Thursday , July 27 2017
Home / Top Stories / جے این یو طالبعلم نجیب کے بارے میں فیصلہ کن جواب چاہئیے

جے این یو طالبعلم نجیب کے بارے میں فیصلہ کن جواب چاہئیے

New Delhi: Missing JNU student Najeeb's mother and sister participate in a protest march against ABVP in New Delhi on Saturday. PTI Photo by Vijay Verma (PTI3_4_2017_000244B)

اگر موت واقع ہوگئی ہے تو بتائیں ، دہلی پولیس کی صرف رسمی کارروائی ، ہائیکورٹ کے سخت ریمارکس

نئی دہلی ۔ /16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج جے این یو طالبعلم نجیب احمد کے گزشتہ پانچ ماہ سے لاپتہ ہونے کے بارے میں دہلی پولیس کو واضح اور فیصلہ کن جواب دینے کی ہدایت دی ۔ عدالت کا یہ احساس تھا کہ کاغذی کارروائیوں کے علاوہ اس معاملے میں اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ جسٹس جی ایس سستانی اور جسٹس ونود گوئل پر مشتمل بنچ نے ڈی سی پی (کرائم) رام گوپال نائک سے سخت الفاظ میں کہا کہ طالبعلم کا پتہ چلانے کیلئے ’’آپ جو کچھ کرسکتے ہیں وہ کیجئے ‘‘ یہ طالبعلم گزشتہ سال /15 اکٹوبر کو لاپتہ ہوگیا تھا ۔ بنچ نے کہا کہ ہم اس معاملے میں بالکل سیدھا اور واضح جواب چاہتے ہیں ۔ اگر طالبعلم کی موت ہوگئی ہے تو یہ کہا جائے کہ وہ مرچکا ہے ۔ ہم صرف کاغذی امور کو قبول نہیں کریں گے ۔ آپ کو جو کچھ کرنا ہے کیجئے اور طالبعلم کا پتہ لگائیے ۔ عدالت نے خبردار کیا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں یہاں آپ کے بجائے کوئی اور ہوگا ۔ عدالت کا یہ کہنا تھا کہ کاغذی کارروائیوں سے ہٹ کر اس معاملے میں کچھ نہیں ہورہا ہے ۔ آپ کے تحقیقاتی عہدیدار وقت ضائع کررہے ہیں ۔ دہلی ۔ بریلی ۔ ہردوار کے راستے میں پولیس اسٹیشن اور ہاسپٹلس کا ریکارڈ چیک کرتے ہوئے آپ صرف عوامی دولت ضائع کررہے ہیں ۔

عدالت نے دہلی پولیس کو ان 9طلباء کے کال ریکارڈس حوالے کرنے کی ہدایت دی جن کے بارے میں نجیب احمد کے لاپتہ ہونے کے پس پردہ ملوث ہونے کا شبہ ہے ۔ عدالت نے نجیب کی والدہ کی دائر کردہ درخواست کی سماعت /31 مارچ کو مقرر کی ہے ۔ عدالت کے یہ سخت ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب پلوی شرما ایڈوکیٹ نے نجیب کی والدہ کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ طالبعلم کا پتہ چلانے کیلئے دہلی پولیس کے اقدامات صرف ایک رسمی کارروائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں اب تک سنجیدہ طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس ان 9 طلباء کو بچانے کی کوشش کررہی ہے جو اس مقدمہ میں مشتبہ ہیں اورانہیں نجیب کے تعلق سے معلومات ہوسکتی ہیں ۔ پولیس ان کی تفتیش نہیں کررہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے بھی ان طلباء کے پولی گراف ٹسٹ کے بارے میں منصوبہ بنایا تھا لیکن کئی درخواستیں داخل کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کو اس مسئلہ پر فیصلہ کا اختیار نہیں ہے ۔ ٹرائل کورٹ امکان ہے کہ طلباء کی درخواستوں پر /20 مارچ کو فیصلہ سنائے گی ۔ پلوی شرما نے کہا کہ نجیب کے کمرے میں رہنے والے ایک ساتھی نے پولی گراف ٹسٹ کیلئے رضامندی ظاہر کی ہے ۔ انہوں نے پولیس کمشنر کو یہ ہدایت دینے کی عدالت سے خواہش کی کہ وہ نجیب کا پتہ چلانے کیلئے اب تک کے اقدامات پر حلف نامہ داخل کریں لیکن عدالت نے ایسا کرنے سے انکار کیا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT