Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / حج سبسڈی برخاست کرنے اسداویسی کی وکالت سے نیا تنازعہ

حج سبسڈی برخاست کرنے اسداویسی کی وکالت سے نیا تنازعہ

سالانہ 690 کروڑ روپئے کی حج سبسڈی کی رقم لڑکیوں کی تعلیم کیلئے مختص کرنے ٹوئٹر پر تجویز
حیدرآباد۔ 12 جنوری (سیاست نیوز) ہندوستان کے سالانہ حج کوٹہ کو 1.36 لاکھ سے بڑھاکر 1.70 لاکھ کردینے حکومت سعودی عرب کے فیصلے کے ایک دن بعد حج سبسڈی برخاست کردینے کی تجویز سے نیا تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ حج سبسڈی کی سالانہ رقم 690 کروڑ روپئے کو برخاست کرکے اس رقم کو لڑکیوں کی تعلیم کے لئے مختص کرنے مجلس کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کی وکالت نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسدالدین اویسی نے ٹوئٹر کے ذریعہ ہندوستانی حج کوٹہ میں اضافہ کرنے حکومت سعودی عرب کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا اور اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند کی جانب سے عازمین کیلئے جو حج سبسڈی دی جاتی ہے، اسے برخاست کیا جانا چاہئے۔ حکومت سعودی عرب نے ہندوستانی حج کوٹہ میں گزشتہ 29 سال میں اتنا بڑا اضافہ کرکے ایک مستحسن قدم اٹھایا ہے، مگر ہندوستان کے اندر حج اُمور کے تعلق سے حکومت ہند کے انتظامات اور سہولتوں کو موثر بنانے کی نمائندگی کرنے کے بجائے حج سبسڈی برخاست کرنے کی تجاویز پیش کرکے نئی بحث چھیڑ دینے اور مخالف مسلم سوچ رکھنے والوں کو اُکسانے کا کام کرنے والا ٹوئٹر پیغام بی جے پی حکومت کے لئے ایک مضبوط بہانہ بن سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے 2012ء میں مرکزی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ آئندہ 10 سال کے اندر حج سبسڈی کو بتدریج کم کرتے ہوئے برخاست کردے اور سبسڈی والی رقم 690 کروڑ روپئے کو تعلیم اور اقلیتی طبقہ کی سماجی ترقی کیلئے خرچ کرے۔ اسدالدین اویسی کے ٹوئٹر پیام کے بعد آج مرکزی وزارت اقلیتی اُمور نے ایک 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھے تاکہ ہر سال عازمین حج کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی سالانہ 690 کروڑ روپئے کی سبسڈی کو برخاست کرنے کا جائزہ لے سکے۔ مرکزی وزیر اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی نے مجلسی لیڈر اسدالدین اویسی کے مطالبہ اور سبسڈی پر اُٹھنے والے بے شمار سوالات کے بعد یہ کمیٹی تشکیل دی ہے اور حج سبسڈی کی رقم کو لڑکیوں کی تعلیم کیلئے مختص کرنے کی تجویز پر دوبارہ بحث چھڑ گئی ہے۔ چہارشنبہ کے دن حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے ٹوئٹر پر پیام جاری کیا تھا۔ اس دن مختار عباس نقوی نے بھی کہا کہ کسی بھی عازم کو حج سبسڈی سے فائدہ نہیں پہونچایا جائے گا۔ اس کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سالانہ حج کیلئے سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان باہمی حج معاہدہ پر دستخط کے بعد مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ این ڈی اے حکومت ہندوستانی مسلمانوں کیلئے فراہم کی جانے والی خدمات میں اضافہ کرنے کی خواہاں ہے۔ حج سبسڈی کا برطانوی دور کے دوران 1932ء سے آغاز ہوا تھا۔ 1932ء میں برطانوی قانون سازوں نے پورٹ حج کمیٹی ایکٹ وضع کی تھی جس سے حج کمیٹی کو حکومت فنڈ فراہم کرتی آرہی ہے۔ اب مسلم قیادت کی جانب سے حج سبسڈی برخاست کرنے کی وکالت سے مودی حکومت کو موقع مل گیا ہے کہ وہ حج سبسڈی کو بتدریج برخاست کرنے کا عمل شروع کرے۔

TOPPOPULARRECENT