Wednesday , July 26 2017
Home / شہر کی خبریں / جے این یو کے طالب علم نجیب احمد کو ڈھونڈنے میں ناکامی پر سخت احتجاج

جے این یو کے طالب علم نجیب احمد کو ڈھونڈنے میں ناکامی پر سخت احتجاج

مسئلہ کو قومی اقلیتی کمیشن سے رجوع کرنے کا فیصلہ، صدر ایس آئی او برادر لئیق احمد خان کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 11 فبروری (سیاست نیوز) اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او) تلنگانہ نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی کے لاپتہ طالب علم نجیب احمد کو ڈھونڈنے میں حکومت، پولیس اور وائس چانسلر کی ناکامی پر سخت احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایس آئی او ماہ فبروری کو ’’ماہ مدافعت‘‘ “Month of Resestance” کے طور پر منارہی ہے۔ اس ماہ کے دوران ایس آئی او لاکھوں طلباء و نوجوانوں اور عوام سے دستخط لے گی اور اس سنگین مسئلہ کو قومی اقلیتی کمیشن سے رجوع کیا جائے گا تاکہ اپنے غم و غصہ کی ترجمانی کرسکے۔ اس مسئلہ کو اقلیتی طلباء خصوصاً مسلم طلباء پر فسطائی طاقتوں کا حملہ تصور کرتی ہے اور وہ مسلم طلباء کا یونیورسٹیز میں تحفظ کے معاملہ میں بڑی فکرمند ہے۔ پولیس کو ابتدائی دور میں اے بی وی پی کے نامزد لڑکوں سے تفتیش کرنی چاہئے تھی لیکن پولیس کی بے حسی، متعدد احتجاج، مظاہرے اور ریالیاں عوامی مطالبات کے باوجود پورا محکمہ لاتعلق نظر آتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار آج صدر ایس آئی او آف تلنگانہ برادر لئیق احمد خاں نے این ایس ایس حیدرگوڑہ میں منعقدہ پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی یونیورسٹیوں میں مسلم طلباء کا تحفظ اور ان کے ساتھ سراسر ناانصافیاں سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے اس لئے ملک گیر سطح پر لاپتہ نجیب احمد کے مسئلہ کو لیکر زوروشور سے ملک گیر سطح پر مہم چلائی جارہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چیف منسٹر تلنگانہ چندرشیکھر راؤ اور ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمان کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے جی این یو انتظامیہ پولیس اور حکومت کی توجہ مبذول کروائیں۔ قبل ازیں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے ایک طالب علم روہیت ویمولا کی موت حکومت اور یونیورسٹی کے مظالم کے باعث ہوئی تھی۔ اگر اس طرح کے حالات پیدا ہوں تو ملک میں حکومت کو عوام کے غم و غصہ اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نجیب احمد کو ڈھونڈ نکالنے خصوصی ٹیمس تشکیل دیں۔ پریس کانفرنس میں برادر یاسر علی سکریٹری حلقہ رابطہ عامہ، کلیم احمد خان اسسٹنٹ سکریٹری اور دیگر ایس آئی او کے ذمہ دار موجود تھے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT