Wednesday , August 23 2017
Home / اداریہ / حافظ سعید اور پاکستان

حافظ سعید اور پاکستان

کیوں آگ لگاتے پھرتے ہو
جب گرم ہوا سے ڈرتے ہو
حافظ سعید اور پاکستان
پاکستان کی وزارت داخلہ نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا ہے ۔ پاکستانی وزارت داخلہ نے ایک عدالتی بورڈ کے روپرو حافظ سعید کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے چار ساتھیوں کے ہمراہ جہاد کے نام پر دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔ حافظ سعید کے معاملہ میں پاکستان کی جانب سے اس طرح کی آنکھ مچولی اکثر کھیلی جاتی ہے ۔ ممبئی حملوں میں ملوث رہنے کے تعلق سے ہندوستان کی جانب سے پاکستان کو ثبوت فراہم کیا جاچکا ہے اور اس کے خلاف کارروائی کیلئے بھی بارہا نمائندگی کی گئی ہے ۔ پاکستان کی جانب سے اس معاملہ میں کسی طرح کی پیشرفت نہیں ہو رہی ہے ۔ بلکہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس معاملہ کو جتنا ممکن ہوسکتا ہے طوالت دی جا رہی ہے اور خود پاکستان کی عدالتوں میں ایسی پیروی کی جا رہی ہے جس میں کئی طرح کے جھول بھی وقفہ وقفہ سے سامنے آ رہے ہیں۔ ممبئی حملوں کے ملزمین کے خلاف وہاں کی عدالتوں میں جو مقدمات چلائے جا رہے ہیں وہ کئی بار محض التوا کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ یا تو آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کردی جاتی ہے ۔ یا پھر جج کا تبادلہ ہوجاتا ہے یا پھر تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے اس پر موثر پیروی نہیں کی جاتی ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس کے لازمی طور پر دونوں ملکوں کے مابین تعلقات پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ہندوستان چاہتا ہے کہ اس معاملہ میں پیشرفت کے بعد ہی پاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے بات چیت کی جائے اور پاکستان اس میں کسی طرح کی پیشرفت کیلئے کوئی کوشش نہیں کر رہا ہے ۔ ممبئی حملوں کے مقدمہ میں حافظ سعید کے علاوہ ذکی الرحمن لکھوی اور کچھ دوسرے تخریب کار عناصر ملزم ہیں تاہم اس مقدمہ کو اس کے منطقی انجام تک پہونچانے کیلئے وہ کوشش نہیں ہو رہی ہے جس کی امید کی جا رہی تھی ۔ اب حافظ سعید کے معاملہ میں خود حکومت پاکستان نے عدالت میں یہ واضح کیا کہ سعید جہاد کے نام پر دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کی یہ ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ حافظ سعید کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قوانین کے تحت بھی ایسی کارروائی کرے جس سے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں اس کی سنجیدگی ظاہر ہوسکے ۔
صرف بین الاقوامی دباؤ کو کم کرنے یا محض ایک تاثر دینے کیلئے حافظ سعید کو حراست میں رکھنا پاکستان کیلئے کافی نہیں ہوگا ۔ یہ بھی قیاس بے بنیاد نہیں ہوسکتا کہ پاکستانی حکومت در اصل حافظ سعید کی حفاظت کیلئے اسے حراست میں بلکہ حفاظت میں رکھی ہوئی ہے ۔ وہ خود نہیں چاہتی کہ حافظ سعید کو کوئی گزند پہونچے یا پھر اسے کوئی سزا سنائی جاسکے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اس معاملہ میں پیشرفت کو ہر ممکنہ طریقہ سے ٹالنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے ۔ عدالتوں میں مقدمات کی بسرعت سماعت کو یقینی بنانے کیلئے سرکاری سطح پر بہت کچھ اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں دیکھا گیا کہ پناما انکشافات کے معاملہ میں وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف جو مقدمہ چند ماہ قبل دائر کیا گیا تھا اس میں عدالت نے اپنی عبوری رولنگ دی ہے ۔ حافظ سعید یا ممبئی حملوں کے مقدمہ کے اندراج کو کئی برس کا وقت گذر چکا ہے اس کے باوجود اس میں نہ کوئی پیشرفت ہو رہی ہے اور نہ کوئی فیصلہ سنایا جا رہا ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس معاملہ میں نہ پاکستان کی عدلیہ سنجیدہ ہے اور نہ حکومت پاکستان چاہتی ہے کہ اس میں کوئی پیشرفت ہو۔ جو کچھ بھی کارروائی اب تک کی گئی ہے وہ صرف بین الاقوامی دباؤ کو کم کرنے کی حکمت عملی کے تحت کی گئی ہے اور اس کے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد ہونے والے نہیں ہیں۔ اس معاملہ میں جب تک سنجیدگی کے ساتھ کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اس وقت تک کسی پیشرفت کی امید کرنا فضول ہے اور یہ سنجیدگی اختیار کرنا پاکستان کیلئے بہت ضروری اور لازمی ہوگیا ہے ۔
پاکستان کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی میں سنجیدہ رویہ اختیار کرے ۔ جب وہ خود یہ اعتراف کر رہا ہے کہ حافظ سعید جہاد کے نام پر دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے تو اسے محض حراست میں رکھنے سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ۔ اس سے پاکستان کی سنجیدگی بھی مشکوک بنی ہوئی ہے ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف حافظ سعید بلکہ ایسے تمام عناصر کے خلاف قرار واقعی کارروائی کو یقینی بنائے جو جہاد کے نام پر یا دوسرے بہانوں سے دہشت گردی کو ہوا دینے میں مصروف ہیں۔ جب تک پاکستان اس تعلق سے سنجیدگی سے اختیار نہیں کرتا اس وقت تک دہشت گردی کے خلاف جدوجہد سے متعلق اس کے دعوے مشکوک ہی رہیں گے ۔ دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے خود پاکستان کو بھی نقصان ہو رہا ہے اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرنا خود پاکستان کے اپنے مفاد میں ہوگا ۔ اسے یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT