Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / حاملہ خاتون بینک میں رقم حاصل کرنے سے قاصر

حاملہ خاتون بینک میں رقم حاصل کرنے سے قاصر

تکلیف بیان کرتے ہوئے آنکھوں سے آنسو جاری ، نوٹ بندی سے قرض دار اور کرایہ دار کافی پریشان
حیدرآباد ۔ 13 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : نوٹ بندی کے بعد عوام کے مسائل میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ بینکوں اور اے ٹی ایم سے عوام کو اپنی ڈپازٹ کردہ رقم نہ ملنے سے ان کے قرضوں میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ۔ زو پارک کے روبرو قومیائے ہوئے بینک سے ایک حاملہ خاتون کو جس کا دوسرے دن آپریشن تھا رقم دینے سے انکار کردیا گیا ۔ نوٹ بندی کے 35 دن مکمل ہوچکے ہیں ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 500 اور 1000 روپئے کی نوٹوں کو منسوخ کرتے ہوئے صرف 50 دن صبر کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔ 35 دن مکمل ہونے کے باوجود کرنسی بحران میں کوئی سدھار نہیں آیا بلکہ بتدریج اس میں اضافہ ہورہا ہے ۔ زو پارک کے روبرو ایک حاملہ خاتون قومیائے بینک سے رجوع ہوئی جس کی دوسرے دن آپریشن سے ڈیلوری مقرر تھی ۔ یہ خاتون جب دو گھنٹے قطار میں ٹھہرنے کے بعد جب کاونٹر پر پہونچی تو ’نوکیاش ‘ بینک میں رقم نہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے واپس کردیا گیا ۔ جب کہ اس حاملہ خاتون نے جس دواخانے میں اس کی ڈیلوری اور آپریشن ہونے والی تھی اس کی تمام تفصیلات اور ڈاکٹر کی تصدیق شدہ مکتوب وغیرہ سب بینک حکام کے سامنے پیش کیا ۔ اس کی مجبوری کو نہ ہی بینک والوں نے سمجھا اور نہ ہی ہاسپٹل انتظامیہ نے سمجھا ہے ۔ جب کہ بینک میں خاتون کی رقم موجود ہے اور ہاسپٹل سے اس خاتون کا ماہانہ چیک اپ ہوتا ہے ۔ جب اس سلسلے میں حاملہ خاتون سے بات چیت کی گئی تو اس کے آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور ایک بات قابل نوٹ یہ ہے کہ اس خاتون کا شوہر سعودی عرب میں ہے ۔ وہ اپنے قریبی رشتہ دار دوسری خاتون کے ساتھ بینک پہونچی تھی ۔ اس خاتون نے ہم سے ہی سوال پوچھ لیا کہ کیا یہی اچھے دن ہے ؟ جس کا وزیراعظم کی جانب سے بھروسہ دلایا گیا تھا ۔ 8 نومبر سے بڑی کرنسی کو منسوخ کرنے کے بعد سے عوام پریشان ہیں روزانہ دودھ ، ترکاری اور اشیاء ضروریہ وغیرہ ابھی تک دوکانداروں نے اُدھار دیا ہے ۔ تاہم وہ بھی اُدھار دینے سے انکار کررہے ہیں کیوں کہ انہیں بھی پیسوں کی قلت کا سامنا ہے ۔ انہیں بھی بڑی دوکانات میں کچھ نہ کچھ رقم ادا کرتے ہوئے اشیاء ضروریہ حاصل کرنی پڑتی ہیں ۔ پہلی کے دو ہفتے مکمل ہوچکے ہیں مگر آج تک بھی سرکاری و خانگی ملازمین اور پنشنرس کو اپنی تنخواہ گھنٹوں قطار میں ٹھہرنے کے باوجود پوری طرح نہیں ملی ہے ۔ کرایہ دار بھی بہت پریشان ہیں کیوں کہ مکان مالک چیک لینے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی بینکوں سے طلب کے مطابق رقم نکال پارہے ہیں ۔ اے ٹی ایم سے صرف 2 ہزار روپئے دستیاب ہورہے ہیں ۔ تین دن کی تعطیلات کے بعد جب بینکس آج دوبارہ کھلے تو وہی بے ڈھنگی چال دیکھی گئی ۔ گھنٹے دو گھنٹے بعد بینکوں میں رقم ختم ہوگئی ۔ شہر کے ایک بینک میں جب بینک کی قطار میں کھڑے ایک خانگی ملازم سے نوکری پرجانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے بے دھڑک انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ بینکوں اور اے ٹی ایم کی قطار میں ٹھہرنے کی نوکری کی جارہی ہے ۔ اس طرح سماج کا ہر طبقہ پریشان ہے ۔ غیر منظم شعبہ میں خدمات انجام دینے والے مزدور بیروزگار ہوگئے ہیں یا کام کرنے پر یومیہ مکمل اجرت نہیں مل رہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT