Thursday , October 19 2017
Home / ہندوستان / جے این یو طلباء کی بھوک ہڑتال غیر قانونی

جے این یو طلباء کی بھوک ہڑتال غیر قانونی

مطالبات کی یکسوئی کیلئے مذاکرات کا مشورہ
نئی دہلی ۔ 4 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) جواہر لال یونیورسٹی کے وائس چانسلر جگدیش کمار نے آج 9 فروری کے واقعہ کے سلسلہ میں یونیورسٹی کی تادیبی کارروائی کے خلاف طلباء کی جاریہ غیر معینہ بھوک ہڑتال کو غیر قانونی سرگرمیوں سے تعبیر کیا اور یہ مشورہ دیا کہ اپنے مطالبات کی یکسوئی کیلئے دستوری ذرائع کو بروئے کار لاسکتے ہیں۔ طلباء کے دو گروپس نے ایک قابل اعتراض پروگرام کے سلسلہ میں سزا دینے کے خلاف احتجاجی ہڑتال شروع کردی ہے جس میں مبینہ طورپر قوم دشمن نعرے بلند کئے گئے تھے ۔ یہ بھوک ہڑتال آج ساتویں دن میں داخل ہوگئی ہے جبکہ صدر جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کنہیا کمار نے کل بلڈ پریشر گراوٹ کی شکایت کی ہے اور اے بی وی پی کے وروب شرما جنہوں نے افضل گرو واقعہ کی شکایت درج کروائی تھی ، گلوکوز کی سطح میں کمی پر انہیں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس سے رجوع کردیا گیا ہے ۔ وائس چانسلر نے طلباء سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھوک ہڑتال ایک  غیر قانونی سرگرمی ہے اور احتجاج کا ایک مضرت رساں طریقہ ہے جس کے نتیجہ میں طلباء کی صحت اور کیریئر (مستقبل) متاثر ہوسکتا ہے۔ لہذا طلباء اپنے مطالبات کو پیش کرنے کیلئے دستوری ذرائع استعمال کرسکتے ہیں۔ پروفیسر جگدیش کمار نے کہا کہ انتظامیہ کا یہ ایقان ہے کہ کسی بھی مسئلہ کا حل مذاکرات اور مشاورت کے ذریعہ تلاش کیا جاسکتا ہے اور طلباء کو چاہئے کہ فی الفور ہڑتال سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے مذاکرات کیلئے پہل کریں جس پر اے بی وی پی نے کہا کہ وائس چانسلر سے ملاقات کیلئے آمادہ ہیں جبکہ دوسرے احتجاجی گروپ نے کہا کہ اس طرح کی ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ انتظامیہ کی اپ یل کو دھمکی آمیز بیان سے تعبیر کیا ۔

TOPPOPULARRECENT