نے طلبا سے کہا کہ وہ تحقیقات کا حصہ بنیں اور اپنی بے گناہی ثابت کریں۔ جے این یو کے اعلی عہدیداروں کا ایک اجلاس وائس چانسلر جگدیش کمار کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پانچ طلبا کی واپسی پر تبادلہ خیال کیا ۔ یہ لوگ گذشتہ 10 سے روپوش تھے ۔ اجلاس میں تاہم ان کے تعلق سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکا ہے ۔ پانچ طلبا میں عمر خالد ‘ اے بھٹا چاریہ ‘ جے این یو طلبا تنظیم کے جنرل سکریٹری راما ناگا ‘ آشوتوش کمار اور اننت پرکاش شامل ہیں۔ یہ لوگ 12 فبروری سے کیمپس سے لاپتہ تھے جب کنہیا کمار کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ ان تمام پر ایک تقریب کے دوران مخالف ہند نعرے لگانے کا الزام ہے ۔ وائس چانسلر نے تقریبا 300 طلبا کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی جنہوں نے چار مطالبات پیش کئے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ یونیورسٹی کے رجسٹرار بھوپیندر زتشی کو معطل کیا جائے جو اس مسئلہ سے بہتر انداز میں نمٹ نہیں سکے ہیں۔ طلبا نے وائس چانسلر سے ملاقات نہیں کی تاہم طلبا تنظیم نے انہیں ایک یادداشت پیش کی اور ان سے اپیل کی کہ وہ پولیس سے مسئلہ رجوع کریں تاکہ ان کے خلاف غداری کے الزامات کو حذف کیا جاسکے ۔ جنرل سکریٹری ناگا نے کہا کہ پولیس نے ابھی تک طلبا کو کوئی سمن جاری نہیں کیا ہے ۔ ہم اس لئے روپوش تھے کیونکہ ہمیں اندیشہ تھا کہ ہجوم کی صورت میں حملہ کرکے ہمیں ختم کردیا جائیگا کیونکہ کنہیا پر عدالت میں بھی حملہ ہوا تھا ۔ ہم گرفتار ہونے تیار ہیں لیکن ہم خود سپرد نہیں ہونگے ۔ ناگا نے کہا کہ انہیں اس لئے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ دلت ہیں۔ بات صرف افضل گرو کی نہیں ہے بلکہ بات امبیڈکر کی ہے ۔ قبل ازیں کمشنر بسی نے دہلی لے لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ سے ملاقات کرکے انہیں اس تنازعہ کے تعلق سے واقف کروایا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT