Saturday , October 21 2017
Home / ہندوستان / جے این یو تنازعہ پر حقوق انسانی کمیشن کی مداخلت

جے این یو تنازعہ پر حقوق انسانی کمیشن کی مداخلت

مرکز، حکومت دہلی اور پولیس، یونیورسٹی حکام کو نوٹسوں کی اجرائی
نئی دہلی ۔ 17 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) قومی حقوق انسانی کمیشن نے پارلیمنٹ پرحملہ آور افضل گرو کی برسی کے موقع پر جواہر لال نہرو یونیورسٹی کیمپس میں احتجاجی مظاہرہ کے معاملہ میں پولیس کی کارروائی پر مرکزی اور دہلی حکومت ، دہلی پولیس اور یونیورسٹی حکام کو نوٹ سیں جاری کی ہیں۔ حقوق انسانی کمیشن نے میڈیا میں شائع ان رپورٹس پر کی افضل گرو کی برسی کے اجتماع میں قوم دشمنی نعرے بلند کئے گئے، جس کے نتیجہ میں جے این یو اسٹوڈنٹس یونین صدر کنہیا کمار کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کرلیا ۔از خود کارروائی کرتے ہوئے یہ نوٹسیں جاری کی ہے ں۔ تاہم صدر یونین کنہیا کمار نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ وہ دو گروپس میں تصادم سے  باز رکھنے سے وہاں گئے تھے، بتایا جاتا ہے کہ پولیس یونیورسٹی کیمپس میں اندھا دھند گشت کر رہی ہے اور بے قصور طلباء کا تعاقب کر کے پکڑ رہی ہے۔ یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے  کہ پولیس کی کارروائی غیر قانونی حد سے زیادہ ہے  جو کہ اظہار خیال کی آزادی کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ اختلاف رائے ظاہر کرنے والوں کو خوفزدہ کرنے کیلئے بغاوت کے الزامات عائد کئے گئے ہیں ۔ حقوق انسانی کمیشن نے مرکزی معتمد داخلہ چیف سکریٹری حکومت دہلی اور پولیس کمشنر دہلی اور رجسٹرار جے این یو کو نوٹسیں جاری کرتے ہوئے اندرون دو ہفتے وضاحت طلب کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT