Friday , July 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حاملہ خواتین کے لیے ’ کے سی آر کٹ ‘ اسکیم کی مقبولیت

حاملہ خواتین کے لیے ’ کے سی آر کٹ ‘ اسکیم کی مقبولیت

سرکاری دواخانوں میں حاملہ خواتین کے اندراج میں اضافہ ، نارمل زچگی کے لیے زور
حیدرآباد۔2مئی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے حاملہ خواتین کے لئے ’کے سی آر کٹ‘ اسکیم کے اعلان نے سرکاری دواخانو ں میں حاملہ خواتین کے اندراج میں اضافہ کردیا ہے ۔ریاست تلنگانہ کے سرکاری دواخانو ںمیں زچگی کے رجحان میں حالیہ برسوں کے دوران شدید گراوٹ ریکارڈ کی جاتی رہی تھی لیکن جاریہ سال کے آغاز کے ساتھ ہی سرکاری دواخانو ںمیں حاملہ خواتین کے اندراج میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔اتنا ہی نہیں بلکہ حاملہ خواتین نارمل زچگی پر زور دے رہی ہیں اور آپریشن سے انکار کر رہی ہیں جو کہ ڈاکٹرس کے لئے باعث حیرت ہے۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے حاملہ خواتین کو زچگی پر 12000 روپئے کی ادائیگی اور لڑکی تولد ہونے پر مزید ایک ہزار روپئے ادا کرنے کی اسکیم کے سبب خواتین میں شعور اجاگر ہونے لگا ہے اور خواتین اس اسکیم کے متعلق آگہی حاصل کرنے کی کوشش میں آپریشن اور نارمل زچگی کے متعلق معلومات حاصل کرنے لگے ہیں اور اب نارمل زچگی کی طرف مائل ہونے لگے ہیں ۔محکمہ صحت کے عہدیداروں کے مطابق شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں خواتین سرکاری دواخانو ںمیں اندراج کروانے لگی ہیں اور ان خواتین کو اس اسکیم سے استفادہ کی سہولت حاصل رہے گی جو سرکاری دواخانہ میں زچگی کرواتی ہیں۔اسی لئے حاملہ خواتین نہ صرف وقت پر تشخیص کے لئے دواخانہ سے رجوع ہو رہی ہیں بلکہ تجویز کردہ احتیاط پر بھی عمل آوری کر رہی ہیں۔اسی طرح شہر میں گذشتہ چند ماہ کے دوران گاندھی و نیلوفر ہاسپٹل میں حاملہ خواتین کی اموات کے واقعات پر ہوئے احتجاج کے بعد یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ریاستی حکومت کے تحت چلائے جانے والے ان دونوں دواخانو ںمیں حاملہ خواتین کی تعداد میں گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی لیکن ان واقعات کے باوجود دونوں سرکاری دواخانوں کے علاوہ دیگر سرکاری دواخانو ںاور ایریاہاسپٹلس میں حاملہ خواتین کے اندراج میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جانے لگا ہے ۔عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسکیم سے استفادہ کے ساتھ خواتین کو دوران حمل احتیاطی تدابیر کے متعلق معلومات حاصل ہونے لگی ہیں اور ان معلومات کے حصول کے ذریعہ ان میں شعور اجاگر ہونے لگا ہے جس کے سبب وہ اپنی صحت کے متعلق فکر مند رہنے کے بجائے مطمئن رہنے لگی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT