Tuesday , September 26 2017
Home / مذہبی صفحہ / حبیب سہیل بن سعید العیدروس

حبیب سہیل بن سعید العیدروس

عالم بنی ہاشم سیدنا الامام محمد بن ادریس الشافعیؓ

ہر دور میں علماء و فقہاء کی ایک بڑی جماعت شریعت اسلامیہ اور قوانین کی حفاظت اور فقہ اسلامی کی تدوین و ترویج کی ذمہ داری پر تیار ہوتی رہی اور تقریباً ۱۴سو سالہ تاریخ اسلام میں انگنت علماء و فقہاء آتے رہے جن کے علوم سے زمانوں کو سیراب کیا گیا جس کے سبب خدائی احکام آج تک سرسبز و شاداب نظر آتے ہیںاور بغیر کوئی تحریف و اضافہ کئے ان علماء نے ہر جدید سے جدید تقاضوں کو اسی قرآن اور انہی فرامین رسالت مآب ﷺ سے جوکہ تقریباً چودہ صدیوں سے چلتے آرہے ہیں نہ صرف جاننا بلکہ عوام الناس میں پیدا ہونے والے ہرشک و شبہ کاازالہ بھی فرمایا ۔ اور یہ تمام علماء علم رسالت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کے فیض یافتگان ہیں ۔ پھر ان علماء میں وہ جو حضور اکرم ﷺ کے نسبی فیض سے بھی معمور ہیں ، ان میں علمی جوہر اور اس کی فضیلت دوبالہ ہوجاتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے اسی نسبی و حسبی فیض یافتگان میں سے سرفہرست جن کا نام لیا جاتا ہے ، ان میں سے ایک امام محمد بن ادریس الشافعیؓ ہیں۔
آپ کا نام محمد، کنیت ابو عبداﷲ ہے ۔ آپ نے جدِّ اعلیٰ حضرتِ شافعؒ کی جانب نسبت کرتے ہوئے شافعی لکھا کرتے تھے ۔ آپؓ والد و والدہ دونوں کی جانب سے بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کا پدری سلسلۂ نسب یوں ہے: محمد بن ادریس بن عباس بن عثمان بن شافع بن سائب بن عبید بن عبدیزید بن ہاشم بن عبدالمطلب ہے اور مادری نسب اس طرح ہے کہ فاطمہ بنت عبداﷲ بن حسن ؓبن امام حسینؓ بن علیؓ بن ابوطالب بن عبدالمطلب ۔ نہ صرف یہ کہ امام شافعیؓ نجیب الطرفین تھے بلکہ آپ وہ خوش نصیب ہیں جن کے بارے میں حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے اپنی حیات ظاہری ہی میں پیش گوئی فرمادی تھی ۔ چنانچہ امام احمد بن حنبلؒ خود فرماتے ہیں کہ جب کبھی مجھے کسی مسئلہ میں دشواری پیش آئی تو میں اپنے آپ سے کہتا کہ اس مسئلہ کے بارے میں امام شافعیؒ کے پاس ضرور جواب ہوگا کیونکہ وہ ایک قریشی عالم ہیں اور حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا ہے کہ قریش کا ایک عالم عنقریب دنیا کو علم سے بھردے گا ۔ (امام بیہقی ، المناقب)

امام رازی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس شخص پر صادق آتی جس میں تین خصلتیں پائی جائیں : ۱) وہ قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتا ہو ، ۲) اس کا علم تمام علماء سے زیادہ و اعلیٰ ہو ، ۳) اور اس کی کثرت علمی شرق سے غرب تک تمام عالم میں پہونچ چکی ہو۔
جس شخص کے بارے میں حضور ﷺ اشارہ فرماچکے ہوں ، اور اس کے علم کی پختگی کا خود اظہار بھی کرچکے ہوں ، اس عالم کے علم و تبحّر اور عمدگی کا کیا عالم ہوگا ۔ چنانچہ حضور اکرم ﷺ کے فرامین کی صداقت کا ثبوت بنکر ۱۵۰؁ ہجری میں آپؒ فلسطین کے شہر غزہ میں تولد ہوتے ہیں۔ یہ وہ سال تھا جس میں ۲؍ شعبان المعظم کو حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ کا وصال ہوا ۔ والد ماجد کا سایہ ولادت سے قبل ہی اُٹھ چکا تھا لہذا ایامِ رضاعت کے ختم ہوتے ہی آپ کو مکہ مکرمہ لایا گیا اور سات سال کی عمر کو پہونچے ہی تھے کہ حفظ قرآن سے فارغ ہوگئے اور تقریباً دس سال کی عمر میں امام مالک کی المؤطا بھی حفظ کرلی ۔ اسی اثناء میں امام شافعیؒ نے خواب دیکھا اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا، آپؐ نے مجھ سے فرمایا کہ قریب ہوجاؤ ۔ میں آپ ﷺ سے قریب ہوا توآپؐ نے اپنا لعاب مبارک لیا اور میری زبان ، منہ اور میرے ہونٹوں پر پھیردیا اور فرمایا جاؤ اﷲ تعالیٰ تم کو برکت دے۔

اس خواب کو چند ہی دن گزرے تھے کہ آپؒ نے دوسرا خواب دیکھا اور فرمایا کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو عظمت و جلال کی حالت میں مکہ مکرمہ میں دیکھا ، آپ مسجد حرام میں امامت فرمارہے ہیں ، نماز سے فارغ ہوکر لوگوں کو تعلیم دینے لگے تو میں آپؐ سے قریب ہوگیا اور عرض کیا کہ آپؐ مجھے بھی تعلیم فرمائیں ، تو آپؐ نے اپنی آستین سے ایک میزان ( ترازو) نکال کر مجھے عطا فرمایا اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ تمہارے لئے عطیہ ہے ۔ امام شافعی ؒ نے فرمایا کہ میں نے ایک معبر کو اپنا خواب سنایا تو اس نے کہا کہ تم حضور ﷺ کی سنتِ مطہرہ کی حقیقت سے باخبر رہوگے اور دنیا میں سنتِ مطہرہ کی نشر و اشاعت میں امام ہوں گے ۔ (الاکمال )
جب امام شافعی ؒ نے زندگی کی دس بہاریں دیکھ لی تو والدہ محترمہ نے آپ کے چچا کے پاس روانہ کردیا جو مکہ مکرمہ مقیم تھے تاکہ آپؒ وہاں رہ کر علم الانساب حاصل کریں ۔ آپؒ کے چچا کی مالی حالت کمزور تھی جس کی وجہ سے آپ کو علم حاصل کرنے میں دشواریاں پیش آتی رہیں ۔ تنگدستی کا یہ حال تھا کہ لکھنے کیلئے کاغذ بھی خرید نہ سکتے تھے ۔ چنانچہ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ جب کسی عالم سے کوئی حدیث سنتا فوراً یاد کرلیتا اور ہڈیوں پر لکھ لیا کرتا اور ان ہڈیوں کو مٹکے میں بڑی احتیاط سے محفوظ کردیتا ۔ آپؒ نے کامل تین برس تک مسلم بن خالد زنجیؒ سے حدیث و فقہ کی تکمیل فرمائی ۔ امام شافعیؒ بڑی کوششوں کے بعد مدینہ منورہ پہنچے اور امام مالکؒ کے پاس حاضر ہوکر طلب علم کی خواہش ظاہر فرمائی تو امام مالکؒ نے انھیں اجازت عطا فرمائی ۔ چند ماہ امام مالکؒ کے مہمان رہے اور حدیث و فقہ اور استنباط مسائل فتویٰ اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد عراق کے شہر کوفہ پہونچے جہاں امام ابوحنیفہؒ کے دو شاگرد امام ابویوسف اور امام محمد بن حسن الشیبانی منصبِ افتاء اور محدث و مفسر کے مقام پر فائز تھے ۔ امام شافعیؒ نے ان دونوں سے علوم میں مہارت حاصل فرمائی اور خود شیخین امام شافعیؒ کی صلاحیتوں ، ذکاوت اور ذہانت اور قوت حفظ سے متاثر تھے ۔ بعد ازاں شیخین نے تکمیل علم کے ساتھ ہی آپ کو اجازت سے نوازا اور روانہ فرمایا ۔ پھر فن تاریخ ، ادب و لغت ، ہیئت و نجوم ، طب ، فراست جیسے مختلف علوم میں کمالِ مہارت حاصل فرمائی یہاں تک کہ تمام علمائے کبار نے آپ کو متفقہ طورپر امام تسلیم کرلیا ۔
آپؒ کے زہد و عبادت ، شب بیداری اور احتساب نفس کا یہ حال تھا کہ آپؒ خود فرماتے ہیں کہ بیس سال سے کبھی میں نے کوئی جھوٹی یا سچی قسم نہیں کھائی ۔ آپؒ کے ایک شاگرد عمرو بن بتاتہؒ نے کہا : میں نے تو امام شافعیؒ سے بڑھ کر کسی کو متقی و پرہیزگار نہیں پایا ۔ امام شافعیؒ کے بھانجے ابومحمد اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ میری والدہ ( یعنی امام شافعیؒ کی بہن) نے بیان کیا کہ بعض مرتبہ ہم نے ایک رات میں تیس مرتبہ امام شافعیؒ کے سامنے چراغ پیش کیا ، آپ لیٹے ہوئے غور و فکر کرتے رہتے اور پھر آواز دیتے تھے کہ چراغ لیکر آؤ ۔ پس وہ چراغ پیش کرتی تھیں اور آپؒ جو کچھ لکھنا ہوتا لکھ دیتے پھر فرماتے کہ چراغ اُٹھالو ۔ ابومحمدؒ سے پوچھا گیا کہ امامؒ چراغ کو اپنے پاس کیوں نہیں رکھ لیتے تھے تو آپ نے فرمایا :’’ تاریکی قلب کو جلا بخشتی ہے ‘‘۔ ایک مرتبہ امام شافعیؒ کا فتیان بن أبی السمع سے مباحثہ ہوا ۔ فتیان نے خلاف تہذیب گفتگو شروع کردی اور مقدمہ بازی تک نوبت پہنچی ۔ امیر مصر نے فیصلہ کیا اور فتیان کو سزا دیدی ۔ فتیان موقع کی تاک میں تھا اور ایک روز اندھیری رات میں موقع پاکر آپؒ کے سر پر ایسا گرز مارا جس کی وجہ سے سر پھٹ گیا ۔ اُدھر آپ بواسیر کی وجہ سے بیحدکمزور تھے ، پس مرض الموت شروع ہوگیا اور ۳۰ ؍ رجب ۲۰۴؁ھ جمعرات کو عصر کے وقت آپ کی طبیعت زیادہ بگڑگئی ، اس وقت امام مزنیؒ آپؒ کے پاس بیٹھے تھے اور امام شافعیؒ سے گفتگو فرمارہے تھے اور امام شافعیؒ انھیں اپنے انتقال کی خبر دے رہے تھے ۔ اس کے بعد آپؒ نے مغرب کی نماز پڑھی ۔ نماز سے فارغ ہوکر لیٹے ہی تھے کہ نزع شروع ہوگئی ۔ امام شافعیؒ نے امام مزنیؒ سے فرمایا کہ مصر میں جو مشہور عابد ہیں حضرت ادریس ؒ ان سے جاکر کہدو کہ میری مغفرت کی دعا کریںاور خود امام شافعیؒ دعاء و مناجات میں مشغول ہوگئے اور انتہائی عجز و نیاز کے ساتھ اﷲ کے حضور اپنے لئے بخشش طلب کرنے لگے ۔ پھر عشاء کا وقت ہوا ، امام نے نماز پڑھی اور بعد نماز دوبارہ دعاء میںمصروف تھے ، دعا سے فارغ ہوکر لیٹے ہی تھے کہ روحِ انور قفسِ عنصری سے آزاد ہوکر خلدِ بریں پہنچیں ۔
امام مزنیؒ نے آپؒ کو غسل دیا ۔ بعد نمازِ جمعہ سب سے پہلے حضرت سیدہ نفیسہ بنت حسن بن زید بن حسن بن علی کرم اﷲ وجہہ نے نماز پڑھی جن سے آپؒ نے علم حدیث میں استفادہ فرمایا تھا بعد میں ساری خلقت نے حضرت سری بن حکمؒ کی امامت میں نماز جنازہ پڑھی ۔ آپ کی آخری آرامگاہ مصر میں قرافتہ الصغریٰ میں واقع ہے جو آج تک مرجع خلائق ہے ۔

TOPPOPULARRECENT