Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / حج سبسیڈی میں اچانک تخفیف کے فیصلے کی مذمت

حج سبسیڈی میں اچانک تخفیف کے فیصلے کی مذمت

ممبئی 12اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اس سال حج 2017میں حج سبسڈی میں اچانک 200کروڑروپے کی کمی کیے جانے کو کانگریس کے سنیئر لیڈراورراجیہ سبھا ممبر حسین دلوائی نے جلدبازی میں اٹھایا گیا ایک نامناسب قدم قراردیتے ہوئے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے 2012 میں دیئے گئے اپنے ایک حکم میں سبسڈی کو 10سال میں مرحلہ وارختم کرنے کی ہدایت دی ہے ،لیکن مرکزی حکومت نے اس مرتبہ اچانک 200کروڑروپے کی تخفیف کردی ہے ۔ممبئی میں حسین دلوائی ایم پی کے دفتر سے جاری ایک اعلامیہ کے مطابق راجیہ سبھا رکن نے مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی امور کی توجہ اس اچانک تخفیف کی جانب مبذول کراتے مسئلہ اٹھایا اور ایوان کو مطلع کیا کہ عازمین حج کے لیے بحری جہاز کے تکلیف دہ سفر میں کمی کرنے اور زیادہ سے زیادہ ہندوستانی عازمین حج کو فضائی سفر کرانے کے لیے آنجہانی وزیراعظم اندرا گاندھی نے سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا تاکہ غریب ہندوستانی حجاج پر فضائی سفر کے اخراجات بھاری نہ پڑیں اور یہ سلسلہ تین دہائیوں سے جاری رہا۔انہوں نے کہا کہ 2012میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں سبسڈی کو آئندہ دس سال میں مراحلہ وارختم کرنے کا حکم دیا تھا۔واضح رہے کہ 2011میں حکومت کی جانب سے 685کروڑروپے کی سبسڈی دی جارہی تھی اور امکان تھا کہ 2022تک ہر سال 60-60کروڑروپے کی تخفیف کرنی تھی ،لیکن سابقہ اعلان کے برخلاف حکومت نے 380کروڑ میں سے اچانک ایک ساتھ 200 کروڑروپے سبسڈی میں تخفیف کردیئے ہیں۔حسین دلوائی نے کہا کہ اس اچانک فیصلے کی وجہ سے عازمین حج کو سخت مالی دشواری کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔کیونکہ اس کی وجہ سے ہوائی کرایہ میں اضافہ وہجائے گا حالانکہ ممبئی ،احمدآباد اور حیدرآباد سے سفرکرنے والے زائرین کے لیے کرایہ واجبی رہیگا۔مگر آسام ،بہاریا سری نگر سے حج کی ادائیگی کے لیے جانے والے افرادبُری طرح سے متاثر ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT