Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / جے این یو میں ہند مخالف نعرہ بازی 4ویڈیو کلپس حقیقی ہونے کی تصدیق

جے این یو میں ہند مخالف نعرہ بازی 4ویڈیو کلپس حقیقی ہونے کی تصدیق

نئی دہلی۔/17مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں 9فبروری کو منعقدہ متنازعہ واقعہ کے 4ویڈیو کلپنگ کا فارنسک سائینس لیباریٹری گاندھی نگر میں تجزیہ کے بعد اس کے حقیقی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم ویڈیو کلپس کے ایک اور سیٹ کی رپورٹ کا انتظار ہے جس میں ایک ویڈیو کو بعض نیوز چیانلوں پر نشر کیا گیا تھا۔ شبہ ہے کہ یہ فرضی اور بناوٹی ہیں تجزیہ کیلئے سی بی آئی کی سنٹرل فارنسک سائینس لیباریٹری کو روانہ کردیا گیا ۔ اسپیشل پولیس کمشنر ( اسپیشل سیل ) ارونددیپ نے بتایا ہے کہ4ویڈیو کلپس کی رپورٹ گاندھی نگر لیباریٹری سے موصول ہوگئی ہیں جو کہ حقیقی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے تاہم دیگر کلپس کی جانچ سی ایف ایس ایل میں جاری ہے۔ ان ویڈیو کلپس میں سے ایک کو ہندی نیوز چیانل کے کیمرہ سے ریکارڈ کیا گیا اور دیگر ویڈیو ز کو سیکوریٹی گارڈس اور دیگر طلباء کے موبائیل فونس کے ذریعہ ریکارڈ کیا گیا جو کہ کیمپس میں 9فبروری کے واقعہ میں بلند کئے گئے ہند مخالف نعروں کے عینی شاہدتھے۔ انہوں نے بتایا کہ سنٹرل لیباریٹری میں متعلقہ نیوز چیانلوں کے کیمروں، اسٹوریج کارڈ اور دیگر آلات کا تجزیہ کیا جارہا ہے اور توقع ہے کہ اندرون ایک ہفتہ رپورٹ آجائے گی۔ تحقیقات سے وابستہ ایک عہدیدار نے بتایا کہ افضل گرو برسی کے موقع پر جن لوگوں نے مخالف ہند نعرے بلند کئے تھے ویڈیو رپورٹ کی بنیاد پر ان کی شناخت کرلی گئی ہے۔ قبل ازیں حکومت دہلی سے متنازعہ جے این یو واقعہ کی ویڈیو کلپنگ کی فارنسک تحقیقات کا حکم دیا تھا جس میں 2 ویڈیو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی تصدیق کی گئی تھی اور ان لوگوں کی آواز بھی شامل کی گئی تھی جو کہ اسوقت وہاں پر موجود نہیں تھے۔7کلپس کے ایک سیٹ(Set) کو حکومت دہلی نے حیدرآباد میں واقع تروتھ لیب روانہ کیا تھا جس میں 2کلپس میں تبدیلی اور دیگر کو حقیقی ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ پر حملہ آور افضل گرو کی پھانسی کے خلاف جے این یو کیمپس میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا جس کے دوران ہند مخالف نعرے بلند کئے گئے تھے اور پولیس نے ملک سے بغاوت اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت کیس درج کیا تھا۔ بعد ازاں جے این یو طلباء یونین صدر کنہیا کمار اور دیگر طلباء عمر خالد اور نرین بھٹا چاریہ کو جیل بھیج دیا گیا تھا جو کہ فی الحال ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT