Saturday , May 27 2017
Home / مذہبی صفحہ / حاصل کہاں دماغ کو عرفانِ فاطمہؓ

حاصل کہاں دماغ کو عرفانِ فاطمہؓ

حبیب محمد بن عبداﷲ رفیع المرغنی
حضرت سیدہ کائنات فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی ولادت باسعادت ۲۰؍ جمادی الثانی بروز جمعہ کو ہوئی اور آپ رضی اللہ عنہا کا نور مبارک درخشاں ہوگیا چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا کے نور نے مکہ معظمہ کے مکانوں کو گھیر لیا۔ گلستان احمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقبال کا شجر ثمر بار ہوگیا۔ چمن محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غنچہ دل پسند سے آراستہ ہوگیا۔ گلشن عصمت کا پھول تقدس و طہارت کے باغ میں نسیم جمال اور شمیم کمال سے پیراستہ ہوگیا، آپ رضی اللہ عنہا شمع شبستان دل سرور کونین ہیں روشنی انجمن سید ثقلین ہیں، امن کی قندیل ہیں، سرورکونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خوابوں کا چمن ہیں، آپ رضی اللہ عنہا کی سوچ کا انداز دنیا سے نرالا ہے۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’فاطمہ میری جان کا حصہ ہے پس جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا‘‘۔ (بخاری )
آپ رضی اللہ عنہا کا اسم گرامی فاطمہ ہے جس کا مطلب ہے روک لینا۔
’’حضرت جابر بن عبداللہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس سے محبت رکھنے والوں کو دوزخ سے الگ تھلگ کر دیا ہے‘‘۔
آپ رضی اللہ عنہا کا لقب بتول ہے۔ بتول کا معنی قطع کرنا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا عبادت میں فنا فی اللہ، توجہ الی اللہ میں کامل اور توکل الی اللہ کے اس مقام پر تھیں کہ دنیا کی ہر خواہش اور ہر رغبت سے کٹ کر صرف اللہ تعالیٰ کی ہوگئی تھیں۔ سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا کا تعلق کاملاً اللہ کی طرف تھا۔ جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہا کا دل ہر چاہت اور محبت سے خالی ہوگیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا کی اس شان استغناء اور شان روحانیت کے باعث آپ رضی اللہ عنہا کو لقب ’’بتول‘‘ عطا کیا گیا۔
آپ رضی اللہ عنہا کے نام کا تیسرا حصہ ’’زہراء ‘‘ہے جو پھول کو کہتے ہیں کیونکہ آپ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باغ کا پھول ہیں۔ بلکہ حقیقت میں گلشن مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے سب پھول اسی گلشن سے کِھلے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ میرے درخت نبوت کی ٹہنی ہے اور ٹہنی پر لگے دو پھل حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ہیں۔
شجر مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پھل کا ذائقہ کسی کو چکھنا ہو تو وہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما میں چکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جو فاطمہ کو اذیت دیتا ہے وہ مجھے اذیت دیتا ہے‘‘۔ (فضائل الصحابہ) اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : ’’میرے سارے خانوادہ میں مجھے سب سے محبوب فاطمہ ہے‘‘۔ (ترمذی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’قیامت کا دن ہوگا اہل محشر کا حساب و کتاب ہو رہا ہوگا۔ رب ذوالجلال کرسی عدل پر جلوہ افروز ہوگا۔ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرسی شفاعت اور مقام محمود پر جلوہ افروز ہوں گے۔ ساری دنیا نفسا نفسی کے عالم میں اپنے حساب و کتاب میں مصروف ہوگی کہ اچانک عرش کی گہرائیوں سے ایک آواز آئے گی جس آواز کو جملہ اہل عرش سنیں گے۔ فرشتہ، عرش کے پردوں کے پیچھے سے ندا دے گا کہ اے اہل محشر! اپنی آنکھیں، گردنیں اور سر جھکالو۔ ابھی فاطمہ بنت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہونے والا ہے اور اس وقت تک آنکھیں جھکائے رکھو جب تک فاطمہ رضی اللہ عنہا محشر سے گزر کر جنت میں نہ چلی جائیں۔ پھر حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا دو سبز چادریں اوڑھ کر محشر سے گزر جائیں گی‘‘۔ (حاکم، المستدرک)
سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا کے بارے میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا :’’فاطمہ اہل جنت کی عورتوں کی سردار ہے‘‘۔ جن کی آمد پر محشر کو نگاہیں جھکانے کا حکم ہے خدا کی عزت کی قسم! وہ سیدۂ قیامت بھی ہیں وہ سیدۂ اہل محشر بھی ہیں۔(ترمذی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ’’کیا تمہیں اس بات پر خوشی نہیں کہ تم اہل جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہو اور تمہارے دونوں بیٹے جنت کے تمام جوانوں کے سردار ہیں‘‘۔

آپ رضی اللہ عنہا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ جس گھر سے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج پر لے جایا گیا اس شب سیدہ عالم رضی اللہ عنہا بھی آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ آپ ؓکی عمر مبارک نو سال تھی۔ اس سے پہلے حضرت جبرائیل علیہ السلام جب بھی آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوتے تو دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد فوراً اندر آتے مگر چونکہ اس شب حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھیں اس لئے وہ باہر کھڑے رہے۔ سیدۂ کائنات علیہا السلام باہر تشریف لاتی ہیں تو جمال اور جلال کے پیکر جبرائیل امین علیہ السلام کو انسانی شکل میں دیکھتی ہیں اور پوچھتی ہیں آپ کو کس سے ملنا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں ’’میں حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنا چاہتا ہوں‘‘۔ آپ رضی اللہ عنہا اندر تشریف لے جاتی ہیں اور آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حلیہ بتاتی ہیں پھر آقا         علیہ الصلوۃوالسلام نے جبرائیل علیہ السلام کو اندر آنے کی اجازت دیدی۔ یہ سیدہ عالم علیہا السلام کی شان ہے کہ شب معراج حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی اجازت لے کر اندر آتے ہیں۔
اسی طرح آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنے اہل و عیال میں سے سب کے بعد جس سے گفتگو کر کے سفر پر روانہ ہوتے وہ سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ہی ہوتیں۔ (ابوداؤد)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو عادات و اطوار، سیرت و کردار، نشست و برخاست میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا۔(ترمذی)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’بے شک فاطمہ نے اپنی عصمت اور پاک دامنی کی ایسی حفاظت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اولاد پر آگ حرام کر دی ہے‘‘۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’یہ جبرائیل ہے جو مجھے یہ بتا رہے ہیں  کہ اللہ رب العزت نے فاطمہ (رضی اللہ عنہا) سے تمہاری شادی کر دی ہے اور تمہارے نکاح پر چالیس ہزار فرشتوں کو گواہ کے طور پر مجلس نکاح میں شریک کیا گیا اور شجر ہائے طوبیٰ سے فرمایا ان پر موتی اور یاقوت نچھاور کرو پھر دلکش آنکھوں والی حوریں ان موتیوں اور یاقوتوں سے تھال بھرنے لگیں۔ جنہیں تقریب نکاح میں شرکت کرنے والے فرشتے قیامت تک ایک دوسرے کو بطور تحفہ دیتے رہیں گے‘‘۔
حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے یہ عظیم اوصاف و خصائل ہی تھے کہ ان کی وفات کے بعد جب کسی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حسن معاشرت کیسا تھا تو وہ آبدیدہ ہوگئے اور فرمایا۔ فاطمہ جنت کا ایک خوشبودار پھول تھی جس کے مرجھانے کے باوجود اس کی خوشبو سے اب تک میرا دماغ معطر ہے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی زندگی میں مجھے کبھی بھی کسی شکایت کا موقع نہیں دیا۔
آقا علیہ الصلوۃوالسلام ایک دن تشریف فرما تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہا اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہا موجود تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اے میرے اللہ! بے شک تو جانتا ہے کہ یہی میرے اہل بیت ہیں لوگوں میں سب سے زیادہ باعزت ہیں، سب سے زیادہ قابل احترام ہیں۔ اے میرے اللہ! جو ان سے محبت کرے تو ان سے محبت فرما اور جو ان سے دشمنی رکھے تو ان سے دشمنی رکھ، جو ان کی مدد کرے تو ان کی مدد فرما۔ ان کو ہر قسم کے رجس سے پاکیزہ رکھ، ہر گناہ سے محفوظ فرما اور روح القدس کے ساتھ ان کی تصدیق و تائید فرما‘‘، آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے علی (رضی اللہ عنہ) ! ’’یہ فاطمہ میرے بدن کا حصہ ہے۔ میری آنکھوں کا نور ہے، میرے دل کی ٹھنڈک ہے، جسے یہ ناپسند کریں وہ مجھے ناپسند ہے۔ جس سے وہ خوش ہیں میں اس سے خوش ہوں‘‘۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT