Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / حج سبسیڈی پراسداویسی۔ سنگھ پریوار میں جگل بندی باعث تشویش

حج سبسیڈی پراسداویسی۔ سنگھ پریوار میں جگل بندی باعث تشویش

صدر مجلس مسلمانوں سے معافی مانگیں

بی جے پی سے گٹھ جوڑ کرکے مسلمانوں کو نقصان پہونچانے کی کوشش ، محمد علی شبیر کا بیان

حیدرآباد /13 جنوری ( سیاست نیوز ) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے حج سبسیڈی برخواستگی کے معاملے میں سربراہ مجلس اسدالدین اویسی اور سنگھ پریوار کے درمیان جگل بندی پر تشویش کا ا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب مجلس کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوگیا ۔ سربراہ مجلس اپنی تجویز سے فوری دستبردار ہوجائیں اور مسلمانوں سے غیر مشروط معذرت خواہی کریں ۔ آج اسمبلی کے میڈیا کانفرنس ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہاکہ طویل عرصہ سے سنگھ پریوار اور بی جے پی مسلمانوں کو دی جانے والی حج سبسیڈی کو برخواست کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ مہاراشٹرا ، کرناٹک اور دیگر ریاستوں میں غیر سیکولر ووٹ حاصل کرنے اور مجلس کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کیلئے سنگھ پریوار کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس کر اسدالدین اویسی غریب مسلمانوں کا نقصان کر رہے ہیں ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے کہا کہ بی جے پی اور اسدالدین اویسی کو مسلمانو ںکو دی جانے والی حج سبسیڈی کھٹک رہی ہے لیکن چاردھام ، مناسرور اور امرناتھ یاترا کیلئے حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر اخراجات برداشت کئے جارہے ہیں ۔ سبسیڈی دی جارہی ہے اس پر مجلس اور بی جے پی کی خاموشی معنی خیز ہے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ صدر مجلس فرقہ پرستوں کی زبان میں بات کر رہے ہیں اور اسدالدین اویسی بھی وہی چاہتے ہیں جو بی جے پی اور سنگھ پریوار چاہتی ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 1.70 لاکھ عازمین کو صرف 690 کروڑ روپئے سبسیڈی دئے جانے پر واویلا مچایا جارہا ہے ۔ جبکہ بی جے پی حکومت دھاروک اور امدادی کاموں پر کروڑہا روپئے خرچ کر رہی ہے جو اسد الدین اویسی کو نظر نہیں آرہا ہے شرم کی بات ہے ۔ صدر مجلس بی جے پی اور سنگھ پریوار کے موقف کی تائید کر رہے ہیں اور حج سبسیڈی کی رقم کو لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کی سفارش کر رہے ہیں ۔جو بچکانی بات ہے ۔ اس لئے کہ مرکزی و ریاستی حکومت اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے بھاری فنڈز مختص کرتی ہیں لیکن کسی بھی سال اس کا مکمل استعمال نہیں کرتی ۔ مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کرنے میں اہم رول ادا کرنے والے محمد علی شبیر نے کہا کہ اسدالدین اویسی کے ٹوئیٹ سے انکا حقیقی چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے ۔ کانگریس کے قائد نے عوام کو یاد دلایا کہ سال 2004 میں صدر مجلس کی آمدنی صرف 8 لاکھ روپئے تھی 2008 میں بڑھ کر 35 لاکھ ہوگئی اور 2014 میں انہو ںنے اپنے انتخابی حلف نامے میں اپنی دولت 4.5 کروڑ روپئے بتائی ہے ۔ ہوسکتا ہے اسدالدین اویسی کو حج سبسیڈی کی ضرورت نہیں ہے لیکن حج سبسیڈی غریب مسلمانوں کیلئے ایک نعمت ہے ۔ حج سبسیڈی کی تاریخ دہراتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ دراصل 1932 میں انگریزوں نے حج سبسیڈی منظور کی تھی ۔ کانگریس کے قائد نے مرحوم صدر مجلس سلطان صلاح الدین اویسی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آخری سانس تک غریب مسلمانو ںکی فلاح و بہبود کیلئے کام کیا تھا لیکن ان کے بچے ( اویسی برادران ) ہر چیز کو اپنی شخصی ترقی اور سیاسی بقاء کو یقینی بنانے کیلئے استحصال کیا کرتے ہیں ۔ انہیں ملی مفادات سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات عزیز ہیں۔ جب کانگریس اقتدار میں تھی وہ کانگریس کی گود میں کھیلا کرتے تھے اور علحدہ تلنگانہ کی تحریک چلانے والی ٹی آر ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے لیکن اب اسدالدین اویسی ٹی آر ایس حکومت اور کے سی آر کے کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مسلمانوں کی ترقی اور بہبود جمہوریت میں تمام منتخبہ حکومتوں کی دستوری ذمہ داری ہے لیکن اویسی برادران اپنے شخصی و سیاسی مفادات اور بی جے پی سے قربت حاصل کرنے کیلئے مسلمانوں کے مذہبی و ملی جذبات سے کھلواڑ کر رہے ہیں ۔ جس کی وہ اور کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT