Friday , September 22 2017
Home / اداریہ / حجاب اور داڑھی پر اعتراض

حجاب اور داڑھی پر اعتراض

حجاب سے ان کو ہے شکایت نہ  ریش سے کوئی دشمنی ہے
ہیں وہ تو اسلام سے ہی لرزاں‘ انہیں تو ہے خوف روشنی سے
حجاب اور داڑھی پر اعتراض
ہرگذرتے دن کے ساتھ ملک کے تعلیمی اداروں میں ایک مخصوص سوچ اور فکر کو لاگو کرنے کی کوششیں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ کہیں مسلمان طلبا و طالبات کو نماز ادا کرنے سے روکا جاتا ہے تو کہیں انہیں حجاب استعمال کرنے اور داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ یہ یکسر امتیازی سلوک ہے اور اس کا چلن اب عام ہوتا جا رہا ہے ۔ حالیہ عرصہ میں منگلورو میں یہ رجحان بڑھتا جارہا ہے ۔ یہاں تعلیمی اداروں میں طلبا و طالبات کو داڑھی رکھنے اور حجاب استعمال کرنے پر اعتراضات ہو رہے ہیں اور انہیں کلاسیس میں داخلہ سے روکا جا رہا ہے ۔ یہ رویہ ملک کے آئین اور دستور کے مغائر ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومتیں بھی اس سلسلہ میں محض خاموش تماشائی بنے رہنے کو ترجیح دینے لگی ہیں۔ حکومتیں تعلیمی اداروں کی خود مختاری کے حوالے دیتے ہوئے خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ آئین اور دستور کی پابندی کرنا اور ان پر عمل آوری کو یقینی بنانا حکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔ حکومتیں اس ذمہ داری سے بچ نہیں سکتیں۔ تعلیمی اداروں کو خود مختاری کے نام پر مذہبی عقائد میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور نہ انہیں اس بات کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ ملک کے آئین اور دستور کی خلاف ورزیاں کریں۔ اس طرح کے جو اعتراضات ہو رہے ہیں وہ در اصل ایک مخصوص اور فرقہ پرستانہ سوچ کا نتیجہ ہیں۔ اسی سوچ کو تعلیمی اداروں میں عام کرنے کیلئے سنگھ پریوار اور اس کی ملحقہ تنظیمیں کوشش کرتی رہی ہیں اور وہ اپنی کوششوں میں ہر وقت شدت اور تیزی پیدا کر رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں چاہتی ہیںکہ تعلیمی اداروں میں بھی فرقہ پرستی کا ماحول پیدا ہو اور یہاں بھی طلبا کے گروپس کے مابین امتیاز پر مبنی سلوک کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے سے دور کیا جائے ۔ ان تنظیموں کو انداز ہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں یکسانیت فروغ پاتی ہے یہاں طلبا برادری میں بھید بھاو اور امتیاز نہیں ہوتا اور یہی حقیقت ان تنظیموں کو ہضم نہیں ہو رہی ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس صورتحال کو بدلا جائے تاکہ انہیں اپنے عزائم اور منصوبوں کو پورا کرنے کا موقع مل سکے اور اس کیلئے وہ کسی بھی موقع کو گنوانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ تنظیمیں کسی بھی قیمت پر اپنے عزائم اور منصوبوں کو پورا کرنے کا تہیہ کرچکی ہیں۔
تعلیمی اداروں میں طلبا کے ساتھ امتیاز یا بھید بھاو کا طریقہ نا مناسب ہے اور یہ دستور ہند کے بھی مغائر ہے ۔ دستور ہند میں ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کا لباس ذیب تن کرے ۔ ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنا مذہبی تشخص برقرار رکھنے کی بھی کامل آزادی دی گئی ہے ۔ اس کے باوجود تعلیمی ادارے اپنے طور پر اپنے قوانین بنانے لگے ہیں اور یہ ایک خطرناک رجحان ہے ۔ تعلیمی ادارے اپنے حدود میں ڈسیپلن کی برقراری اور بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی کیلئے کوئی بھی اصول تیار کرسکتے ہیں لیکن یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے اصول دستور ہند میں فراہم کردہ گنجائشوں سے ٹکرانے نہ پائیں۔ آج تعلیمی ادارے اس حقیقت کو فراموش کرتے ہوئے محض اپنی متعصب ذہنیت کی وجہ سے ایسے قوانین بنا رہے ہیں جن کے نتیجہ میں دستور ہند کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ۔دستور میں جو گنجائش فراہم کی گئی ہے اور جو آزادی اور اجازت دی گئی ہے اس کو ملیا میٹ کیا جا رہا ہے ۔ حکومتیں خود بھی ایسی کوششوں کی اپنی خاموشی کے ذریعہ بالواسطہ حوصلہ افزائی کر رہی ہیں ۔ تعلیمی ادارے ضرور اس بات کے مجاز ہیں کہ وہ کسی غیر قانونی یا غیر آئینی سرگرمی کو روکیں ۔ ایسا حرکتیں کرنے والے طلبا کے خلاف کارروائی کی جائے لیکن انہیں یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنے کیمپس کے قوانین کے نام دستور ہند کی خلاف ورزی کرنے لگ جائیں اور طلبا اور طالبات کو اپنی مرضی کا لباس ذیب تن کرنے سے روکیں۔ خود ملک کے آئین اور دستور نے انہیں ایسی اجازت ہرگز نہیں دی ہے ۔
تعلیمی اداروں میں جس طرح کی سرگرمیاں چل رہی ہیں وہ تعلیم کو فروغ دینے والی سرگرمیاں ہرگز نہیں ہوسکتیں۔ ان کے نتیجہ میںسماج میں دوریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ طلبا کے گروپس ایک دوسرے سے متنفر ہوسکتے ہیں اور یہ کام تعلیمی اداروں کے احاطوں میں ہونے کا نہیںہے ۔ تعلیمی اداروں میں تو قومی یکجہتی ‘ سماجی ہم آہنگی اور ایک دوسرے سے محبت و اخوت کا درس دیا جانا چاہئے ۔ یہاں طلبا کو غیر ضروری اور متنازعہ مسائل میں الجھا نے کی بجائے ان کی اختراعی صلاحیتوں کو ابھارا جاتا ہے ۔ انہیں ملک و قوم کی ترقی میں اپنا رول ادا کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ انہیں ملک کا اچھا اور پابند قانون شہری بننے کا درس دیا جاتا ہے ۔ موجودہ حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں اپنی غفلت اور لا پرواہی کا سلسلہ ترک کریں اور نفرت پھیلانے والی سرگرمیوں کی بالواسطہ تائید کرنے کی بجائے ان کا تدارک کرنے اقدامات کریں۔

TOPPOPULARRECENT