Thursday , August 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / حبیب محمد بن عبداللہ رفیع المرغنی

حبیب محمد بن عبداللہ رفیع المرغنی

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھرانے کو ایک ایسا شرف حاصل ہے جو اس گھرانے کے علاوہ کسی اور مسلمان گھرانے کو حاصل نہیں ہوا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خود بھی صحابی، ان کے والد حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ بھی صحابی، آپ کے تینوں بیٹے (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اور حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ) بھی صحابی، آپ رضی اللہ عنہ کے پوتے بھی صحابی، آپکی بیٹیاں (حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت سیدہ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنات ابی بکر) بھی صحابیات اور آپ کے نواسے بھی صحابی ہوئے۔
حضرت سیدنا موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم صرف چار ایسے افراد کو جانتے ہیں جو خود بھی مشرف بہ اسلام ہوئے اور شرف صحابیت پایا اور ان کے بیٹوں نے بھی اسلام قبول کرکے شرف صحابیت حاصل کیا۔ ان چاروں کے نام یہ ہیں: ۱۔ ابوقحافہ عثمان بن عمر رضی اللہ عنہ، ۲۔ ابوبکر عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہ، ۳۔ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ، ۴۔ محمد بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ(المعجم الکبير، نسبة ابی بکر الصديق واسمه، الرقم: ۱۱)

اہل بیت پر شفقت
حضرت سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز عصر پڑھ کر باہر نکلے اور حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جو اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نہایت ہی شفقت سے انہیں اٹھاکر اپنی گردن پر بٹھالیا اور فرمایا: مجھے میرے والد کی قسم! تو میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مشابہ ہے، اپنے والد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مشابہ نہیں۔ یہ سن کر حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مسکرانے لگ گئے۔(صحيح البخاری، کتاب المناقب)
حضرت سیدنا عبدالرحمن اصبہائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا حسن بن علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جب چھوٹے سے تھے تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپؓ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے منبر پر رونق افروز تھے۔ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے چونکہ ہمیشہ منبر پر اپنے نانا جان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی کو بیٹھے دیکھا تھا اس لئے ایک نئے شخص کو دیکھ کر اپنی ننھی سوچ کے مطابق کہنے لگے: ’’آپ میرے بابا جان کی جگہ سے نیچے اترو‘‘۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ گوارا نہ فرمایا کہ شہزادہ اہل بیت کی دل شکنی ہو، لہذا آپ رضی اللہ عنہ فوراً نیچے تشریف لے آئے اور فرمایا: اے حسن رضی اللہ عنہ! تو نے سچ کہا یہ تیرے بابا جان ہی کی جگہ ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو فرط محبت سے اٹھاکر اپنی گود میں بٹھالیا۔ اس موقع پر انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ بیتے ہوئے وہ انمول ایام یاد آگئے، ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور آپ ؓ  زاروقطار رو پڑے۔(کنزالعمال، کتاب الخلافة مع الامارة)

اہل بیت سے رشتہ داری
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیات طیبہ سے لے کر اپنی وفات تک کبھی بھی اہل بیت کی خدمت میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی اہل بیت سے یہ خصوصی محبت آپ  رضی اللہ عنہ کی اولاد میں بھی منتقل ہوتی رہی اور آپ رضی اللہ عنہ نے اہل بیت سے ایک مضبوط رشتہ داری قائم فرمائی۔ جس کی تفصیل یہ ہے:
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی لاڈلی شہزادی حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ۸ بعثت نبوی، شوال المکرم میں اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ حضرت سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا یہ دونوں والدہ کی طرف سے بہنیں تھیں۔ ان کی والدہ محترمہ کا نام ’’ہند بنت عوف‘‘ ہے اور انہیں ’’خولہ بنت عوف‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یوں اس مبارک رشتے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہم زلف ہوئے۔
(الطبقات الکبریٰ، ابن سعد)
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے (یعنی حضرت اسماءؓ بنت ابی بکر کے بیٹے) حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بھتیجے بھی ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پھوپھی اور حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی دادی (یعنی حضرت سیدنا زبیر بن عوام کی والدہ) حضرت سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر، حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے داماد بھی ہیں۔ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی بیٹی حضرت سیدہ اُم الحسن رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں۔

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں جن کی والدہ حضرت سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ہیں۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد ان سے امیرالمومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے نکاح فرمایا۔ چنانچہ اس لحاظ سے حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ    رضی اللہ عنہ کے سوتیلے بیٹے ہوئے اور حضرت سیدنا امام حسن و حسین رضی اللہ عنہ آپ کے علاتی بھائی (یعنی باپ شریک بھائی) ہوئے۔
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ حضرت سیدہ شہر بانو رضی اللہ عنہا اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زوجہ دونوں آپس میں سگی بہنیں تھیں۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت سیدنا حریث بن جابر جعفی رضی اللہ عنہ نے شاہ ایران یزد جرد بن شہر یار کی دو بیٹیاں آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان میں سے بڑی بیٹی حضرت سیدہ شہر بانو رضی اللہ عنہا کانکاح اپنے بیٹے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے فرمادیا اور چھوٹی بیٹی کانکاح حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمادیا۔
(لباب الانساب والالقاب والاعقاب، ظهيرالدين ابوالحسن علی بن زيدالبيهقی )
حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی حضرت سیدہ ام فروہ ؓبنت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہے۔ جبکہ آپ رضی اللہ عنہ کے والد گرامی کا اسم مبارک حضرت سیدنا امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہے۔ یوں آپ رضی اللہ عنہ والدہ کی طرف سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور والد کی طرف سے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جاملتے ہیں۔
(شرح العقائد)
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پوتی حضرت سیدہ حفصہؓ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں۔ یوں حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اس حوالے سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے داماد محترم ہوئے۔(الطبقات الکبری لابن سعد)
اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سے اکتسابِ فیض کرتے ہوئے اپنے اقوال، اعمال اور احوال بدلنے کی توفیق عطا فرمائے اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خیرات سے ہمارے قلوب و ارواح کو منور فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

TOPPOPULARRECENT