Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / جے این یو طلباء عمر خالد اور انیروبین کی عبوری ضمانت منظور

جے این یو طلباء عمر خالد اور انیروبین کی عبوری ضمانت منظور

ضمانت پر یونیورسٹی میں ہولی ، آمریت کے خلاف راست جنگ : کنہیا کمار
نئی دہلی۔/18مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) جواہر لعل یونیورسٹی کے طلباء عمر خالد اور انیروبین بھٹا چاریہ کو جنہیں گذشتہ ماہ یونیورسٹی کیمپس میں قوم دشمن نعرے بلند کرنے کے الزامات کا سامنا ہے ،دہلی کی عدالت نے آج ان طلباء کیلئے عبوری ضمانت منظور کردیا۔ عدالت نے کہا کہ صدر جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کنہیا کمار کی رہائی کیلئے اختیار کردہ قواعد (رول ) دیگر دو طلباء کیلئے مختلف نہیں ہوسکتے کیونکہ ان کے خلاف یکساں نوعیت کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ ایڈیشنل سیشن جج رتیش سنگھ نے 25 ہزار روپئے کے شخصی مچلکوں اور اسی رقم کے مماثل ایک ضمانت کی تکمیل پر مذکورہ 2طلباء کی رہائی کی اجازت دے دی اور عدالت کے احکامات کے مطابق یہ دونوں 19ڈسمبر تک قید سے آزاد رہیں گے۔ جے این یو، سنٹر فار ہسٹاریکل اسٹڈیز کے 2اساتذہ سنگیتا داس گپتا اور رجت دتہ نے انیروبین اور عمر کیلئے اپنی ضمانت پیش کی۔ درخواست ضمانت کی یکسوئی کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اگرچیکہ عمر اور انیربین کے خلاف الزامات سنگین نوعیت کے ہیں لیکن پولیس کے پیش کردہ دعوے، واقعہ سے متعلق ویڈیو فوٹیج کی اصلیت کا پتہ چلانے کیلئے فارنسک سائینس لیباریٹری روانہ کئے گئے ہیں جس کی قطعی رپورٹ موصول ہونے میں خاطر خواہ وقت درکار ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ واقعات اور ثبوتوں کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ ملزمین کا سابق میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے

اور یہ اندیشہ غیر ضروری ہے کہ انہیں ضمانت پر رہا کردینے سے راہ فرار اختیارکرسکتے ہیں اور جن قواعد اور اُصولوں کی بنیاد پر صدر اسٹوڈنٹس یونین کنہیا کمار کو ضمانت پر رہا کیا گیا اسی خطوط پر نیربین اور عمر خالد کو6ماہ کیلئے عبوری ضمانت منظور کی جارہی ہے۔ عدالت نے دونوں طلباء کو ہدایت دی ہے کہ بغیر اجازت دہلی سے باہر نہ جائیں۔ تحقیقاتی عہدیدار طلب کرنے پر حاضر ہوجائیں۔ عدالت نے 12صفحات پر مشتمل حکمنامہ میں کہا کہ ہائیکورٹ کی جانب سے شریک ملزم کنہیا کمار کی درخواست ضمانت کی منظوری کو ملحوظ رکھتے ہوئے عمر اور انیروبین کو یہ راحت فراہم کی گئی ہے۔

تاہم پولیس نے درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے یہ استدلال پیش کیا کہ دونوں ملزمین کا کیس کنہیا کمار سے بالکل جداگانہ ہے۔ صدر اسٹوڈنٹس یونین کا یونیورسٹی کیمپس میں منعقدہ پروگرام سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ جبکہ 10عینی شاہدین نے یہ گواہی دی ہے کہ انیروبین اور عمر خالد نے مذکورہ پروگرام میں قوم دشمن نعرے بلند کئے ۔ علاوہ ازیں ایک پوسٹر سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ متنازعہ پروگرام کے دو طلباء منتظمین تھے۔واضح رہے کہ پارلیمنٹ پر حملہ آور افضل گرو کی برسی کے موقع پر منعقدہ پروگرام میں انیروبین اور عمر خالد نے سرگرم رول ادا کرنے کا شبہ ہے اور قوم دشمن نعرے لگانے والے بیرونی افراد سے وہ بخوبی واقف ہیں۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ کی کثیرتعداد نے عمر خالد اور انیربن کی 6 ماہ کیلئے عبوری ضمانت کی خبر پر یونیورسٹی کے احاطہ میں رنگ کھیلتے ہوئے ہولی کی تقریب منائی ۔ دریں اثناء طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار نے اعلان کیا کہ وہ آمریت کے خلاف راست جنگ کریں گے کیونکہ ملک گیر سطح پر یہ حکومت یونیورسٹیوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنارہی ہے اور چاہتی ہے کہ تمام جمہوری طاقتیں اُس کی تائید کریں ۔ بصورت دیگر اُنھیں وطن دشمن اور قوم دشمن قرار دیا جارہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT