Friday , September 22 2017
Home / اداریہ / جے این یو کا تنازعہ

جے این یو کا تنازعہ

گفتار کا وہ غازی تو بنا
کردار کا غازی بن نہ سکا
جے این یو کا تنازعہ
جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پیدا شدہ تنازعہ دن بہ دن شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ قوم دشمن نعرے لگانے کے الزامات اور گرفتاریوں کے بعد کنہیا کمار کی رہائی عمل میں آئی اور اب دو طلباء عمر خالد اور انیربن بھٹا چاریہ کو 6 ماہ کی ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ اس تنازعہ میں جملہ 10 افراد کو ملوث بتایا جارہا ہے۔ 9 فبروری 2013ء کو تہاڑ جیل میں 2001ء کے پارلیمنٹ پر حملہ کیس میں سزاء یافتہ افضل گرو کو پھانسی دی گئی تھی۔ اس کے بعد 3 سال بعد جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں 9 فبروری کو ہی ایک جلسہ منعقد ہوا۔ جلسہ میں شریک طلباء کو یہ کہہ کر نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے افضل گرو کے حق میں نعرے لگائے ۔ ہندوستان کے ٹکڑے ہونے کی دھمکی دی۔ کنہیا کمار نے ایسے نعرے لگانے کی پرزور تردید کی ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں چونکہ آر ایس ایس، بی جے پی سرپرستی والی طلباء تنظیم اے بی وی پی کو یونیورسٹی انتخابات میں شکست ہوئی تھی، اس لئے منتخب طلباء قائدین کی ہر حرکت پر نظر رکھ کر ان کی مخالفت کرنے لگی۔ وائس چانسلر سے شکایت کی گئی تھی کہ طلباء کو کیمپس میں جلسہ منعقد کرنے  نہ دیا جائے دراصل یہ کلچرل پروگرام تھا۔ یونیورسٹی حکام نے اس کو دی گئی اجازت کو منسوخ بھی کرلیا تھا لیکن کیمپس میں قوم دشمنی کے نعروں کی افواہ پھیلا کر جن سیاسی طاقتوں نے اپنا کھیل رچایا ہے اس کا طلباء برادری کے تعلیمی مستقبل پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ مشرقی دہلی کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ مہیش گری نے دیگر اے بی وی پی ارکان کے ساتھ مل کر جواہر لال نہرو یونیورسٹی کلچرل پروگرام کرنے والوں کے خلاف شکایت درج کروائی۔ ڈی سی پی پریم ناتھ سے ملاقات کرنے والے بی جے پی ایم پی نے یونیورسٹی کیمپس کے واقعہ کو ملک دشمن اور غیردستوری قرار دیا۔ اس کے بعد جو کچھ سیاسی و قانونی کارروائیاں ہوئی ہیں، اس تماشا کا اسکرپٹ کسی اور جگہ تیار کیا جاچکا تھا۔ 27 سالہ عمر خالد کو خاص نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے کا الزام عائد کیا گیا۔ مخالف اے بی وی پی طلباء کو غدار قرار دے کر حکومت اور قانون نے جن اشاروں پر عمل کیا ہے اس کے اثرات یونیورسٹیوں میں کام کررہی طلباء تنظیموں پر گہرے مرتب ہوں گے۔ طلباء برادری میں امتیاز پیدا کرتے ہوئے سیاسی طاقت نے ہندوستان کے مستقبل کو ایک غلط سمت دکھانے کی کوشش کی ہے۔ انسانی زندگی میں شیطان تو ویسے ہی بدنام ہے لیکن جب کوئی طاقت شیطان کی حامی بن جائے تو مسائل کا انبار لگ جاتا ہے۔ یہ طاقت اور اس سے وابستہ ہر فرد انسانی حیات کو درپیش چیلنجس سے اپنی ذات کو علحدہ کرکے صرف اپنی خوشیوں اور اپنے خیالات کے حصول کیلئے کوشاں ہوجائے تو انسانیت کی اجتماعی خیر اور معاشرے کی بقاء خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس قائدین اور طلباء برادری نے بھی مفادات حاصلہ، سیاسی طاقتوں کی ایک چلنے نہ دینے کی کوشش کی نتیجتاً کنہیا کمار، عمر خالد اور انیربن بھٹا چاریہ جیسے طلباء کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے کردیا گیا۔ مختلف سنگین الزامات عائد کئے گئے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی اس واقعہ کے حوالے سے ساری دنیا میں موضوع بحث بن گئی ہے۔ دنیا کا ہر حساس فرد طلباء کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور سیاسی ہتھکنڈوں کا شکار لوگوں سے ہمدردی ظاہر کررہا ہے۔ یونیورسٹی میں پیدا کئے گئے حالات کی نزاکت کا حکمراں طبقہ کو احساس ہی نہیں ہے تو وہ طلباء کے معاملوں کو ترجیح دینے کا اہل نہیں ہوگا۔ یہ امر مسلمہ ہیکہ طلباء برادری کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ کنہیا کمار یا اس کی طرح دیگر طلباء کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کرکے حکمراں طبقہ اپنا قیمتی وقت ضائع کررہا ہے۔ نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ذمہ داری نبھانے کے بجائے طلباء برادری کا عرصہ حیات تنگ کرکے انہیں مشکوک بنانے کی کوشش بدبختی کے سواء کچھ نہیں کہلائے گی۔ ہندوستان میں اچھے دن لانے کے ساتھ اچھی حکمرانی کے تصور کو بھی عملی شکل دینے کا وعدہ فراموش کردیا گیا۔
ورلڈ صوفی فورم
نئی دہلی میں منعقدہ ورلڈ صوفی فورم کے افتتاح کے موقع پر دنیا بھر سے آنے والے مختلف نمائندہ شخصیتوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے سچائی اور حق گوئی کا برجستہ اظہار کیا۔ اسلام کے پیام امن اور بھائی چارہ کی ستائش کی۔ دنیا بھر میں صوفی ازم کی خدمات کو عظیم تر خدمات میں سے ایک قرار دیا۔ اس کانفرنس میں دہشت گردی کے موضوع پر سب سے زیادہ توجہ دی گئی۔ نریندر مودی کی تقریر اور ان کی سابق شبیہہ کے درمیان ایک طویل خط فاصل نظر آرہا تھا۔ تاہم انہوں نے بحیثیت وزیراعظم عالمی فورم کے سامنے اپنے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کرنے میں دیانتداری کا مظاہرہ کیا ہے تو یہ امن و بھائی چارہ کے پیام کو عام کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ ہندوستان میں ایک ایسے وقت جب مرکزی حکومت کی نظریاتی پالیسیوں اور ہندوتوا سرگرمیوں سے ایک نازک ماحول فروغ پا رہا ہے تو ایسے میں صوفی ازم کے پلیٹ فارم سے اسلام کے پیام امن کو تسلیم کرنا بڑی اہم تبدیلی ہے۔ مودی نے اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ اللہ تو رحمن بھی ہے اور رحیم بھی۔ جو لوگ مذہب کے نام پر دہشت گردی کرتے ہیں ان کا کسی بھی مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی مذہب کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ یہ انسانی اقدار اور انسانیت سوز قوتوں کے درمیان جدوجہد ہے۔ بلاشبہ مودی کی تقریر کے الفاظ ہندوستانی معاشرہ کو مذہب اور دہشت گردی کے عنوان سے مضطرب کرنے والے واقعات کو روکنے میں معاون ثابت ہوں تو یہ نمایاں تبدیلی ہوگئی۔ وزیراعظم نے ہندوستانی مسلمانوں کی اپنے وطن کے ساتھ محبت کے جذبہ کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ ہندوستانی مسلمان حب الوطنی سے سرشار ہیں اور وہ ہندوستان میں اسلامی ورثے کے اقدار کی تشکیل نو بھی کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ہندوستانی مسلمان دہشت گردی اور انتہاء پسندی کی حامل طاقتوں کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ سرزمین ہند پر بزرگان دین کی خدمات اور انسانی اقدار کو فروغ دینے میں اولیاء کرام کی تعلیمات کے باعث ہی لاکھوں شہریوں نے مذہب کی بنیاد پر معاشرہ میں انتشاری نظریہ کو مسترد کردیا ہے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی  ؒ محبوب الہٰی ؒ اور دیگر اولیاء کرام کی تعلیمات کا بھی انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے صوفی ازم کے پیام کی عالمی افادیت کو اجاگر کیا۔

TOPPOPULARRECENT